|
(اور پھر بیاں اپنا.... قمر علی عباسی) اللہ تعالیٰ جب اپنا کرم اور فضل کرتے ہیں تو انسان نمایاں ہو جاتا ہے اور جب وہ عزت دینا چاہتا ہے تو اپنی رحمت نازل کرتا ہے، اجازت دیتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے، اوصاف بیان کئے جائیں رحم اور عنایات کا ذکر کیا جائے۔ امروہہ ایک چھوٹی سی بستی ہے لیکن اللہ کی رحمت اور کرم سے وہاں کے لوگوں کو عزت و احترام اور نام ملا ہے، اس بستی میں ایک ایسا خاندان بھی ہے جو سو سال سے حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول مقبول میں مصروف ہے یہ رﺅف امروہوی اور ان کے اہلخانہ کو اعزاز حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی ثناءخوانی کےلئے منتخب کیا۔ اس خاندان میں سب ہی مثل آفتاب و ماہتاب ہیں۔ حضرت رﺅف امروہوی نے 94 سال کی عمر پائی اور 19 سال کی عمر سے اللہ تعالیٰ کی کبریائی رحمت اور کرم کا ذکر قلمبند کیا اور آخری سانس تک اسی میں مصروف رہے۔ زندگی کا ہر اعزاز حاصل کیا، ان کے کہے گئے اشعار کی تعداد کئی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حضرت رﺅف امروہوی کے کئی مجموعے شائع ہوئے، اپنے زمانے کے ہر دانشور صاحبِ علم عاشق رسول اور محب اللہ سے داد و تحسین حاصل کی، ان کے گھر کی یہ روایت تقریباً سو سال سے رہی کہ ہر جمعے کے بعد حمد و نعت کی محفل بپا ہوتی، یہ سعادت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ان کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے تین بیٹوں کو اپنے کرم سے نوازا تھا وہ بھی حمد و نعت کہنے میں مصروف رہے۔ سیفی امروہوی، ساجد امروہوی اور حامد امروہوی۔ یہ بات باعث خوشی ہے کہ حامد امروہوی کی بیگم مخفی امروہوی بھی اس میدان میں طبع آزمائی کرتی ہیں۔ پچھلے دنوں ان کے اشعار کا مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔ حامد امروہوی امریکہ کے شہر شکاگو میں رہتے ہیں اور نصف صدی سے زیادہ حمدِ باری تعالیٰ اور نعتِ رسول مقبول لکھنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ان کا شمار اردو کے ممتاز اساتذہ میں ہوتا ہے۔ کئی مجموعے شائع ہو کر قبول عام حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی تصانیف کے پھول ”خیابان ارم“ اور ”جوئے بار بخشش“ اپنے حسن کلام اور اعلیٰ طباعت کا نادر شاہکار ہیں۔ حامد امروہوی کا شمار اردو کے ان چند شعرا ءمیں ہوتا ہے جن کی زندگی کا ہر لمحہ خدا اور اس کے رسول کی تعریف اور توصیف میں بسر ہوتا ہے، برصغیر کے ایسے کم مشاعرے ہوں گے جہاں حامد امروہوی کی شرکت باعث برکت نہ ہو، ان کا کلام احترام عقیدت و محبت اور عشق میں ڈوبا ہے۔ اس زندگی پر ہزار سلام ہوں جو اللہ کےلئے وقف کی گئی ہو۔ حامد امروہوی ان لوگوں میں شامل ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے انہوں نے پچھلے سال اپنی شادی کی پچاسویں سالگرہ کا تحفہ اپنی بیگم کو ان کا مجموعہ¿ کلام چھپوا کر دیا۔ حامد امروہوی نے ایک سعادت مند بیٹے، اللہ کے نیک بندے اور عاشق رسول ہونے کا اعزاز اس طرح حاصل کیا کہ اپنے والد حضرت رﺅف امروہوی کے کلام کو یکجا کر کے انتخاب شائع کیا۔ یہ ایک ضخیم مجموعہ ہے جو پانچ سو صفحے سے زیادہ کا ہے۔ بظاہر تو یہ انتخاب ہے لیکن دراصل یہ ان کے والد کے کلام کا ایسا مجموعہ ہے جس میں تقریباً تمام ہی اشعار شامل ہیں، صاحبانِ علم کی رائے اور حضرت رﺅف امروہوی کے بارے میں مکمل معلومات۔ امروہہ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے اور پہلی بار روتا ہے تو ردیف قافیہ کا خیال رکھتا ہے یوں بھی اس بستی کے کسی شخص کو شعر و ادب سے واسطہ نہ ہو تو اس کے امروہہ پن کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس بستی میں شاعرو ادیب ان گنت ہیں۔ ایک طرح شعر و ادب کا یہ گلستاں کہلاتا ہے۔ امروہہ میں سید شاہ ولایت تشریف لائے تو وہاں کے صاحبانِ کمال اور بزرگوں نے انہیں ایک پانی سے بھرا ہوا کٹورہ بھیجا۔ اس کا مطلب تھا ”حضرت آپ کیلئے جگہ نہیں ہے“ سید شاہ ولایت نے اس کٹورے میں ایک گلاب کا پھول ڈال دیا۔ جو اپنی جگہ آپ پیدا کرتا ہے، حضرت رﺅف امروہوی بھی امروہے کے گلستانِ شعر و ادب میں گلاب کی مانند ہیں اور ان دنوں حضرت شاہ ولایت کی درگاہ کے احاطے میں سوتے ہیں اور سنگ مزار پر ان کا یہ شعر لکھا ہے یہیںسے نغمہ ہائے نعت کی لہریں سی اٹھتی ہیں رﺅف زار کی تربت سی معلوم ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنائ، اس کی کبریائی کا اقرار، اس کی قدرت کی گواہی دینے والے اس کی بخشش، رحمت، نعمت اور کرم کے متمنی ہوتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے اللہ اپنے ان بندوں پر جو اس کی تعریف و توصیف میں زندگی گزار دیتے ہیں، عنایتیں کرتا ہے۔ اے رب حضرت رﺅف امروہوی، ان کے سعادت مند بیٹے حامد امروہوی اور حمد و ثناءکرنے والے ہر انسان کے طفیل ہم پر بھی عنایات و کرم کی رحمت نازل فرما۔
|
|