|
(غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن) فی الوقت صورتحال یوں ہے کہ پاکستان کے عوام کو الیکشن کے بعد ماسوائے وزیروں کی چند جھنڈا لہراتی ہوئی موٹر کاروں اور ججوں کی بحالی کے بحران کے اور کچھ نہیں ملا۔ بلوچستان کے لوگ زیادہ خوش نصیب ثابت ہوئے ہیں کہ ان کی اسمبلی کے اراکین سوائے چند ایک کے سبھی وزیر بن گئے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ جاری ہے۔ اس صوبے کی سابقہ اسمبلی کے تو تمام اراکین وزیر بن گئے تھے اور جو وزیر نہیں بن سکے تھے وہ کسی کمیٹی کے چیئرمین بن کر وزیر کے برابر مراعات لے رہے تھے۔ بہرکیف عوام کو ان کے ووٹوں نے ابھی تک کچھ نہیں دیا۔ سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا تھا، خیال تھا کہ گندم کی نئی فصل کی آمد کے بعد صورت حال بہت بہتر ہو جائے گی لیکن تعجب ہے کہ گندم موجود ہونے کے باوجود آٹا دستیاب نہیں ہے اور مہنگا بھی ہوتا جا رہا ہے۔ گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف حکومت کے اعلانات آ رہے ہیں، دھمکیاں دی جا رہی ہیں، پکڑ دھکڑ جاری ہے لیکن بازار میں آٹا نہیں ہے۔ کاشتکاروں نے گندم روک لی ہے اور جس حد تک ممکن ہے وہ اس کا ذخیرہ کر رہے ہیں کیونکہ سب کو اندیشہ ہے کہ کوئی وقت ایسا آ سکتا ہے جب وہ زندگی کی اس لازمی ضرورت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اس طرح گندم کی فالتو فصل بھی کاشتکاروں نے گھروں میں ڈال لی ہے اور آٹے کا بحران جاری ہے بلکہ صوبہ سرحد میں تو یہ امن و امان کا مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ خریداروں کے ہجوم میں سرپھٹول بھی ہو جاتی ہے اور ٹی وی پر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سروں پر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔ گندم تو ملک میں موجود ہے مگر حکومت اسے عوام تک پہنچانے کا بندوبست نہیں کر سکی لیکن بجلی جو موجود ہی نہیں ہے اس کے بارے میں تو حکومت کے پاس معقول بہانہ موجود ہے۔ شہری زندگی میں تو پانی بھی بجلی سے ملتا ہے اس لئے شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ کے علاوہ پانی بھی پوری طرح دستیاب نہیں ہے۔ علاوہ ازیں گرانی، بے روزگاری وغیرہ تو ہے ہی جن میں ہر روز اضافہ ہو جاتا ہے اس طرح سابقہ حکومت نے عوام کے لئے جو مسائل پیدا کئے تھے وہ سب نہ صرف جوں کے توں ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ ہماری سیاسی حکومتیں ملک کا بندوبست اور نظم و نسق چلانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ یہ تمام مسائل چونکہ سابقہ فوجی حکومت نے پیدا کئے تھے اس لئے یہ تو کوئی نہیں کہتا کہ سیاسی حکومتوں سے تو فوجی حکومت ہی بہتر ہے لیکن سیاستدانوں کی ناکامی پر پوری قوم مایوس ہے۔ ملک میں ایک سیاسی اتحاد قائم ہوا تھا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان لیکن یہ بھی ناکام ہو چکا ہے اور مسلم لیگ کے وزراءوفاقی حکومت کو چھوڑ چکے ہیں اگرچہ آصف زرداری پرامید ہیں کہ وہ جلد ہی ان وزراءکو واپس لے آئیں گے لیکن جب تک ججوں کی بحالی کا مسئلہ مسلم لیگ کے اطمینان کے مطابق طے نہیں ہوتا تب تک زرداری کی اس امید کے بر آنے کا امکان بہت کم ہے۔ وکلاءنے اپنی صفیں پھر سے درست کرنی شروع کر دی ہیں۔ 12 جون سے وہ ملک بھر میں ایک لانگ مارچ کرنے والے ہیں۔ اسی تحریک کی وجہ سے چودھری اعتزاز احسن صدر پاکستان بار کونسل قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں حصہ بھی نہیں لے رہے کیونکہ ان کے مطابق وکلاءکی تحریک حکومت کے خلاف جا سکتی ہے اور وہ اگر حکومتی پارٹی کے رکن اسمبلی بن گئے تو یہ ایک تضاد ہو گا کہ ایک طرف وہ سرکاری پارٹی کے رکن ہیں دوسری طرف ان کے خلاف تحریک بھی چلا رہے ہیں۔ انہی دنوں صدر پرویز مشرف نے ایک اور داﺅ بھی کھیلا ہے اور پنجاب میں اپنا گورنر مقرر کر دیا ہے۔ گورنر یوں تو صدر ہی مقرر کرتا ہے لیکن وزیراعظم کے مشورے کے ساتھ۔ البتہ یہ مشورہ صدر کے لئے تسلیم کرنا لازمی نہیں ہوتا۔ بہرحال صدر نے ایک ایسے شخص کو گورنر مقرر کر دیا ہے جو مسلم لیگ ن کے خلاف ہے اور پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت ہے۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد میاں نوازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ صدر مشرف کی کھلی مخالفت مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری ہے۔ گورنر سلمان تاثیر جو کل تک نگران حکومت میں وزیر تھے اور صدر مشرف کے آدمی سمجھے جاتے ہیں ایک جانبدار گورنر ہیں جبکہ گورنر کو غیر جانبدار ہونا چاہئے اور یہ اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔ مسلم لیگ ن نے اس طرف نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ احتجاج بھی کیا ہے اور اس طرح گورنر اور صوبائی حکومت میں وہ تعلق دکھائی نہیں دے رہا جو آئینی طور پر ہونا چاہئے۔ اس صورتحال کو ایک خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ مثلاً اگر کل کلاں سب سے بڑے صوبے پنجاب اور صدر مشرف کے درمیان ٹھن جاتی ہے تو جیسا کہ دیکھا گیا ہے صدر مشرف کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور وہ گورنر کو حکومت توڑنے کا چکمہ دے سکتے ہیں۔ اس وقت اگرچہ یہ ممکن دکھائی نہیں دے رہا لیکن پرویز مشرف صاحب کے لئے کیا ہے جو ممکن نہیں ہے۔ ماضی میں انہوں نے ایسے حیرت انگیز اقدامات اٹھائے ہیں جو آئین، سیاسی اخلاقیات اور روایات کے بالکل برعکس تھے۔ یہ دن جو جا رہے ہیں ان میں بظاہر پرویز مشرف ایک طاقتور حکمران کے طور پر موجود ہیں اور صوبوں میں اپنے اثرات پھیلا رہے ہیں۔ سندھ میں گورنر ان کا ہے اور سندھ کی حکومت میں ایم کیو ایم کی شمولیت کی صورت میں وہ خود بڑی حد تک موجود ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا ہے پنجاب میں انہوں نے ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ صوبہ سرحد میں اے این پی کی حکومت ہے جس کی صدر مشرف کے ساتھ کوئی بڑی مخالفت نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ وفاق میں حکومتی اتحاد کی رکن ہے۔ اسی صوبہ سرحد سے مولانا فضل الرحمان ہیں جو صدر صاحب کے آدمی ہیں۔ بلوچستان میں حکومت کا ایجنڈا ابھی تک اقتدار کی تقسیم تک محدود ہے اور زرداری صاحب وہاں امن و امان قائم کرنے میں سخت مصروف ہیں۔ مختصراً عرض یہ ہے کہ 18 فروری کے الیکشن کے بعد ابھی تک کوئی نمایاں اور محسوس کی جانے والی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ قوم منتظر ہے۔
|
|