اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 29 May 2008 09:45:00

فون کرتے رہنا

فون کرتے رہنا

وجاہت علی عباسی
بار بار فون کا بجنا اور ہر بار ہمارا سٹائل سے ہیلو بولتے فون اٹھانا۔ جاپانیوں نے بہت محنت سے موبائل فون بنایا پھر کئی ارب خرچ کر کے اسے ہمارے ہاتھوں تک پہنچایا لیکن ہر بار فون بجنے پر ہماری خوشی کا باعث ہوتی وہ پاکستانی فون کمپنی جو ہمیں صرف سو روپے میں پورے مہینے فون استعمال کرنے دیتی وہ بھی مفت Incoming کے ساتھ۔ فری ان کمنگ کی ہم نے عادت تو فوراً ڈال لی اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہمیں آﺅٹ گوئنگ کال کرنی ہو تو پھر پیسے کیسے بچائیں یہاں کام آئی کالر آئی ڈی اور سینڈ اینڈ کے بٹن کا قریب ہونا۔ آﺅٹ گوئنگ کال کے ملتے ہی پہلی گھنٹی پر فون بند کر دینا اور پھر جس کے فون پر گھنٹی بجی ہو اسکا فون آ جانا یار تم نے فون کیا تھا؟ اسی طرح ہم جاپانیوں کی سائنس کو پاکستانیوں کے آرٹ سے ملا کر ہم کم سے کم پیسوں میں فون استعمال کرتے۔
پھر آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے یعنی ہمارا امریکہ کا ویزا لگ گیا اور جلدی ہماری روانگی.... گھر والے، پڑوسی، دوست، انکے دوست قریب سے لے کر دور اور بہت دور دور کے رشتے داروں کو اب ہم سے ایک ہی امید اور وہ یہ کہ جاتے ہی ہم کو بھول نہیں جانا فون کرتے رہنا۔ آدھے سے زیادہ وہ لوگ جن کو ہم پاکستان میں رہتے ہوئے یاد نہیں رکھتے تھے۔ اب ہمیں وعدہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے کہ امریکہ جا کے ہم انہیں بھول نہیں جائیں گے۔ دیکھئے اگر آپ پاکستان سے چین فون کریں اور فون اٹھاتے ہی کوئی چینی بولنے لگے تو آپ یہ سوچ کر اطمینان سے فون رکھ دیں گے کہ چینی تو ہمیں آتی نہیں اور نہ ہی آنے کی ضرورت ہے لیکن امریکہ فون کریں اور دوسری طرف سے آپریٹر فون اٹھاتے ہی ”اے فار ایپل“ کرنے لگے تو بین الاقوامی سطح پر یہ بتانا کہ پاکستانی کو انگریزی نہیں آتی انتہائی شرمندگی کی بات ہو گی اس لئے نہ فون کرو نہ ہی شرمندگی کا سامنا کرو۔ امریکہ بہت دور ہے جانے سے پہلے رشتے دار آپ کو رو رو کر بتاتے ہیں اور جانے کے بعد فون نہ کر کے۔
امریکہ میں ہر بزنس کا سب سے پہلا اصول ہوتا ہے کہ گاہک ہمیشہ صحیح ہوتا ہے.... غلط.... ایک بزنس کو چھوڑ کر وہ ہے فون کارڈ کا بزنس یہاں گاہک ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ امریکہ آ کر پتہ چلا کہ پاکستان فون کرنے کے لئے زیادہ تر یہاں کالنگ کارڈ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پانچ ڈالر کا کارڈ کسی بھی دیسی دکان سے خریدیں اور پیچھے دئیے فون نمبر کو ملا کر کارڈ پر لکھی پن ڈالیں اور تیس یا چالیس منٹ پاکستان بات کیجئے۔ چلئے کال کرنے کا طریقہ تو ہم نے آسانی سے آپ کو سمجھا دیا اب اس کارڈ سے مشکل سے ملنے والی کال کی مزید مشکلات کی بات کرتے ہیں۔ ہر بار خریدنے پر اس کارڈ کا نام کیوں بدل جاتا ہے کبھی سمجھ میں نہیں آیا یعنی کبھی پاکستان زندہ باد کبھی ہیلو پاکستان، کبھی ٹاک پاکستان تو کبھی واک پاکستان۔
جو لفظ پاکستان کے ساتھ لگ سکتا تھا اس کارڈ پر لگا دیا گیا جو اس کالنگ کارڈ سے نہیں لگتا ہے وہ ہے پاکستان فون پہلی بار فون ملانے پر انگریزی میں آواز آئی کہ آپ کے پاس بات کرنے کے چالیس منٹ ہیں پھر لمبی خاموشی پھر فون ملائیں تو آواز آتی ہے اب آپ کے پاس اٹھارہ منٹ ہیں۔ یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آ پائی کہ اس دو منٹ کی خاموش نے ایسا کیا کر دیا کہ ہم سے بائیس منٹ چھین لئے گئے۔ کارڈ پر اوپر مسکراتی خاتون کی تصویر جس پر نیچے ”Call now“ لکھا تھا پر یقین کر کے دو تین بار فون ملانے پر پورا کارڈ خاموشی کی نذر ہو جاتا۔ اب اگر غلطی سے ہم دکاندار سے جا کر یہ کہہ دیں کہ یہ کارڈ نہیں چلا تو وہ ہم پہ ایسے غصہ ہوتا جیسے وہ امیگریشن آفیسر ہو اور ہمارا ویزا کئی مہینے پہلے ایکسپائر ہو چکا ہے۔ کئی سال کارڈ کی لات کھانے کے بعد آخر ہم کو ایک ایسی کمپنی مل گئی جو ہم کو پانچ سینٹ فی منٹ کال کرنے کی سہولت ہمارے گھر کے فون سے کرنے دے گی وہ بھی بغیر کسی پن کے۔ پچھلے مہینے اس پلان پر سائن اپ کرتے ہی زندگی آسان لگنے لگی۔ ہر ہفتے کئی بیکار کارڈز اور کئی ناراض رشتے داروں کا سامنا ہم کو نہیں کرنا پڑے گا۔ اب ہم اپنے ”امریکہ سے فون کروں گا“ والی باتیں پوری کر پائیں گے اور یہ کارڈ جو روز نام کام اور دام بدلتے ہیں ان کو ہم کبھی نہیں خریدیں گے یہی سب سوچتے ہی شیخ چلی کے سارے انڈے ٹوٹ گئے۔
پہلی مئی 2008ءسے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بیرون ملک سے پاکستان کال آنے کا اپرووڈ سیٹلمنٹ ریٹ سو فیصد بڑھا دیا ہے۔ ان کے حساب سے لوگ پاکستان بہت زیادہ فون کرنے لگے ہیں اور زیادہ کالز کی ٹریفک سنبھالنے کے لئے آپریٹرز کی تنخواہیں بڑھانی پڑیں گی۔ دوسرے ہر سال پچاس ملین کی کالز پاکستان چوری سے کی جاتی ہیں جسکا جرمانہ اب پاکستان ٹیلی کام ہم سے یہ ریٹ بڑھا کر وصول کرے گا۔ سنا ہے جلدی ہی یہ ریٹ ڈھائی سو فیصد بڑھ جائے گا۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے اور شاید ہمیں پھر سہارا فون کارڈز کا ہی لینا پڑے گا جو کم سے کم چالیس منٹ میں فون کالز کی امید تو دیتا ہے اگر آپ کو کسی اچھے کالنگ کارڈ کا نام پتہ ہے جس سے آجکل کال مل جاتی ہے تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔

 

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier