اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

(عباس اطہر)
نیا گیلپ سروے یہ ہے کہ مشرف پاکستان کی ناپسندیدہ ترین شخصیت بن گئے ہیں۔ ظاہر ہے، اس خبر کو کوئی بھی نہیں پڑھے گا اس لئے کہ اس میں کوئی خبریت نہیں ہے۔ وہ تو نہ جانے کب سے ناپسندیدہ ترین ہیں۔ اب تو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ مشرف ناقابل برداشت ترین شخص بن چکے۔ ہاں، اسی سروے میں آگے چل کر ایک خبر موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ مشرف کے بعد پاکستان کی دوسری ناپسندیدہ ترین شخصیت مولانا فضل الرحمن ہیں، تیسرے نمبر پر سروے نے دعویٰ کیا ہے کہ الطاف حسین آتے ہیں۔
پوچھا جا سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے دوسرے ناپسندیدہ ترین شخص کا اعزاز حاصل کر لیا ہے تو اس میں کیا خبریت ہے کیونکہ مشرف کی حمایت کرنے والے ہر شخص کو عوامی نفرت میں سے وافر حصہ ملتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مشرف کی حمایت پر شجاعت، محمد علی درانی، ارباب غلام رحیم سمیت اور بھی کئی بڑے بڑے نام بدنام ہو چکے ہیں، فضل الرحمٰن ان سے بڑے تو نہیں، پھر وہ نفرت کی یہ سو کلو میٹر کی ریس میں ان سب سے آگے کیوں نکل گئے، اس پر سوچیں۔یہی خبریت ہے۔
اوپر جو نام دئیے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو کھل کر مشرف کے ساتھ تھے اور اب بھی وہ کوئی مخالف نہیں ہوئے۔ لیکن حضرت مولانا کا کمال ہے کہ انہوں نے نعرہ تو مشرف کی مخالفت اور جمہوریت کی بحالی کا لگایا لیکن شروع سے لے کر آخر تک ان کی حکمت عملی مشرف کو بچانے کی ہی رہی۔ سترھویں ترمیم میں تو ان کا کردار کھلا تھا۔ انہوں نے قاضی حسین احمد کو ”ٹریپ“ کرکے ایسے وقت میں مشرف کو نہ صرف بچایا بلکہ آنے والے برسوں میں ان کے اقتدار کو آہنی تسلط سے بدلنے کا کارنامہ بھی انجام دیا جب ان کی کرسی لڑکھڑا رہی تھی اور متحدہ اپوزیشن اس پوزیشن میں آ گئی تھی کہ لڑکھڑاتی ہوئی کرسی کو اچھال کر رکھ دے۔ سترھویں ترمیم نے مشرف کو مضبوط اور اپوزیشن کو منتشر کر دیا۔ لطف یہ ہے کہ قاضی حسین احمد بعد میں اپنے اس اقدام پر شرمندہ ہوئے اور بار بار ہوئے۔ انہوں نے معافی مانگی لیکن مولانا کی ثابت قدمی (اسے ڈھٹائی سمجھنا صحیح نہیں ہو گا) ملاحظہ کیجئے کہ آج تک اس پر شرمندہ نہیں ہیں۔ ثابت قدمی کے معاملے میں ویسے بھی ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ آج بھی ان سے پوچھا جائے تو بڑے فخر سے کہتے ہیں ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں“۔
کئی کہانیاں اس دوران اڑتی رہیں اور ہر کہانی کروڑوں روپے کے گرد گھومتی تھی۔ واللہ اعلم لیکن جو بات ثابت شدہ ہے وہ یہ ہے کہ موصوف صدارتی انتخابات ہونے تک آخر تک اس بات کے قائل رہے کہ اسمبلیوں سے استعفٰی دینا چاہئے نہ اسمبلیوں سے بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ انہوں نے مشرف کو دوبارہ صدر بنوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تو کوئی راز نہیں رہا کہ مجلس عمل ایک مصنوعی اتحاد تھا اور اسے الیکشن میں جتوایا گیا تھا۔
بہرحال، فیصلہ کن دور تب شروع ہوا جب گزشتہ سال 9 مارچ کو جنرل مشرف نے چیف جسٹس کو برطرف کر دیا۔ برطرفی کے فوراً بعد ایک عوامی تحریک غیر متوقع طور پر شروع ہو گئی اور یہی وہ دور تھا جس نے عوام کی اکثریت کے سامنے پہلی مرتبہ مولانا کا صحیح روپ پیش کیا۔ مولانا نے چیف جسٹس کو مسلسل اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی بحالی کے مطالبے کو کبھی دائیں سے تو کبھی بائیں سے نشانہ بنایا۔ فیصلہ کن دور کا مزید نازک مرحلہ وہ تھا جب لندن میں نواز شریف نے اے پی سی بلائی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ بینظیر نے کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا اور وہ اتحاد ٹوٹ گیا جو میثاق جمہوریت کے وقت قائم ہوا تھا۔ اس اے پی سی میں تمام جماعتوں کا مطالبہ مشرف کے استعفٰی کا تھا لیکن مولانا کا سارا زور اس بات پر تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے مطالبے پر نظرثانی کی جائے۔
الیکشن سے پہلے ان کا حکومت سے ایک خفیہ سمجھوتہ ہوا جس کے تحت مولانا کو قومی اسمبلی میں 60 سیٹیں دلائی جانی تھیں جس کے عوض مولانا نے ”ہنگ پارلیمنٹ“ میں ”اہم“ کردار ادا کرنا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ بینظیر کی شہادت اور بعض دوسرے غیر متوقع واقعات کی وجہ سے ان کی سیٹوں کی تعداد 60 کے بجائے 6 ہو گئی یعنی صفر غائب ہو گیا اور ہنگ پارلیمنٹ میں وہ ”غیر ضروری“ قرار پائے۔ بینظیر نے تو ایسے کسی اجلاس میں بیٹھنے سے بھی انکار کر دیا تھا جس میں مولانا موجود ہوں لیکن قومی مصالحت کی ضرورت تھی کہ زرداری انہیں بھی ساتھ رکھیں۔ زرداری نے مولانا کی دلجوئی کی ہے لیکن مولانا اپنی دانست میں اسے بھی اپنا ”اہم“ کردار سمجھ رہے ہیں۔
مولانا کا سیانا پن تو ضرب المثل ہے۔ لال مسجد میں ہزاروں بچیوں کا قتل عام ہوا تو مولانا خاموش رہے۔ اس لئے کہ تنقید کی صورت میں جنرل صاحب ان کے اہم کردار کی اہمیت کم کر سکتے تھے حالانکہ یہ مدرسہ انہی کے مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے لیکن ”اہم کردار“ ادا کرنے کے شوق میں مولانا یوں بن گئے جیسے انہیں اس نام کے کسی مدرسے کے وجود کا علم ہی نہیں ہے۔ مولانا کے اس سیانے پن کی وجہ سے لال مسجد کے سانحے پر سوگوار لوگوں نے مولانا کی ستائش جن الفاظ میں کی، وہ بیان کرنا مشکل ہے، بس اندازہ ہی لگا لیں۔
مولانا آج کل جس اہم کردار میں مصروف ہیں، وہ مواخذے کی کارروائی کو روکنے کیلئے ہے۔ تازہ اطلاع کے مطابق صدر مشرف مواخذے کے ممکنہ اقدام سے بچنے کیلئے جن سیاستدانوں سے رابطے میں ہیں ان میں پیر پگاڑو، حامد ناصر چٹھہ کے علاوہ مولانا بھی شامل ہیں۔ باقی دو کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، مولانا کے بارے میں البتہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنا کردار پوری دیانتداری اور مستعدی سے ادا کریں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ مشرف کے رخصت ہونے کے بعد سب سے پہلے وہی پریس کانفرنس کریں گے کہ ”ہماری جدوجہد کامیاب ہوئی، ہم نے آمر کو بھگا دیا“۔ ممکن ہے اس وقت عدم مقبولیت کی فہرست میں ان کا نام اتنی نمایاں پوزیشن پر نہ رہے، کچھ نیچے آ جائے لیکن فی الوقت انہیں یہ اعزاز حاصل ہے جو کسی بھی مذہبی سیاسی رہنما کیلئے ایک ”ریکارڈ“ ہے۔ اس ریکارڈ کا توڑنا آسان نہیں کیونکہ مولانا جیسے نابغہ عصر سیانے کبھی کبھار ہی پیدا ہوا کرتے ہیں۔
بہرحال، مولانا کو یہ ریکارڈ اعزاز مبارک ہو۔










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier