اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 29 May 2008 00:29:00

اجازت ہو تو میں تمہیں کھا لوں؟

اجازت ہو تو میں تمہیں کھا لوں؟
(گریبان.... منو بھائی)
پاکستان کے عوام یکم جولائی 2008ءسے تیل اور گیس کے نرخوں میں 28 سے 31 فیصد مزید اضافہ کو برداشت کرنے اور اس مزید اضافہ کے ردعمل کے طور پر زندگی کی تمام ضرورتوں اور سہولتوں کی مہنگائی اور نایابی میں مزید اضافے کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کے سترہ کروڑ لوگوں میں سے نصف سے زیادہ غذائی قلت کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس سروے کے تحت بتایا گیا ہے کہ خوراک کی کمی کے شکار پاکستانیوں کی تعداد مارچ 2008ءمیں چھ کروڑ تھی جو اب بڑھ کر سات کروڑ ستر لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں اضافے اور اجرتوں میں اضافے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ اجرتوں میں اضافے سے مہنگائی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ غریب آدمی کی قوت خرید میں پچاس فیصد کمی ہوئی ہے تو اجرتوں میں سو فیصد اضافہ بھی اس کی تلافی نہیں کر سکے گا۔ مارچ 2008ءکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال گندا پانی پینے کے باعث دو لاکھ بچے پیٹ اور ہاضمے کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر مر جاتے ہیں۔ دنیا کے 137 غریب ملکوں میں بچوں کی تعلیم پر خرچ ہونے والے جی ڈی پی کے تناسب کے اعتبار سے پاکستان کا تیرھواں نمبر ہے یعنی غریب ملکوں میں بھی بارہ ممالک پاکستان سے زیادہ اپنی آئندہ نسلوں کی تعلیم کا خیال رکھتے ہیں۔ یقینی بات ہے کہ 137 غریب ملکوں میں سے بہت سے ممالک پاکستان کی طرح اپنے بچوں کو گندے جوہڑوں کا پانی پینے پر مجبور نہیں کرتے ہوں گے۔
کسی ایک کالم میں ذکر کیا گیا تھا کہ اب تو ملک کے امیر، حکمران اور سرمایہ دار طبقے بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی تو ہمیں بھی چبھنے لگی ہے۔ یہ صرف ہمارے امیر، حکمران اور سرمایہ دار طبقے ہی نہیں پوری دنیا اور عالمی سرمایہ داری نظام کے چنگل میں پھنسے اور جکڑ میں آئے ہوئے ملکوں بلکہ عالمی سامراجی ملکوں کا بھی واویلا ہے کہ مستقبل تاریک ہوتا جا رہا ہے اور حالات کے غار کے سرے پر کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔ جیسا کہ ایک گزشتہ کالم میں ذکر کیا گیا تھا حالات عالمی سرمایہ داری اور سامراجی نظام چلانے والوں کے قابو سے بھی باہر ہو چکے ہیں اور دنیا کے سات ہزار کے قریب ڈالروں میں ارب پتی سرمایہ داروں کی ”سپر کلاس“ کے قابو میں نہیں رہے اور عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹ کا جواءکھیلنے والی چار پانچ ملٹی نیشنل کارپوریشنوں یا اجارہ داریوں کے قبضہ میں چلے گئے ہیں۔ WILLIAM ENGDAHL بھی اپنی کتاب ”صدی کی جنگ“ عرف ”اینگلو امریکی تیل کی سیاست اور نیو ورلڈ آرڈر“ میں بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں کم از کم ساٹھ فیصد اضافے کی ذمہ دار سٹاک مارکیٹ کا جوا ءکھیلنے والی کمپنیاں ہیں۔ جو اپنے اس جوئے کو زیادہ سے زیادہ ”نفع بخش“ بنانے کیلئے عالمی سطح پر تیل اور اناج کی مستقبل کی پیداوار اور یافت کو پیشگی خرید رہی ہیں چنانچہ اب تیل اور گیس کے نرخ مقرر کرنے کا اختیار اوپیک یا تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاس نہیں ہے وال سٹریٹ کے جواءکھیلنے والوں کے پاس ہے جوکہ جوئے کے داﺅ پر OIL FUTURES TRADING بھی لگا سکتی ہیں۔ ان کے اس جوئے کی وجہ سے ہی تیل اور گیس کے نرخوں کے مصنوعی غبارے میں اتنی ہوا بھری جا چکی ہے کہ خام تیل کے نرخ 135 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں۔
مذکورہ بالا کتاب کے مصنف نے بھی تیل اور اناج کی پیداوار کا مستقبل یا تیل اور اناج کی مستقبل کی پیداوار خرید لینے والے عالمی حواریوں میں مورگان سٹینلے MORGAN STANLAY، گولڈ مین سیکس GOLDMAN SACHS ،سٹی گروپ Citi Group اور جے پی مورگن چیز JP. MORGAN CHASE کے نام لکھے ہیں اور ان کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیا کہ جون 2006ءمیں تیل کا مستقبل خرید لینے والوں نے تیل کا فی بیرل نرخ ساٹھ ڈالر مقرر کیا تھا اور سٹاک مارکیٹ کے جوئے کے ماہرین کے مطابق اس میں کم از کم 25 ڈالرز محض جواریوں نے قیمت کو قدر میں تبدیل کرنے کے لئے ڈال دئیے تھے۔ اب یہ مصنوعی اضافہ ساٹھ فیصد سے بھی تجاوز کر چکا ہے اور یوں سرمایہ داری دنیا اور سامراجی نظام نے اپنے سب سے بڑے تضاد کو ننگا کر دیا ہے جس کی نشاندہی کارل مارکس نے دسمبر 1851ءمیں کر دی تھی اور اسے گھٹیا ترین درباری سازشوں کا مضحکہ خیز کھیل قرار دیا تھا۔ عمرانیات کے جدید ترین تجزیہ کاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ سرمایہ داری نظام کے ڈائناسورز نے ڈائناسورز کو کھانا شروع کر دیا ہے چنانچہ ان کے دنیا کے فانی سے ناپید ہو جانے میں کچھ زیادہ عرصہ نہیں رہ گیا۔ ایک کارٹون میں دکھایا گیا تھا کہ پوری دنیا میں باقی رہ جانے والی دو اجارہ داریوں میں سے ایک دوسری سے کہہ رہی میرے اندر ضم ہونا چاہتی ہو؟ یعنی اجازت ہو تو میں تمہیں کھا لوں؟








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications