شبیر احمد
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
(قابل اجمیری)
صاحبو! آج ہی ایک پاکستانی بزرگ کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے 16 دسمبر 1971ءکی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ خط کے ہمراہ محترم نے جنرل نیازی اور جنرل اروڑا کے درمیان انگریزی معاہدے کی کاپی بھی ارسال فرمائی ہے۔ یوں تو پورا خط اس لائق ہے کہ اسے حرف بہ حرف آپ تک پہنچایا جائے لیکن جذباتیت کی انتہا کی بنا پر شاید یہ بات مناسب نہ ہو۔ ڈھاکہ فال کو 36 برس گزر چکے لیکن ہماری قوم نے ایک سبق آج تک نہیں سیکھا جو ایک نوجوان شاعر نے کم عمری میں سیکھ لیا تھا۔ اوپر کا شعر پڑھئے۔ ہمارے ہاں آج تک بحثیں چھڑ جاتی ہیں کہ بنگلہ دیش زیڈ اے بھٹو مرحوم نے بنوایا۔ کوئی کہتا ہے جی نہیں! یہ جنرل یحیٰی خان کی عیاشی اور نااہلی کا نتیجہ تھا۔ کوئی لیفٹیننٹ جنرل ایم عبداللہ نیازی کو برا بھلا کہہ دیتا ہے کوئی شیخ مجیب الرحمن اور کوئی بھارت کو۔
لیکن صاحبو! شبیر احمد ہمیشہ کی طرح کچھ اور کہتا ہے۔ ڈھاکہ فال 16 دسمبر 1971ءکو نہیں ہوا تھا۔ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں۔ جیکب لائنز کراچی کا ماحول تھا۔ 1950ءکی دہائی میں ہمارا بچپن کھیل کود اور سکول میں مگن بے پروائی میں، بے فکری میں موج کر رہا تھا۔ جیکب لائنز کی بیرکوں کے ایک کوارٹر 74/5 میں ہم رہتے تھے۔ ہمیں یاد ہے انہی بیرکوں میں جنرل ایوب خان نے ہر بیرک کے ایک گھر میں مشرقی پاکستان کے سرکاری ملازموں کو لا بسایا تھا۔ ہر بیرک میں 9 کوارٹر ہوا کرتے تھے۔ مشرقی پاکستان ہم سے بھی زیادہ پسماندہ تھا لہٰذا وہاں پر بے روزگار تعلیم یافتہ باشندوں کو روزگار فراہم کرنے اور ان کا احساس محرومی دور کرنے کے لئے صدر ایوب خان اپنی تمام تر کوششیں کر رہے تھے۔ لیکن صاحبو! سانحہ یہ ہے کہ بالکل آج کی طرح اس دور میں بھی ”مسلماں درگور مسلمان در کتاب“ کا معاملہ تھا۔ یعنی مسلمان جو تھے وہ تو قبروں میں جا سوئے اور مسلمانی صرف قرآن کے اندر رہ گئی۔ قائداعظم کی بہترین تربیت کے باوجود ہماری قوم مساوات کا درس فراموش کر چکی تھی۔ ہمارا ہنستا کھیلتا بچپن بھی یہ دیکھ کر آنسو بہاتا تھا کہ مغربی پاکستان کے باشندے اہل بنگال کو دوسرے تیسرے درجے کے شہری سمجھتے تھے۔ قدم قدم پر ان کی توہین کرتے۔ راہ چلتے ان پر پھبتیاں کستے۔ ہمارے بھائی، ہمارے مشرقی اہل وطن خوف کی فضا میں جیتے تھے۔ اس پر ستم یہ کہ ہمارے محلے، مدرسے، مسجدیں اور میڈیا اس ظلم عظیم پر چپ سادھے ہوئے تھے۔ 1950ءمیں ایک دن ہمارے معصوم بچپن نے ہمارے 38 سالہ والد صاحب سے کہا، اے جی! بنگالی ہمارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ والد صاحب اپنے فرزند سے اتنی بڑی بات سن کر حیران تو ہوئے لیکن فرمایا، بیٹے! تم ٹھیک کہتے ہو۔ اس کے بعد انہوں نے ہمارے محلے ”مولانا“ احتشام الحق تھانوی کی جامع مسجد اور اپنے دفتر میں بنگال دوستی کی انجمن بھی تشکیل دی لیکن پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ کیوں؟
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
کاش! گزشتہ 36 برسوں میں وطن عزیز کے عوام و خواص نے کچھ سیکھا ہوتا لیکن آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔ غالباً 1970ءمیں اردو ڈائجسٹ نے ایک سلسلہ وار اداریہ شروع کیا تھا، ”ہم کہاں پڑے ہیں؟“ یہ فیصلہ آپ کیجئے کہ آج 2008ءمیں کھڑے ہیں زیادہ مناسب ہے یا پڑے ہیں؟ غالب سے ہمیں ذرا اتفاق نہیں جب انہوں نے کہا۔
