عالم تمام ۔۔۔۔ ظہیر الدین بٹ
گزشتہ روز کینیڈا کے وزیرخارجہ میکسم برنیئر نے ایک چھوٹی سی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے اور اپنا استعفیٰ وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کو پیش کردیا ہے جنہوں نے بلاجھجک اور دوستی کے رشتے کو الگ رکھتے ہوئے اور پارٹی کی بدنامی کو درگزر کرتے ہوئے فوری طور پر منظور کرلیا ہے۔ دراصل وزیرخارجہ کا عہدہ کسی بھی ملک کے لیے بہت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ذمہ داران سے کسی بھی قسم کی غلطی کا احتمال ناممکن ہے۔ وزیرخارجہ میکسم جو چند دن پہلے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے ہاں گئے تو ان کے پاس کچھ ایسے ضروری کاغذات بھی تھے جو کہ وزارت خارجہ سے متعلقہ تھے اور وہ غلطی سے وہیں چھوڑ آئے۔ یقینا ان سے غلطی سرزد ہوئی تھی۔ لیکن ان کی گرل فرینڈ جولی شاید ڈر گئی اور اس نے سوچا کہ شاید اس کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور وہ چونکہ ان کی سابق گرل فرینڈ تھی اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس کا وزیرخارجہ پر اعتماد بھی اٹھ چکا ہو۔ اس لیے اس نے کاغذات کو براہ راست واپس کرنے کے بجائے انہیں ایک وکیل کے ذریعے حکومت کے حوالے کیا۔ جونہی حکومت کے پاس یہ کاغذات پہنچے تو میکسم برنیئر کو معلوم ہوا کہ وہ غلطی سے یہ کاغذات بھول آئے تھے۔ انہیں احساس ہوگیا کہ ان کی ذمہ داری تھی کہ کاغذات کی حفاظت کی جاتی جو کہ وہ نہ کر سکے اس لیے انہوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا اور فوری طور پر انہوں نے وزیراعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا جو آج کل تین روزہ یورپ کے دورے پر فرانس میں موجود ہیں۔ انہوں نے بھی دیر نہیں لگائی اور غلطی کی معافی بھی نہیں دی بلکہ فوری طور پر استعفیٰ کو منظور کرلیا اور وزیرخارجہ کو فارغ کردیا۔ ہم نے اکثر یورپین‘ امریکن‘ کینیڈین اور دیگر کئی ممالک میں ایسا ہوتے دیکھا ہے کہ غلطیی کو تسلیم کرکے حکومتی عہدیدار فوراً اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی روایت ہے کہ ہمارے ملکوں میں بالکل ناپید ہے۔ ہمارے ہاں تو بڑی سے بڑی غلطی جس سے قوم اور ملک کو بھی داﺅ پر لگا دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی ڈھٹائی کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وزارتیں تو کیا ممبرشپ بھی نہیں چھوڑی جاتی بلکہ یہی نہیں ان کی حمایت میں ملک کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک ان کی سچائی بیان کی جاتی ہے اور انہیں اپنے عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے۔ کینیڈا کے وزیرخارجہ اگر کاغذ بھول جائیں تو مستعفی ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے وزیرخارجہ عورتوں سے مستی کرتے بھی پکڑے جائیں تو کچھ نہیں ہوتا۔ یہی نہیں ہمارے ملک میں کیا کیا نہیں ہوتا لیکن اپنی غلطیوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ججوں کا معاملہ ہو یا ملک کا کوئی مسئلہ ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں کہ بعدازاں خود ہی واپس لے لیے جاتے ہیں لیکن حکومتی عہدیداران پھر بھی اپنی کرسی سے چمٹے رہتے ہیں۔ نہ ہی یہ سوچتے ہیں کہ وہ حکومت میں رہنے کے قابل نہیں۔
کہتے ہیں کہ وہ انسان بڑا ہوتا ہے جو اپنی غلطی کو تسلیم کر لیتا ہے۔ نہ کہ اپنی کی گئی غلطی پر پشیمانی کے بجائے اسے صحیح ثابت کرنے کے لیے دن رات روز لگا دیتا ہے۔
ہمارے وزیر‘ وزیراعظم اور صدور ایسے کئی سینکڑوں غلط اقدامات اٹھا چکے ہیں پھر بسا اوقات خود ہی اس کو رد کرکے اسے غلط بھی کہہ دیتے ہیں لیکن پھر بھی اپنی غلطی اور کیے گئے اقدامات پر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور مزید خرابیوں کی طرف قدم بڑھائے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی سیاست کا جو حال آج کل ہے شاید پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔ ملکی سیاست میں آج کل جو سیاستدان موجود ہیں ان کے اقدامات سے یوں لگتا ہے کہ ملک اور قوم کا درد اور اس کی ترقی اور خوشحالی ایک طرف ذاتی دشمنیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہر پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ ملک پر حکومت کرے۔ ایسے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے جس کے لیے عوام زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی۔ مسائل حل کرنے کے بجائے الجھائے جا رہے ہیں۔ بجٹ جو جون میں پیش کیا جاتا ہے وہ تو اب برائے نام ہی رہ گیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو ہر روز ضمنی بجٹ آ رہا ہے۔ مہنگائی زوروں پر ہے بجلی ناپید ہے۔ آٹا‘ گھی‘ چاول‘ دال‘ سبزیاں ڈھونڈنے کے لیے ایک شخص کی فل ٹائم ضرورت ہوتی ہے۔ مشترکہ حکومت کا چند ہفتوں میں جو حال ہوا ہے وہ سبھی جانتے ہیں۔ ہر لیڈر اپنی اپنی بولی بول رہا ہے۔ کوئی صدر کو نکالنے کے چکر میں ہے تو کوئی جج بحال کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کسی کو چیف جسٹس قبول نہیں تو کوئی شریف برادران کو الیکشن سے باہر رکھنے کے چکر میں ہے۔ عوام بیچاری اپنے مسائل میں گھری ہوئی ہے اور امید کے سہارے پہلے بھی جی رہی تھی تو اب بھی جیتی رہے گی۔ آج کل کی سیاست کو دیکھ کر تو اب عوام کا سیاست اور سیاستدانوں کے وعدوں سے بھی اعتماد اٹھ گیا ہے۔
بیرونی طاقتیں ہمارے علاقے میں دندنا رہی ہیں اور ہم آپس میں لڑجھگڑ رہے ہیں۔ وہ حملوں کی تیاری میں ہیں اور ہم آپس میں دست و گریبان ہیں۔ہمارے ذمہ داران اور حکومتی عہدیداران کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ملکی اور عوام کے مفادات کے پیش نظر رکھتے ہوئے عالمی سیاست اور مسلمان مخالف اقدامات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ہم آج کہاں پر کھڑے ہیں اور ہماری اور مسلمان مخالف طاقتیں کیا کیا کر رہی ہیں کیا سوچ رہی ہیں اور آئندہ کیا کرنے والی ہیں؟ اگر ہم آج اپنی ذاتیات اور بے ڈھنگی سیاست میں ہی الجھے رہے تو دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور کسی بھی وقت ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے کان اور آنکھیں کھول کر ہر طرف نظر رکھنی ہوگی۔ جلد بازی اور ذاتی دشمنی سے کوئی فائدہ نہیں ملتا بلکہ نقصان ہی ہوتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنی غلطی کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ ہمارے سیاستدانوں‘ حکومتی اہلکاروں کو وزیرخارجہ میکسم برنیئر کے استعفے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