اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

(عباس اطہر)
رسی جل گئی پر بل نہیں گیا۔ یہ محاورہ صدارتی ترجمان راشد قریشی کا بیان پڑھ کر ہر شخص کو یاد آ گیا ہو گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر استعفٰی دیں گے نہ ہی وہ کوئی ”ایکشن“ لینے والے ہیں۔ یہ وضاحتی بیان ان رپورٹوں کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے جن کے مطابق صدر اسمبلی چھٹی کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایوان صدر کی اس وقت جو پوزیشن ہے، جس طرح اس کا مکین بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے اور جس طرح وہ کمال مجبوری سے ان سب ملامیوں کو سن اور پڑھ رہا ہے جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سنائی اور لکھی جا رہی ہیں، اس کے بعد یہ کہنا کہ ”صدر ایسا ویسا کوئی ارادہ نہیں رکھتے“ ویسی ہی یقین دہانی لگتا ہے جیسے کوئی پیر صد سالہ، جس کے منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت، چلنے سے معذور اور ہلنے سے لاچار، کسی نوجوان عورت کو تسلی دے رہا ہو کہ وہ اسے چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اب اس منظر کو سامنے رکھئے اور بیان کے اس پہلے حصے کا مزہ لیجئے کہ صدر استعفٰی نہیں دیں گے۔ یعنی انہیں جو کچھ سننا سہنا اور دیکھنا پڑ رہا ہے، اس سے ”دستبرداری“ انہیں پسند نہیں۔ سچ ہے کہ عزت افزائی کی طرح رسوائی بھی بعض اوقات چسکا بن جاتی ہے۔
جب سے معاشرہ قائم ہوا ہے، انسان ایک سی غلطیاں کرتا چلا آ رہا ہے۔ آنے والے جانیوالوں کے انجام سے سبق نہیں پکڑتے۔ جانیوالوں کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ان کے سامنے ہوتی ہے لیکن وہ اسے پڑھنا پسند نہیں کرتے یا شاید ان کی قسمت ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ انہیں کتاب نظر ہی نہیں آتی۔ ڈکٹیٹروں کا معاملہ اس کی سب سے قابل دید مثال ہے۔ جو کچھ ڈکٹیٹروں سے بالخصوص ان سے جو امریکہ کے ”کار خاص“ پر تعینات ہوتے ہیں، ہوتا آیا ہے، کسی سے چھپا نہیں مشرف نے جب قومی مفاد کے نام پر کارخاص کا بیڑا اٹھایا تھا اس کے بعد بہت جلد ہی یہ بات کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ موصوف عمر بھر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور صبر و ظلم کے حوالے سے اپنے تمام ”ہم عصروں“ کا ریکارڈ توڑنے کا پروگرام لے کر آئے ہیں۔ سمجھداروں نے کسی تاخیر کے بغیر انہیں یہ نقطہ سمجھانے کی کوشش کی امریکہ اپنے کارخاص بندوں کو کارخاص مکمل ہونے کے بعد منجدھار میں چھوڑ دیا کرتا ہے لیکن موصوف کو یہ غلط فہمی تھی کہ ان کے ساتھ امریکہ ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ذرا ہٹ کے ہیں۔ یہ غلط فہمی نہ جانے کس بنیاد پر انہیں لاحق ہوئی۔ سارے آمر ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں جس طرح کیکر کے سارے درخت ہم شکل، ہم مزاج اور ہم خواص ہوتے ہیں، اسی طرح آمروں کی عادات و اطوار اور سوچنے سمجھنے کا طریقہ بھی ایک جیسا ہوتا ہے۔ جنرل موصوف اگر کچھ ہٹ کے ہیں تو صرف اس حد تک کہ ان کی ”عزت افزائی“ کا جو دور گزشتہ 9 مارچ کے بعد سے شروع ہوا ہے وہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ میری یادداشت میں ایسا کوئی آمر نہیں ہے جس نے اس طرح کی ”عزت افزائی“ اتنے وسیع پیمانے پر کمائی ہو۔
خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ نے صاحب بہادر کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے البتہ یہ کہا ہے کہ صاحب بہادر ترکی میں قیام فرمائیں، وہ ان کی سکیورٹی کا بندوبست کر دے گا۔ یہ پیشکش اس لئے کی گئی ہے کہ ترکی کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ صاحب بہادر کو دو گارڈوں سے زیادہ سکیورٹی نہیں دے سکتا۔ ترکی میں صاحب بہادر کی ملکیت ایک جزیرہ بتایا گیا ہے جہاں شاہی محلات کھڑے ہیں۔ صاحب بہادر باقی ماندہ زندگی ان محلات میں گزاریں گے جہاں انہیں اس ”عزت افزائی“ کی کمی بری طرح کھٹکے گی جو ان دنوں انہیں پاکستان میں افراط کے ساتھ مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں وہ لوگ بھی نہیں ہوں گے جو انہیں باور کرا سکیں کہ پاکستان کے وجود اور ترقی کیلئے صاحب بہادر کا وجود بہت ضروری ہے۔ 9 مارچ سے پہلے ایسے لوگوں کی تعداد گنتی سے باہر تھی، 9 مارچ کے بعد سے یہ رش آہستہ آہستہ چھٹتا گیا اور اب ان لوگوں کی گنتی دونوں ہاتھوں کی نہیں، ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جو اب بھی انہیں یہ باور کرانے میں لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان کو ان کی ضرورت ہے۔ یہی نہیں۔ یہ لوگ انہیں اس بات کا یقین دلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ ”زوال“ کے یہ دن عارضی ہیں، جلد ہی پانسہ ان کے حق میں پلٹے گا اور پاکستان کا سیاہ و سفید پھر سے ان کی ملکیت میں آ جائے گا۔ سچ کہا زوال عارضی ہی ہوا کرتا ہے جس کے بعد غروب کا مرحلہ آتا ہے۔ انسان سورج نہیں ہوتا، جو غروب ہونے کے بعد اگلی صبح پھر طلوع ہو جائے۔ وہ تو بس ایک ہی بار طلوع اور ایک ہی بار غروب ہوتا ہے۔ غروب سے بچنا کسی کے بس میں نہیں لیکن غروب کی نوعیت متعین کرنا آدمی کے اختیار میں ہے۔ صاحب بہادر 9 مارچ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو سمجھنے سے قاصر نہ رہتے تو اسی وقت باعزت اور محفوظ واپسی کا راستہ اختیار کر سکتے تھے لیکن وہ اسی غلط فہمی میں رہے کہ وہ ہٹ کے ہیں، دوسروں کا انجام ان کا مقدر نہیں بن سکتا۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھے کہ انہیں اس کے بعد بھی واپسی کے بہت سے راستے ملے لیکن انہوں نے ہر راستے سے آنکھیں بند کر لیں چنانچہ راستے ایک ایک کرکے بند ہوتے چلے گئے۔ اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا لیکن موصوف کسی معجزے اور غیبی امداد کے انتظار میں ہیں اور یہی انتظار ان کے ترجمان سے یہ بیان دلوا رہا ہے کہ صاحب استعفٰی نہیں دیں گے۔ ایسا کلینکل ڈیڈ مریض بدقسمت ہوتا ہے جس کے لواحقین اسے بدستور آکسیجن ٹینٹ میں رکھنے پر اصرار کریں لیکن ایسے مریض کو کیا کہا جائے جو کلینکلی ڈیڈ تو ہو لیکن خود ہی اصرار کر رہا ہو کہ وہ آکسیجن ٹینٹ کو نہیں چھوڑے گا؟

 

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier