|
(ملک سلیم اکبر) قانون فطرت ہے کہ دنیا میں عموماً دو ہی طرح کے انسان ملتے ہیں....جی نہیں امیر اور غریب نہیں بلکہ ایک قسم کے انسان وہ ہوتے ہیں جو شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے تمام فیصلے SUPERIOR COMPLEX کے تحت کرتے ہیں دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی INFERIOR COMPLEX کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم اسے پاکستان اور پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہی کہیں گے کہ ہمیں ایسے حکمران بھی ملے جو احساس کمتری یا احساس برتری کا شکار تھے لہٰذا ان کے کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی عوام کی تقدیریں ہی نہ بدل سکیں۔ پاکستانی عوام نے ہر نئے آنے والے حکمران سے امیدیں باندھیں ہر حکمران نے خود کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے اور ذاتی بینک بیلنس میں اضافے اور عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے لانے کے علاوہ اور کوئی خاطرخواہ کام نہیں کیا۔ 18 فروری کے انختابات کے بعد بھی عوام نے زرداری اور نوازشریف سے نظام کو بدلنے کی امیدیں باندھیں لیکن شاید وہ بھول گئے کہ آصف زرداریSUPERIOR COMPLEX یعنی احساس کمتری کا شکار ہیں۔ محترمہ کی زندگی میں بھی ہمیشہ زرداری نے انہیں دبانے اور MALE SHOWNEST بن کر عورت پہ حکومت کرنے کی کوشش کی لیکن محترمہ نے زرداری کی محکومیت میں آنے کے بجائے زرداری سے علیحدگی کو ترجیح دی اور اپنے تینوں بچوں کو بھی زرداری کے زیراثر نہ رہنے کیلئے اپنے تینوں بچوں کا قانونی سرپرست LEGAL GARDIAN زرداری کو بنانے کے بجائے بچوں کی پھوپھی کو بنایا۔ محترمہ کے بعد آصف زرداری کو اپنے احساس برتری کے جذبے کے کھل کر اظہار کا موقع ملا اور اب وہ 16 کروڑ پاکستانی عوام پر حکومت کرنے کے ساتھ ہی ساتھ تمام قومی اداروں کو بھی اپنا محکوم بنانے کے چکر میں افہام تفہیم کے بجائے تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف نوازشریف جو ماضی میں دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد احساس برتری SUPERIOR COMPLEX کا شکار تھے۔ جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد شعوری یا لاشعوری طور پر ایک عجیب و غریب خوف کا شکار ہو کر تمام تر عوامی حمایت کے باوجود خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اور INFERIOR COMPLEX کے زیراثر ہو کر ایک مضبوط اور ٹھوس فیصلے کی قوت کے بجائے گومگو کا شکار دکھائی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے نوازشریف اکثر وبیشتر قومی معاملات پر اپنا موقف جس تیزی کے ساتھ تبدیل کر رہے ہیں، اسے عوام تشویش کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ آصف زرداری بھی مکمل کنٹرول‘ مکمل اتھارٹی اور حکومت کے تمام اداروں کو اپنے زیر تابع بنانے اور حکم حاکم بننے کے چکر میں متضاد فیصلوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ نوازشریف اور آصف زرداری الیکشن سے پہلے تک جنرل مشرف کی اتھارٹی کو تسلیم کرنے سے انکاری دکھائی دیتے تھے، اب جنرل مشرف کے سیٹ اپ کے زیراثر حکومت کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور اپنی صدارت کے عہدے کو قائم رکھنے کیلئے پرویزمشرف بھی آصف زرداری کو ضرورت سے بھی زیادہ دعائیں دے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انتہائی غیر روایتی طور پر پاکستان کے حساس ادارے آئی ایس آئی آصف زرداری کو قومی امور سلامتی کے معاملات کے علاوہ انتہائی حساس ترین معاملات پر بھی بریفنگ دی جو کہ تمام سیاسی اور سفارتی مبصرین کے نزدیک اس لحاظ سے ایک عجیب و غریب بات تھی کہ آصف زرداری نہ تو پارلیمنٹ کے ممبر ہیں نہ ہی وہ حکومت کے عہدیدار ہیں وہ صرف حکمران سیاسی جماعت کے ”خود ساختہ“ سربراہ ہیں جبکہ دنیا بھر کے حساس ادارے صرف اور صرف اپنی حکومت کے اہم ترین قومی عہدوں پر حامل افراد یعنی وزیرخارجہ‘ وزیردفاع وغیرہ کو صرف اور صرف اس صورت میں بریفنگ دیتے ہیں جب انہوں نے اہم قومی رازوں کو ہر حالت میں راز رکھنے کیلئے OFFICIAL SECRET ACT کے تحت حلف اٹھا لیا جبکہ آصف زرداری کی بذات خود کوئی سرکاری یا حکومتی OFFICIAL حیثیت نہیں ہے لہٰذا زرداری نے ایسا کوئی حلق نہیں اٹھایا تھا اس کے باوجود ان کو CRUSAL اور حساس اور نازک معاملات پر بریفنگ دی گئی۔ 718-692-0707 پر دوپہر بارہ سے شام سات بجے تک فون کرکے پاک یو ایس ٹریول ایٹ جی میل ڈاٹ کام پر ای میل کرکے ہمیں بتائیں کہ کیا یہ قدم پاکستان کے آئینی تقاضوں کیخلاف نہیں ہے؟.... کیا یہ فرد واحد کی حاکمیت کی ابتدا نہیں ہے؟ حال ہی میں بھارت کے نامور صحافی شیام بھاٹیا نے اپنی کتاب میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ بینظیر بھٹو نے خود بھارتی صحافی کو یہ بتایا کہ نارتھ کوریا کے ساتھ پاکستان کے حساس ترین ایٹمی رازوں کے بارے میں جو SHARING کی تھی اس کے بارے میں بینظیر نے خود شیام بھاٹیا کو بتایا تھا کہ اس کام کیلئے بینظیر نے خصوصی طور پر ایک OVER COAT خریدا تھا جس میں IMPORTANT MATIRAL ایٹمی رازوں کی خفیہ معلومات کو ایک سی ڈی کی صورت میں CARRY کیا تھا۔ اگر بھارتی صحافی کا یہ انکشاف ایک فیصد بھی درست ہے تو کیا یہ BREACH OF SECURITY نہیں تھی۔ دفاعی صحافی زریں مزاری کے بقول پاکستان کے فارن آفس اور وزارت خارجہ و وزارت داخلہ نے بینظیر کو انتہائی سختی کے ساتھ نارتھ کوریا جانے سے منع کیا تھا اس کے باوجود بینظیر نے خود کو VONOURARLE کیا۔ ماضی میں نوازشریف پر بھی یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے حریت پسندوں کی فہرستیں بھارتی قیادت کو فراہم کی تھیں۔ دنیا بھر کے سیاسی رہنما اپنے ملک کے رازوں کی پہرےداری کرتے ہیں ہمارے سیاسی لیڈران کو کیا عقل آئےگی۔ عجیب و غریب معاملات چل رہے ہیں۔ آئینی پیکیج تیار کرکے زرداری نے جنرل مشرف کی میز پر پہنچا دیا ہے جبکہ وکلاءنوازشریف اور میڈیا پر بحث مباحثہ کیلئے ابھی تک نہیں آیا۔ اس آئینی مسودے کا بھی قوم ابھی تک انتظار ہی کر رہی ہے جو نہ تو حفیظ پیرزادہ کو ملا نہ ہی اعتزاز احسن کو ملا لیکن مشرف کی میز پر پہنچ گیا تھا، سب نورا کشتی ہے۔ معاملات پہلے ہی سے طے شدہ ہیں۔ عوام کو بیوقوف اور الو بنایا جا رہا ہے۔ عوام کو کب تک بیوقوف بنایا جائےگا کب عوام کی حاکمیت قائم ہوگی۔ پاکستان زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد
|
|