اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 22 May 2008 02:01:00

حکومت کب شروع ہو گی

حکومت کب شروع ہو گی
غیر سیاسی باتیں.... عبدالقادر حسن
18 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں دو سیاسی جماعتیں سرفہرست رہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)۔ ان دونوں پارٹیوں نے ایک مخلوط حکومت قائم کر لی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت جیسی دستاویز کا رشتہ تھا جس پر شہید بے نظیر نے میاں نوازشریف کے ساتھ مل کر دستخط کئے تھے۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے مزاج اور ان کی جماعتوں کے سیاسی نظریات میں کوئی خاص مفاہمت موجود نہیں تھی لیکن ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے ماضی کے یہ حریف متفق ہو گئے۔ شہید بے نظیر اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان قومی مفاہمتی آرڈیننس کے ذریعے جو مفاہمت اور ایک خصوصی تعلق پیدا ہو گیا تھا اس نے بے نظیر کے بارے میں کچھ شکوک پیدا کر دئیے لیکن پاکستان پہنچ کر بے نظیر بہت بدل گئیں یہاں تک کہ انہوں نے چیف جسٹس چودھری افتخار کے گھر کے باہر خاردار تاروں میں الجھ کر انہیں اپنا چیف جسٹس کہا جو جنرل مشرف کےلئے ایک دشنام سے کم نہ تھا، بے نظیر کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ نیک نام ہو کر گزر گئیں۔ ان کے بعد ان کے شوہر نے ان کی جگہ سنبھال لی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جو مفاہمت پیدا ہو چکی تھی اس کے مطابق وفاق میں مخلوط حکومت کا قیام عمل میں آ گیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ دونوں لیڈر منتخب نہیں تھے اس لئے ایک تیسرے شخص کو وزیراعظم بنا دیا گیا، وزارت عظمٰی کا کوئی تنازع پیدا نہ ہوا، ویسے اسمبلی میں اکثریت پیپلز پارٹی کی تھی اور وزیراعظم بھی اس کا ہی ہونا تھا۔ نہ کہ نوازشریف کو لیکن نوازشریف ایک عام رکن اسمبلی بن کر اسمبلی میں بیٹھنے سے بچ گئے۔ وہ دو بار اس ایوان کے قائد رہ چکے تھے۔ ان دو جماعتوں کے اتحاد میں اے این پی اور جمعیت العلماءاسلام بھی شامل ہو گئیں اور اس طرح ان کی تعداد دوتہائی سے بھی بڑھ گئی یوں یہ اتحادی حکومت آئین میں کسی قسم کی ترمیم کی پوزیشن میں بھی آ گئی یعنی وفاق میں ایک مکمل بااختیار حکومت قائم ہو گئی۔
اس تسلی بخش صورت حال پر پوری قوم نے خوشی منائی اور اس انتظار میں بیٹھ گئی کہ گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ مہلک مسائل کو حل کرنے کی صورت نکلے گی اور ان کی منتخب نئی حکومت عوامی اقدامات شروع کر دے گی لیکن ججوں کی بحالی کا سابقہ مسئلہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا اور نواز لیگ نے اس کا علم اٹھا لیا، اس اختلافی مسئلے کی وجہ سے مخلوط حکومت میں اختلاف شروع ہو گیا۔ میاں صاحب کا موقف تھا کہ انہیں ووٹ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر ملے ہیں اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے جبکہ آصف زرداری صاحب کا مو¿قف تھا کہ ججوں کی بحالی کی وہ تائید کرتے ہیں لیکن ووٹ انہیں روٹی کپڑا مکان پر ملے ہیں۔ جہاں تک ججوں کی بحالی کا معاملہ ہے تو اس کے لئے انہوں نے ایک طریق کار پیش کیا کسی آئینی پیکیج کی صورت میں جو اب تک سامنے نہیں آ سکا جبکہ میاں صاحب حکومت کے ایک حکم پر ججوں کی بحالی کو ممکن سمجھتے تھے۔ زرداری صاحب ججوں کا معاملہ فوری طور پر حل کرنے میں سنجیدہ نہیں تھے۔ ان کی بعض مجبوریاں تھیں جو سامنے آ گئیں ان میں سے ایک تو این آر او کی ججوں کی طرف سے مخالفت تھی دوسری جنرل مشرف کی صدارت تھی جس کو چیف جسٹس این آر او کی طرح قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ یہ اختلاف رفتہ رفتہ اس قدر بڑھ گیا کہ میاں صاحب کے وزراءنے وزیراعظم کو استعفے پیش کر دئیے اس طرح اس اتحاد سے عملاً علیحدگی اختیار کر لی لیکن کہا یہ گیا کہ وہ حکومت کا کوئی ایشو دیکھ کر اس پر اس کی حمایت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تو صرف کہنے کی بات تھی اصل صورتحال یہ تھی کہ 42 دن بعد یہ اتحاد ٹوٹ گیا۔ اس کے چالیسویں کی تقریبات جاری ہیں۔
وفاق میں دو بڑی جماعتوں کے اتحاد سے جو امیدیں پیدا ہوئی تھیں وہ اچانک ٹوٹ گئیں۔ عوام پر گویا بجلی گر گئی، شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا، یہ تک کہا جا رہا ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی تحریک چلی تو عوام اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ بھٹو کے خلاف چلنے والی پی این اے کی تحریک کی بعض جماعتیں جب صدر ضیاءالحق کے ساتھ مل گئیں تو یہ کہا گیا کہ پی این اے کی آخری عوامی تحریک تھی اب کوئی عوامی تحریک نہیں چلے گی کیونکہ سیاسی قائدین پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیا ہے چنانچہ ایک عرصہ تک خاموشی رہی مگر جنرل پرویز مشرف نے آٹھ ساڑھے آٹھ برس اتنی بری حکومت کی اور عوام کو اس قدر لاچار کر دیا کہ وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے الیکشن میں بھرپور حصہ لینے پر آمادہ ہو گئے اور انہوں نے کسی سیاسی پارٹی کے حق میں کم اور پرویز مشرف کی مخالفت میں زیادہ ووٹ دئیے۔ عوام کی اس کوشش کا نتیجہ خوش کن ثابت ہوا اور ان کے منتخب لوگوں نے ایک مشترکہ حکومت بنا لی لیکن ہوا یہ کہ عوام کے مسائل میں سے ایک مسئلہ عدلیہ کی بحالی کا لے لیا گیا اور تیس چالیس دن کی حکومت میں عوام کے دوسرے فوری نوعیت کے مسائل پر توجہ نہ دی۔ آٹے وغیرہ کی نایابی بڑھتی گئی اور زندگی کی دوسری ضروریات کی قیمتیں بھی دن بدن تیزی کے ساتھ بڑھتی گئیں مگر حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔ انتظامی مشینری بھی متحرک نہ کی جس پر مزید کچھ خرچ نہیں ہونا تھا اور آٹے جیسی چیز کی سمگلنگ بھی نہ روکی جا سکی، نہ ہی امن و امان میں بہتری آئی۔ لوگ یہ کہنے لگے کہ بھائی لوگو اب کبھی حکومت اور حکمرانی شروع بھی کرو۔ اب (ن) لیگ کی علیحدگی سے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے اور عوام کے مسائل ابھی تک زیر غور نہیں آ سکے۔ عوامی حکومت شروع نہیں ہو سکی۔








  کھیل

 تازہ ترین

 اہم ترین

© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications