اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 22 May 2008 02:05:00

صدر بش کا دورہ¿ مشرق وسطیٰ اور ناکامی کا جشن

صدر بش کا دورہ¿ مشرق وسطیٰ اور ناکامی کا جشن
(وکیل انصاری)
گزشتہ ہفتے صدر جارج بش مشرق وسطیٰ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔ اس دورے کا اصل مقصد تو دراصل اسرائیل کے قیام کے 60 سالہ جشن میں شرکت کرنا تھا مگر انہوں نے مصر اور سعودی عرب میں بھی قیام کیا اور مصر میں تو وہ عراق، افغانستان اور پاکستان کے سربراہوں سے بھی ملے۔
اس میں کوئی بھی دو رائے نہیں ہیں کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل جو صدر بش کو 8 سال پہلے ملے تھے، ان مسائل کو انہوں نے مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان خلاءمزید گہری ہوگئی ہے اور فسطینیوں کو دو حصوں یعنی الفتح (حکومتی پارٹی) اور حماس میں تقسیم کردیا گیا ہے، یعنی کچھ سالوں پہلے اگر اسرائیل میں دو ریاستوں کے تصور پر جو کام ہورہا تھا، اب وہ یقینی طور پر ختم ہوگیا ہے۔ اسرائیل عرب مقبوضہ علاقوں میں جو ناجائز تجاوزات بنانا بند کرچکا تھا، اس نے اب مغربی کنارے پر دوبارہ ناجائز تجاوزات بنانا شروع کردی ہیں۔ فلسطینی عوام میں بیروزگاری اور سیاسی بے چینی اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے، اسرائیل جس کو مشرق وسطیٰ کا طاقتور ترین ملک بننا تھا، آج وہ سپر پاورز کی طرح دنیا پر حکومت کررہا ہے۔ انسانی حقوق کی تلفی اسرائیل کی حکومت کا روزمرہ کا کام ہے۔
کسی نے کیا خوب لکھا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایک دوسرے کے سایہ رحمت ہونے کے ساتھ زحمت بھی ہیں! Jeffery Gold Berg نے جب یہ جملہ لکھا تو اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ وہ ایک یہودی بھی ہیں اور انہوں نے اسرائیل کی لابی اور اسکی طاقت کے حوالے سے جو لکھا اور اسکے فوائد و نقصانات پر جو بحث کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہودی دانشور اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ امریکی سیاست اور اقتصادیات پر قبضہ کرنے کے بعد اب ایک عام امریکی اسرائیل سے کچھ زیادہ ”محبت“ نہیں کرتا ہے۔ اسرائیلی لابی امریکی عوام میں نفرت کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ آج جب امریکہ 4 ڈالر گیلن پٹرول ادا کررہا ہے اور اقتصادی طور پر تقریباً مفلوج ہورہا ہے تو ان وجوہات کو بھی تلاش کررہا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیوں امریکی ڈالر زوال پذیر ہے؟ کیوں اب دنیا میں امریکہ کی عزت ختم ہورہی ہے؟ کیوں چھوٹے چھوٹے ممالک یعنی کیوبا، ایران، نکاراگوا، شمالی کوریا دنیا کی واحد سپرپاور سے خوفزدہ نہیں ہیں اور وجہ نکلتی ہے اور بات ختم ہوتی ہے امریکہ کی ناکام پالیسیاں۔
پھر دنیا صدر جارج بش کی ان ہٹ دھرمیوں سے بھی واقف ہے۔ جس وقت انہوں نے زمام حکومت سنبھالا تھا تو شمالی کوریا سے جوہری توانائی پر کلنٹن انتظامیہ کے مذاکرات کامیابی کے مراحل طے کررہے تھے مگر بش انتظامیہ نے ان مذاکرات کو معطل کردیا۔ اسی طرح فلسطینی سربراہ مرحوم یاسرعرفات جو کہ فلسطینی عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہو کر منتخب ہوئے تھے، ان پر مکمل دروازے بند کردئیے اور آج انکی وہ پالیسیاں مکافاتِ عمل کی طرح انکی ناکامی کا جشن منا رہی ہیں۔
صدر بش نہ تو سعودی سربراہ سے کوئی تیل کی پیداوار میں اضافہ کرواسکے نہ وہ لبنان میں شیعہ سنی فساد میں حکومت کی بلکہ جمہوری حکومت کی مدد کرنے کا وعدہ کرسکے، نہ وہ حماس اور الفتح کیلئے سلامتی کا پیغام دے سکے، نہ وہ عراق، افغانستان اور پاکستان کے سربراہوں کو یقین دلا سکے کہ امریکہ ان کے جانے کے بعد بھی ان ممالک کو سپورٹ کریگا۔ ہاں وہ صرف اسرائیل کے جشن میں شریک ہوسکے اور اس جشن میں شریک ہوسکے جس کو دنیا کی بیشتر آبادی جانتی ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد یہودی اور خاص طور پر مشرقی یورپ کے یہودیوں نے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرکے اسکو اسرائیل کا نام دیا اور وہ قبضہ ابھی تک جائز ثابت کرنے کیلئے جدوجہد جاری ہے۔
دنیا کے اس عظیم ملک کو جس طرح Hijack کیا گیا ہے اسکی مثال تاریخ میں ملنا بہت مشکل ہے مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ایک عام امریکی بھی دنیا کے حالات کو، دنیا کی سیاست کو اور دنیا میں ہونیوالی ریشہ دوانیوں کو نہ صرف جان چکا ہے بلکہ ووٹ کی طاقت کے ذریعے ایسے کوتاہ ذہنیت کے لوگوں کو ناکام کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں، لہٰذا صدر بش کے اس مشرق وسطیٰ کے دورے کو ناکامی کا نام دیکر اس کو ایک الوداعی دورہ کا نام دیا جاسکتا ہے۔
٭٭٭








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications