اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

 
Thu, 29 May 2008 00:33:00

امریکی اقتصادی ابتری.... ایک خطرناک رجحان

امریکی اقتصادی ابتری.... ایک خطرناک رجحان
(وکیل انصاری)
میموریل ڈے ویک اینڈ (Memorial Day Weekend) کے خاتمہ کے ساتھ ہی امریکی عوام کو اندازہ ہوا کہ بش انتظامیہ کے 8 سال نے ہماری اقتصادیات کو ایک تیسری دنیا کے ملک کی طرح ناکام پالیسیوں کا حصہ بنا دیا ہے۔ پٹرول کی مہنگائی نے امریکہ کے High Ways اور Express Ways کو تقریباً سنسان کرکے رکھ دیا ہے۔ دودھ اور دوسری اجناس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، مکانات کی قیمتیں گر رہی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بش انتظامیہ ڈالر کی گرتی ہوئی قیمتوں کا اندازہ ہی نہیں کر پا رہی ہے۔
یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے؟ ہم آج انڈیا، پاکستان، مصر یا میکسیکو کی بات نہیں کررہے ہیں، جہاں قیمتوں کے اضافہ میں مخصوص کرپٹ افراد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ہم بات کررہے ہیں دنیا کی واحد سپر پاور کی جہاں ہر فیصلہ ہر پالیسی بہت سوچ سمجھ کر اختیار کی جاتی ہے۔ ہر اقتصادی پالیسی کے Indicatiors پر سخت نظر رکھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے کی اقتصادی پالیسی ناکام ہوتی نظر آئے تو فوراً اس کو تبدیل کرکے ٹھیک رخ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان تمام احتیاط کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کیسے ہوا کہ پٹرول کی قیمت 200 گنا زیادہ ہوگئی؟ ڈالر کی قیمت کو گرتے ہوئے کیوں سہارا نہیں دیا گیا؟ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اتنی گری کہ عام عوام کو Bank Crupcy کا سہارا لینا پڑا اور آج تک امید کی شمع روشن ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔
ذہنوں میں بہت سارے سوالات ہیں۔ کیا بش صاحب اور نائب صدر ڈک چینی جن کے پٹرول کمپنیوں میں شیئرز ہیں، اس مہنگائی میں منافع تلاش کررہے ہیں؟ آج تک امریکہ کے افسران نے اس دیدہ دلیری سے عوام کی کمر کو توڑ کر منافع نہیں کمایا اور نہ شاید یہ افسران اس طرح سوچ بھی سکتے ہیں مگر شک و شبہ اسی لئے ہورہا ہے کہ سعودی حکمرانوں سے پٹرول کی پیداوار کیلئے منت کرنا امریکی طریقہ کار نہیں رہا ہے۔ پھر مکانوں کی قیمتیں جس طرح زوال پذیر ہیں، اس کو سہارا دینے میں اتنی دیر کی گئی کہ اس مردہ میں جان آتے آتے دس سال لگ سکتے ہیں۔ بھول جائیے کہ مڈل ایسٹ میں کیا ہورہا ہے، بھول جائیے کہ افغانستان اور عراق میں یہ ایڈمنسٹریشن کتنی ناکام ہے، یقینی طور پر مخالف لوگوں سے جنگ آسان نہیں ہوتی ہے مگر داخلی محاذ پر یہ ناکامیاں اور مسلسل ناکامیاں ثابت کرتی ہیں کہ یہ سب کچھ سوچی سمجھی سکیم کا نتیجہ ہیں۔
آج ہر امریکی اپنی مشکلات میں اتنا گھرا ہوا ہے کہ اس کو اسکی فکر ہی نہیں ہے کہ عراق، افغانستان اور پوری دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے۔ ایران کیونکر جوہری توانائی کے بہانے ایٹم بم بنانا چاہتا ہے۔ امریکی عوام کو صرف فکر یہ ہے کہ اپنا مارگیج کیسے ادا کرے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ فیملی کا بوجھ کیسے اٹھائے، کیسے محدود آمدنی میں بجٹ بنائیں اور اس پر عمل بھی کرسکے۔ ان دو سالوں میں بش انتظامیہ نے امریکی عوام کی سوچوں کا دھارا بدل دیا ہے۔ بالکل جس طرح چار سال پہلے صدر بش انتخابات میں دہشت گردی کا ہواّ کھڑا کرکے کامیاب ہوئے تھے، اسی طرح آج بھی افغانستان، عراق، مشرق وسطیٰ اور آنے والے امریکی انتخابات پر سے توجہ ہٹا کر ہر کس و ناکس کو اتنی پریشانی میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ وہ امریکی خارجہ مسائل پر توجہ نہ دے سکے۔
کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ امریکی عوام اس قسم کی سیاست کے عادی نہیں تھے اور اب کیسے ان کو بتایا جائے کہ اخلاقی کرپشن دوسری کرپشن سے خطرناک ہوتی ہے۔ بش انتظامیہ گزشتہ 8 سالوں سے اخلاقی معیار پر اترنے سے قاصر رہی ہے۔ خود بش صاحب کا طریقہ انتخابات ہر حوالہ سے اخلاقی معیار سے گرا ہوا تھا۔
آج امریکہ کے عوام خوابِ غفلت سے جاگ رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان انتخابات کے بعد نئی انتظامیہ اقتصادی حالات پر بھرپور توجہ دیگی مگر چیزیں ٹھیک ہوتے ہوتے دو صدارتی مدتیں درکار ہونگیں اور وہ بھی اس شرط پر کہ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس کامیاب ہوتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو تیار ہوجائیں کہ 10 سال میں چین ایک سپرپاور بن کر ابھرے گا کیونکہ اب اقتصادی حالات ہی سپر پاورز کا تعین کرینگے۔
٭٭٭










 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications


sponsors: custom lanyards | rubber bracelets | custom wristbands | air purifier