اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 29 May 2008 00:27:00

کمانڈو جنرل حریفوں کے نرغے میں

کمانڈو جنرل حریفوں کے نرغے میں
دل پشوری.... ڈاکٹر ظہور احمد اعوان
صدر پرویز مشرف کے گرد سیاست دانوں کا گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا جا رہا ہے وہ اکیلا یکا و تنہا کھڑا ہے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس کی قوت کا سب سے بڑا ستون ہٹ گیا۔ پھر اس کی حامی سیاسی قوتوں کی عبرتناک شکست اور اس کی مخالف قوتوں کی واضح جیت نے اس کو بظاہر کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب اگر اسے وہ کٹہرا نظر نہیں آتا تو الگ بات ہے۔ اب اس کے مواخذے کی باتیں بھی چل رہی ہیں تاہم صدر مشرف کے مواخذے اور (ن) لیگ کے درمیان جو پارٹی کھڑی ہے وہ پیپلزپارٹی ہی ہے۔ جب آدمی اتنا کمزور و بے بس ہو جائے تو اسے از خود ہٹ جانا چاہئے۔ اب وہ اس پوزیشن میں بھی نہیں رہا کہ باعزت طور پر مستعفی ہو جائے۔ اب اس کے استعفٰی کو فرار ہی کہا جائے گا۔ دوسری طرف وہ ایک فوجی کمانڈو کا فریم آف مائنڈ رکھتا ہے جو میدان چھوڑ کر بھاگنے والے Quitters نہیں ہوتے۔ ابھی وہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں جو بے نظیر بھٹو پیپلزپارٹی اور صدر پرویز مشرف کے درمیان طے پائی تھیں۔ مگر یہ طے تھا کہ پی پی پی نے اگلے پانچ برس کے لئے صدر مشرف کو ساتھ لے کر چلنا تھا۔
بے نظیر بھٹو شہید نے تیسری بار وزیراعظم بننا تھا۔ ق لیگ اور ایم کیو ایم کے اشتراک سے پی پی پی ایک مضبوط حکومت بنا لیتی اور یہ سلسلہ چل پڑتا مگر محترمہ کی شہادت نے صدر مشرف کا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا۔ اب اسے سمجھ نہیں آرہی کہ جائے تو کدھر۔ ن لیگ اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی۔ پیپلزپارٹی حکمت عملی سے کام لے رہی ہے۔ جو اس پارٹی کو بے نظیر بھٹو کی دین ہے۔ بے نظیر بھٹو ارضی حقائق سے پوری طرح آگاہ تھی۔ وہ ان ملکوں کے کرداروں سے بھی آگاہ تھی جو بیچ میں پڑ کر ان کے مابین معاہدات کروا رہے تھے۔ جن میں امریکہ اور دوست عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب۔ پی پی پی اگر چاہتی تو این آر او کی رعایت حاصل کرنے کے بعد بے نظیر بھٹو کی شہادت کا بہانہ بنا کر ان معاہدات سے پھر سکتی تھی مگر وہ ایک سیاسی سوچ بھی رکھتی ہے اور قوت بھی ہے۔ ارضی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان نہ تیل سے مالا مال ملک ہے نہ وہ دنیا میں الگ تھلگ ہو کر زندہ رہ سکتا ہے اس لئے کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کو لے کر چلنا ہو گا۔ امریکہ کو ہزار گالیاں دی جائیں اس کے بغیر کسی ملک کا گزارہ بھی اب ممکن نہیں رہا کیونکہ اس کو واحد سپر پاور بنانے میں عرب مسلمان ملکوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ سوویت روس کو راستے سے نہ ہٹایا ہوتا تو اس وقت امریکہ و یورپ پلٹ کر مسلمان اور غریب دنیا پر حملہ آور نہ ہوتے۔ پیپلزپارٹی یہ بھی جانتی ہے کہ سعودی عرب اور دوست ممالک کی سیاسی و مالی معاونت کے بغیر بھی چلنا آسان نہیں ہے ان سے کچھ لینا ہے تو ان کو کچھ دینا بھی ہے۔ کوئی عرب اور مسلمان ملک پاکستان میں سیاسی خلفشار دیکھنے کا روادار نہیں ہے۔ اس لئے سب نے مل کر صدر مشرف اور بے نظیر کے مابین معاہدات طے کروادئیے تھے، جس کا فائدہ (ن) لیگ اور دوسری پارٹیوں کو بھی پہنچا۔ پھر پیپلزپارٹی جانتی ہے کہ بظاہر فوج غیر جانبدار ہوتی نظر آتی ہے مگر فوج یہ بھی برداشت نہیں کرے گی کہ ان کے کسی سابق کمانڈو کی توہین و تحقیر کی جائے۔ یہ طے شدہ بات ہے جنرل ایوب کو جنرل یحییٰ نے عوامی غیظ و غضب سے بچایا تو ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل یحیٰ خان کو اس لئے بچایا کہ وہ فوج کو مکمل طور پر ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ تو بیچ میں جنرل ضیاءالحق آگیا جس نے محسن کشی کی ایسی روایت قائم کی جو اس سے قبل پاکستانی سیاست و ریاست میں موجود نہ تھی۔ اس نے اپنے محسن کو پھانسی پر لٹکا کر انسانیت کی اعلیٰ اقدار کا ہی قتل عام کر دیا۔ گیارہ برس تک وہ قوم کے سینے پر مونگ دلتا رہا پھر پی پی پی برسر اقتدار آئی تو نیک بخت بے نظیر شہید نے اپنے دور اقتدار کے عہدوں میں کسی سے انتقام لیا نہ کسی کا مواخذہ کیا۔ اس نے غلام اسحاق اور سردار فاروق لغاری کو بھی بخش دیا۔ پی پی پی اس سیاسی روایت کو لے کر ایک مرتبہ پھر میدان میں اتری ہے۔ وہ اپنی ناک سے آگے بھی دیکھ سکتی ہے۔ انتخابی کامیابی کا ہنی مون صرف چند ماہ ہی چلتا ہے۔ یہ حکومت عوام کی بڑی امیدوں اور توقعات کے بعد آئی ہے۔ اب تمام سیاسی پارٹیوں نے کچھ ڈیلیور کرنا ہے اور جلد کرنا ہے ۔ ہر گزرنے والا دن ان کےلئے توقعات کے گراف کو بلند کرتا جائے گا۔ اس لئے اس وقت ساری باتوں کو چھوڑ کر عوام کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی ہے۔ فی الحال جو اعلانات کئے گئے ہیں اس سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ایک لاکھ مکانات جب بنیں گے تو اس وقت اس حکومت کا دورانیہ ختم ہو رہا ہو گا۔ بڑے ڈیم بننے شروع ہوئے تو دس پندرہ برس بعد اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ باقی رہ گئی پیمرا وغیرہ کی باتیں تو اس سے بھی غریب عوام الناس کی اکثریت کا کوئی سروکار نہیں ہے یہ چند پوٹا پر امریکی ویزہ نواز دانشوروں کا مسئلہ ہے۔ پریس کو جتنی آزادیاں اس دور میں ملی تھیں وہ کسی پچھلے دور میں نہیں ملیں، نہ مل سکیں گی اور میڈیا جب آزاد و غیر جانبداری کا راستہ چھوڑ کر خود پارٹی اور حزب اختلاف کا رول ادا کرنا شروع کر دے تو پھر ہر حکومت کو اس کو متوازن کرنے کےلئے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ یہ ہنی مون کے چھ ماہ گزر گئے تو پتہ چلے گا کہ نئی حکومت میڈیا کو کتنا آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ رہ گئی ججز کی بحالی کی بات تو اس کے لئے میثاق جمہوریت میں جو اصول طے ہوا ہے کہ جس جج نے جس کے عہد میں بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اسے عدلیہ کا حصہ نہیں بنایا جائےگا۔ یہی سنہرا اصول ہمیشہ کے لئے مدنظر ہونا چاہئے۔ اگر کوئی فوجی طالع آزما آکر شبخون مارے تو ساری عدلیہ مشترکہ طور پر پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دے بس اس ایک دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ خدا کرے کہ میثاق جمہوریت کے مطابق صرف وہ عدلیہ سامنے آئے جس نے کبھی کسی دور میں کسی مارشل لا حکمران کو نہ سند جواز بخشا ہو نہ اس کے کسی پی سی او کے تحت حلف اٹھایا ہو۔ تب جا کر اس ملک کا مقدر سنورے گا اور کوئی فوجی حکمران مارشل لا لگانے کے بارے میں نہیں سوچ سکے گا۔ خدا کرے ایسا ہو۔









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier