|
(ظہیر الدین بٹ) ہفتہ رفتہ میں سکاربرو کے علاقے میں ایک زبردست کار حادثے میں دو پاکستانیوں کی موت نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسا خوفناک حادثہ تھا کہ عینی شاہدین ابھی تک یہ منظر نہیں بھلا پائے۔ رونگٹے کھڑے کردینے والے اس حادثے میں فضہ رضوی اور ریحان نامی طالبعلم اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے ہیں جبکہ مدیحہ اور اسامہ شدید زخمی حالت میں آج کل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کے کئی آپریشن ہوچکے ہیں اور اب الحمد اللہ دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہوچکی ہے۔ حادثے کا سبب پولیس کی اطلاع کے مطابق کار کو تیزرفتاری سے چلانا تھا جس وجہ سے کار پر قابو نہ رکھ سکنا حادثے کا موجب بنا اور اس سے دو قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اور دو افراد بھی شدید زخمی ہوگئے۔ انسان جب غلطی کرتا ہے تو شاید اسے اس کا احساس نہیں رہتا کہ اس سے کوئی ناقابل تلافی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کل کے نوجوان طبقے میں اس چیز کو اجاگر کیا جائے اور انہیں احساس ذمہ داریوں کی تعلیم دی جائے کہ انہیں اپنی زندگیوں کو کامیاب بنانے کیلئے کچھ اصول اپنانے ہونگے۔ کینیڈا میں سبھی جانتے ہیں کہ ذرا آزادی ہے اور پھر حقوق انسانی کا بھی ذرا زیادہ ہی خیال رکھا جاتا ہے لیکن آج اگر نوجوانوں کو آزادی نصیب ہے تو اس کے ساتھ انہیں اپنی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ والدین جو اپنی اولاد کو اس آس میں اس ملک میں لاتے ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھے عہدے پر فائز ہوسکیں گے اور اپنی زندگیوں کو کامیاب بنا سکیں گے لیکن بسااوقات آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہوجاتی ہے۔ حالانکہ ہمیں اپنے عمل اور شریعت اور دین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہئے اور دیگر ممالک سے آئے غیرمسلموں کیلئے ایک ایسی مثال بن جانا چاہئے کہ وہ بھی ہمارے دین محمدﷺ کی طرف راغب ہو کر مسلمانیت کے دائرے میں داخل ہوسکیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہماری نئی نوجوان نسل کو جوں ہی ذرا آزادی ملتی ہے تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں چونکہ والدین اپنی محنت و مزدوری میں دن رات لگے ہوتے ہیں اور ان کی توجہ بھی ان کی طرف کم ہوجاتی ہے اس لئے بعض نوجوان اپنے اصل راستے اور ہدف سے ہٹ جاتے ہیں اور وہ راستہ اختیار کرلیتے ہیں جو خرابیوں کی طرف ہی جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی تو آج کل کے نوجوان طبقے میں فیشن کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ پینا پلانا بھی نوجوانوں میں بڑکپن کا احساس دلاتا ہے۔ والدین اپنی اولاد کے بارے میں کبھی بھی ایسی خرافات کی اجازت نہیں دیتے لیکن لڑکے مل جل کر ایسے کاموں میں شامل ہو کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ جب تک نوجوانوں میں خود بھی احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوگا، نوجوان نسل کبھی بھی کامیابی کے زینے پر نہیں چڑھ سکے گی۔ چھوٹی چھوٹی غلطیاں بسااوقات انسان کو ایسا نقصان پہنچاتی ہیں کہ جس کا مداوا مشکل ہوجاتا ہے۔ پانچ نوجوانوں کے گروپ میں سے ایک کی غلطی نے کتنے افراد کو تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ دو خاندانوں کے چراغ گل ہوگئے ہیں اور دو نوجوان جنہوں نے اپنی زندگی کی چند بہاریں ہی دیکھی تھیں، خالق حقیقی سے جاملے ہیں۔ ہمارا تو ایمان ہے کہ انسان کی موت کا ایک دن مقرر ہے اور کبھی بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا لیکن احتیاط اور اپنی زندگی کی حفاظت کرنے کا بھی تو اللہ تعالیٰ نے ہی حکم فرما رکھا ہے اس لئے ہمیں اپنی زندگی کی قدر کرنی چاہئے اور مسلمان ہونے کے ناطے اسے ایسا استوار کرنا چاہئے کہ جس سے دنیا میں بھی سکون ہو اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل ہوسکے۔ بچوں کی نشوونما میں بڑوں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ انہیں ایسی دینی تعلیم اور اخلاقیات کے درس دینے چاہئیں تاکہ انہیں اپنی زندگی کی اصل حقیقت کا پتہ چل سکے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں کیوں بھیج رکھا ہے۔ موج میلہ اور مستی پر پابندی لگانا بھی ضروری نہیں لیکن یہ اخلاق اور اپنے دین اسلام کے دائرے کے اندر رہ کر کی جائے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کیلئے بہت سے ایسے کام ہیں جو وقت کی اہمیت کو پیش نظر رکھ کر کئے جاسکتے ہیں۔ سپورٹس ہو یا پھر ویلفیئر کے کام، اس میں نوجوانوں کو شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ بے راہ روی کے کاموں سے دور رہ سکیں۔ اس دنیا سے دو نوجوانوں کی رحلت سے خاندان کے افراد میں جو تکلیف اور دکھ کے سائے ان پر آج منڈلا رہے ہیں اسے کسی طور پر بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ زخمیوں کے دوست احباب اور عزیز رشتہ داروں پر کیا بیت رہی ہے؟ وہ تو خود ہی بتا سکتے ہیں۔ دن رات پریشانی اور صدمے میں گھرے ایسے خاندانوں کو اس حال میں لانے کیلئے ایک چھوٹی سی غلطی ہی تھی جس نے کئی افراد کو شدید تکلیف میں مبتلا کردیا ہے۔ سکول، کالج اور پھر جاب پر جانا کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ تو اس ملک کا کلچر ہے اور ہم اس کلچر کا حصہ بن چکے ہیں لیکن اس میں احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ دراصل یہ حادثہ ہماری نوجوان نسل کیلئے ایک سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہے کہ چھوٹی سی غلطی کہ کار کو تیزرفتاری سے چلانے کے بعد جو نقصان ہوا ہے اور جو دو جانیں ضائع ہوگئی ہیں اس سے کتنی تکلیف ہوئی ہے اور کتنے لوگ پریشان ہوئے ہیں۔ آج کی نوجوان نسل کو اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ دینی چاہئے اور وقت ضائع کئے بغیر آئندہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کی تیاری کرنی چاہئے۔ والدین کی عزت اور ان کی خدمت کو اپنا شعار بناتے ہوئے اپنے روزانہ کے معمولات کو سیدھے راستے کی طرف گامزن کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی مسائل سے بچتے ہوئے کامیاب زندگی کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ ہم نوجوان نسل سے امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے بڑوں کو اپنے اقدامات سے مایوس نہیں کریں گے۔ ٭٭٭
|
|