یاد ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اگر غور و فکر سے جائزہ لیا جائے تو گزرا وقت مستقبل کے لئے راہنما ثابت ہو سکتا ہے۔ شبیر صاحب نجانے کبھی دانشور بنیں گے کہلائیں گے یا نہیں لیکن ایک دانشور کا قول ہے کہ ماضی میں جھانکنا اچھی بات ہے لیکن اس میں رہنا قطعی غلط۔
ڈاچی والیا موڑ مہار وے
تو لیجئے! ہم اونٹنی کی مہار، گفتگو کا موضوع بدلتے ہیں۔ خوش مزاج آدمی کو زیادہ سنجیدگی راس نہیں آتی۔ اس دوران جو مزید خطوط موصول ہوئے ہیں ان میں سے کچھ کی جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
.... جناب وکٹر مسیح مدت دراز بعد یاد فرماتے ہیں۔ لکھتے ہیں ہٹلر نہ ہوتا تو برطانوی کالونیاں آزاد نہ ہوتیں۔ ہم برصغیر کے باشندے بھی آج تک غلام ہوتے لیکن جنوبی امریکہ کی آزادی کس کی مرہونِ منت ہے؟
جواب: 18ویں صدی تک تقریباً پورا جنوبی امریکہ سپین کی سامراجی حکومت کا غلام تھا۔ نپولین کے حملوں نے سپین کو کمزور کر دیا تو جنوبی امریکہ کے ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونے لگے۔
.... محترمہ دردانہ بٹ کا سوال ہے۔ سب سے پہلی ریڈیو براڈ کاسٹ کب شروع ہوئی؟
جواب: 1920ءمیں۔
.... محترمہ نرگس اسماعیل کا سوال ہے کیا شادی کرنا ضروری ہے؟
جواب: دنیا کے بہت سے بڑے لوگوں نے اپنے مشن سے شادی کی ہے۔ جیسے ہوائی جہاز کے موجد دونوں بھائی ولبر اور اورول کہا کرتے تھے کہ انہوں نے ہوائی پرواز کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ یہاں ہم مذہب سے صرف نظر کرتے ہیں۔
.... سکندر اعظم یونان سے کتنی فوج لے کر دنیا فتح کرنے نکلا تھا؟ نواب خان
جواب: صرف 35 ہزار۔
.... سب سے زیادہ تصویریں، پینٹنگز کس نے بنائیں؟ ابراہیم دھوراجی
جواب: پیبلو پکاسو نے سب سے زیادہ تصویریں بنائیں 20 ہزار اور ہماری رائے میں اس طرح اپنا اور لوگوں کا بہت سا قیمتی وقت ضائع کیا۔
.... قرشی فیملی شکاگو سے سیر کے لئے مصر کو روانہ ہے۔ پوچھتے ہیں کہ وہاں سب سے بڑا اہرام کتنا اونچا اور کتنا پرانا ہے؟
جواب: خدا کرے آپ کا سفر بخیریت و عافیت گزرے۔ سب سے بڑا اہرام 450 فٹ اونچا اور ساڑھے چار ہزار برس پرانا ہے۔ واپسی پر ضرور خط لکھئے تاکہ ہم پوچھ سکیں۔
کہئے صاحب مزاج کیسے ہیں
کل تو اچھے تھے آج کیسے ہیں
.... محترمہ یاسمین کسی لطیفے کی فرمائش کرتی ہیں۔
جواب: سچا لطیفہ سنئے: ہماری پیاری بیٹی عائشہ جب منی سی تھی تو ایک دن بولی، امی ابو! دیکھئے میں بڑی ہو گئی ہوں۔ میرے پاﺅں زمین تک پہنچنے لگے ہیں۔
ایک لطیفہ اور سن لیجئے: کچھ قوموں کو سزا دی جا رہی تھی اور انہیں کنوﺅں میں پھینک دیا گیا تھا۔ ہر کنویں پر چوکیدار مقرر تھے تاکہ لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ صرف ایک کنویں پر کوئی چوکیدار نہ تھا۔
پوچھا گیا یہ کیوں؟ جواب ملا، یہ سب پاکستانی ہیں کوئی اوپر اٹھنے لگتا ہے تو اسے واپس نیچے کھینچ لیتے ہیں۔
.... ایک اور محترمہ فرماتی ہیں، انہیں آج تک قلق ہے کہ لاہور پہنچنے میں ذرا سی دیر ہو گئی۔ اس دوران والد صاحب کو دفنایا جا چکا تھا۔ میں ان کا منہ نہ دیکھ سکی۔
جواب: محترمہ! آپ غور فرمائیں تو یہ محض ایک جذباتی بات ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ والدین سے ان کی زندگی میں اچھا سلوک کیا جائے۔
.... مغربی ملکوں میں دہشت گردوں سے اعتراف کروانے کے لئے ظالمانہ طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ مسٹر گمنام
جواب: انہیں لگاتار پکے راگ سنانے چاہئیں۔ کیا خیال ہے؟ خدا حافظ!