|
(ملک سلیم اکبر) پرویز مشرف کے بارے میں ایک بہت ہی ”خاص“ خبر جو ہمیں ملی ہے، دروغ برگردن راوی وہ یہ ہے کہ شوکت عزیز نے اربوں ڈالر اپنے ساتھ باہر لے جاتے ہوئے اپنے بگ باس پرویز مشرف کو بھی یاد رکھا اور پرویز مشرف بھی ترکی کے نزدیک ایک خوبصورت ترین جزیرہ خرید کر اس کے مالک بن چکے ہیں اور صدارت کی کرسی چھوڑنے کے بعد پرویز مشرف وہیں عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی تیاریاں کررہے ہیں لہٰذا ترکی میں پاکستان کے سفیر کی ملازمت کی مدت میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی گئی ہے تاکہ وہاں پرویز مشرف کی شاہانہ رہائش کے بندوبست کو حتمی و آخری شکل دی جائے۔ ترکی کی حکومت کو اندرون خانہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ پرویز مشرف کی ”حفاظت“ کیلئے فول پروف انتظامات کریں لیکن جب امریکہ ہی نے شہنشاہ ایران کی طرح پرویز مشرف کو امریکہ میں ”سیاسی پناہ“ دینے سے انکار کردیا تو ترکی کو بھی ہمت پیدا ہوئی اور ترکی والوں نے کھرا سا جواب دیدیا کہ صاحب ہم تو صرف دو عدد سکیورٹی گارڈ کے علاوہ مزید سکیورٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کے بعد پرویز مشرف نے دوبارہ امریکہ کی سرکار کو وزیرستان میں امن معاہدے سے جڑے خطرات بتا بتا کر بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے کہ اگر افغانستان میں امن و امان چاہتے ہو تو اپنے پرانے نمک خوار یعنی پرویز مشرف کو پرانی ہی تنخواہ پر خدمت گزاری کا موقع دیا جائے ورنہ افغانستان میں نیٹو کی افواج کی حفاظت کی خود ہی فکر کرو اور ہاں K2 پر اسامہ بھی موجود ہے۔ ادھر آصف علی زرداری بھی نوازشریف اور صدر مشرف دونوں ہی کو بلیک میل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ گو کہ آج آصف زرداری نے دنیا کو دکھانے کی خاطر نوازشریف سے رسمی سی ملاقات کی ہے لیکن کمال منافقت سے نوازشریف کو اپنے مجوزہ آئینی پیکیج کی ایک جھلک بھی دکھانے سے محروم رکھا۔ زرداری کمال ہوشیاری کے ساتھ نوازشریف کو بلیک میل کررہے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے پی پی کا ساتھ چھوڑا تو آئینی پیکیج میں چیف جسٹس کی مدت ملازمت تین سال کردی جائے گی جس کی وجہ سے افتخار چودھری 30 جون 2008ءکو خودبخود ریٹائر ہوجائیں گے۔ اگر نوازشریف زرداری کے ساتھ رہیں تو وہ حاتم طائی کی قبر پر دو چار لاتیں مارنے کے بعد افتخار چودھری کی مدت ملازمت 5 سال کردیں گے۔ نوازشریف کو زرداری میاں یوں بھی بلیک میل کررہے ہیں کہ اس آئینی پیکیج میں دو دفعہ وزیراعظم بننے والے شخص کو تیسری بار وزیراعظم بننے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یادش بخیر! جب بی بی زندہ تھیں تو میثاق جمہوریت میں یہ شق موجود تھی کیونکہ پہلے وزیراعظم بننے کا خود محترمہ کا چانس تھا۔ ادھر زرداری پرویز مشرف کو بھی ڈبل کراس کررہے ہیں کہ خود زرداری ایک ایسے سمجھوتے کے تحت پاکستان آئے تھے جس میں پرویز مشرف کی صدارت، ان کے اختیارات اور مشرف کے قائم کردہ سیٹ اپ کو جوں کا توں تسلیم کیا گیا تھا۔ ہماری اطلاعات کے مطابق محترمہ کی زندگی میں پرویز مشرف سے زرداری نے ملاقات بھی کی تھی اور پرویز مشرف کے پراعتماد نمائندوں کے ساتھ بدنام زمانہ NRO قومی مفاہمتی آرڈیننس کی تمام تر تفصیلات بھی طے کی تھیں جب محترمہ نے وطن واپسی کے بعد بین الاقوامی ضامنوں کو دئیے گئے وعدوں کو بالائے طاق رکھ کر وعدہ خلافی کی تو اپنوں اور غیروں، جی ہاں اپنوں اور غیروں کی مشترکہ سازش کے تحت بے نظیر کو سیاسی منظرنامے سے ہٹا کر زرداری کو خودساختہ چیئرمین بننے کا موقع فراہم کیا لیکن اب زرداری تمام تر اختیارات کے ساتھ خود وزیراعظم بننے کیلئے نہ صرف پرویز مشرف بلکہ نوازشریف کو بھی ڈبل کراس کررہے ہیں اور بلیک میل بھی کررہے ہیں۔ زرداری نے پچھلے دنوں اتنی بار متضاد اعلانات کئے ہیں کہ خود پی پی پی کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ کبھی وہ صدر کے مواخذے کی بات کرتے ہیں تو وزیراعظم گیلانی مشرف کی صاف گوئی کی تعریفیں کرتے ہوئے مشرف کے ساتھ کام کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ کبھی زرداری صاحب خود فرماتے ہیں کہ عوام کا اصرار ہوا تو وہ مشرف کے ساتھ ملاقات بھی کریں گے۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ g میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ گزشتہ دنوں پاکستان سمیت دنیا بھر میں عجائب گھروں کا دن منایا گیا۔ اس دن لاہور کے عجیب گھر میں 1973ءکے متفقہ آئین کو بھی عجائب گھر کا حصہ بنا دیا گیا۔ گویا پرانی اور نادر اشیاءکے ساتھ اب لوگ عجائب گھر میں 1973ءکا آئین بھی دیکھ سکیں گے حالانکہ آئینی پیکیج کے بجائے ضرورت اس بات کی تھی کہ وزیراعظم گیلانی نے جب قومی اسمبلی کی پہلی تقریر میں ججوں کو قید سے آزاد کرنے کا حکم دیا تھا تو اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ اعلان بھی کردیتے کہ آج سے 1973ءکے بے حال آئین کو بھی بحال کردیا گیا ہے تو پھر پاکستان کے عوام کے تمام ہی مسائل خودبخود حل ہونا شروع ہوجاتے اور پرویز مشرف کا بھی آئین کی روح کے مطابق محاسبہ اور مواخذہ شروع ہوجاتا اور افواج پاکستان پرویز مشرف کا کورٹ مارشل کرنے پر مجبور ہوجاتی۔ ہماری اطلاع کے مطابق پرویز مشرف نے کابینہ کے حلف اٹھانے ہی کے دن باعزت یا بے عزت واپسی کا ارادہ کرلیا تھا لیکن زرداری صاحب نے اپنی ”ٹور“ بنانے کیلئے اور سیاست میں خود کو نمایاں کرنے کیلئے پرویز اشرف کو محفوظ راستے کی پیشکش کی جو اب خود زرداری کے بھی گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔ آخر کب عوام سے دھوکے ہونا بند ہوں گے۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد ٭٭٭
|
|