|
گریبان.... منو بھائی یہ سمجھنے کیلئے کسی گہرے غور و فکر کی ضرورت نہیں کہ سلمان تاثیر کی بطور گورنر پنجاب اور میاں منظور وٹو کی وزیراعظم کے مشیر کے طور پر تقرری آنے والے سیاسی حالات کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ ان حالات کے ذمہ دار بلاشبہ شریف برادران ہیں اور ان حالات کا سب سے زیادہ فائدہ ایوان صدر کو پہنچے گا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ایوان صدر کی خواہشات کے عین مطابق سول بیورو کریسی نے فروری 2008ءکے عام انتخابات میں سے ایک معلق پارلیمنٹ برآمد کرنے کی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا تھا مگر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو کریڈٹ دینا پڑے گا۔ انہوں نے ایک معلق پارلیمنٹ کو دوتہائی اکثریت رکھنے والے جمہوریت پسندوں کے ایوان میں تبدیل کرنے کا کمال کر دکھایا مگر تصادم کی سیاست سے جنم لینے والے شریف برادران نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہی میں دوتہائی اکثریت والی مخلوط مرکزی حکومت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کے لئے مفاہمت اور مصالحت کی سیاست اختیار کرنے کے تقاضوں کے دور میں تصادم کی سیاست واپس لانے کے حالات پیدا کر دئیے جو اپنی مسلم لیگ کو گجرات کے چودھری برادران کے حوالے کر کے جلاوطنی اختیار کرنے سے بھی بڑی سیاسی غلطی ثابت ہو سکتی ہے بلکہ خودکش حملے کے مترادف قرار دی جا سکتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے باخبر حلقوں میں سرگرم افواہوں سے تاثر ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت سے مسلم لیگ ن کی علیحدگی کے بعد ایوان صدر کی خواہش کے مطابق بعض متبادل سیاسی انتظامات کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت مسلم لیگ ن کے سیاسی تعاون کے بغیر بھی قومی اسمبلی کے علاوہ پاکستان سینٹ کے اندر بھی آئین کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کے لئے ضروری دوتہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔ سلمان تاثیر اور منظور وٹو کی تقرری اس جانب سفر کا ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ایوانِ صدر کی خواہش ہو گی کہ شریف برادران وفاقی کولیشن میں شامل نہ رہیں اور سپریم کورٹ کے معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان دونوں بھائیوں نے ایوان صدر کی یہ خواہش پوری کر دی ہے جس کے ساتھ ہی پرائم منسٹر ہاﺅس اور ایوان صدر کے درمیان سیاسی رابطے رکھنے والوں کی سرگرمیاں تیز تر ہو گئی ہیں اور پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ن کی بجائے مسلم لیگ ق سے سیاسی تعاون کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اعداد و شمار سے کھیلنے والوں کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 121 ہے، مسلم لیگ ق کے ارکان قومی اسمبلی 54 ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے 25، متحدہ مجلس عمل کے 6، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے 5، آزاد ارکان کے 18، پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاﺅ گروپ، نیشنل پیپلز پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن کو جمع کیا جائے تو بھان متی کا کنبہ 245 ارکان پر مشتمل ہو جاتا ہے جبکہ دوتہائی اکثریت کے لئے 228 ارکان کی ضرورت ہے گویا نئی مخلوط حکومت کو دوتہائی اکثریت سے سترہ زیادہ ارکان کا تعاون حاصل ہو سکتا ہے اور اگر گجرات کے چودھری برادران اس تعاون سے گریز کی پالیسی اختیار کریں تب بھی نئی مخلوط مرکزی حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ پرائم منسٹر ہاﺅس اور ایوان صدر کے درمیان سلسلہ جنبانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جہاں تک پاکستان سینٹ کا تعلق ہے اس ایوان بالا میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ قائداعظم گروپ دو بڑی پارٹیاں ہیں جو مل کر دوتہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔ سینٹ میں 67 ارکان سے دوتہائی اکثریت بنتی ہے۔ مسلم لیگ ق کے ارکان 36 ہیں۔ جے یو آئی ایف کے سینیٹروں کی تعداد 16 ہے اور یہ دونوں متحدہ قومی موومنٹ اور پی پی پی کے سینیٹروں کے ساتھ مل کر دوتہائی اکثریت بن جاتے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ نوازشریف کے سینیٹروں کی تعداد چار ہے جو پی پی پی، اے این پی اور جے یو آئی، ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر بھی دوتہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکتے۔ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان ایک سو چھ ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان 86 ہیں۔ دونوں مل کر 192 بنتے ہیں جوکہ اکثریت حاصل کرنے کےلئے کافی ہیں۔ اس اکثریت کو مزید محفوظ بنانے کے لئے میاں منظور احمد وٹو سے کہیں زیادہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے بے پناہ سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں پنجاب کے گورنر کا عہدہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے بعد سب سے زیادہ سیاسی اہمیت کا حامل ثابت ہو سکتا ہے اور سلمان تاثیر اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہوں گے۔ سیاسی ماہرین کے خیال میں جس طرح ایٹم بموں اور میزائلوں کی زبان بولنے والے فوجی جرنیلوں کے لئے امن کی لغت استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح تصادم کی سیاست سے جنم لینے والے سیاستدانوں کو مصالحت، مفاہمت اور مخلوط حکومت کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شریف برادران نے جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تصادم کی سیاست سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا اور پھر کچھ ایسے ہی تصادم کو جنرل جہانگیر کرامت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بھی جاری رکھا۔ اب ویسے ہی تصادم کی فضا صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ساتھ بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر تصادم کی سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تصادم کے لئے اپنی پسند کا وقت اور اپنی پسند کی جگہ ہونی چاہئے ورنہ تصادم کی سیاست خودکش حملے جیسی دہشت گردی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس حملے کی زد میں اپنے علاوہ اور کوئی بھی نہ آئے۔ فوجی گھوڑے کی قبر کا وہ معروف کتبہ بھی دھیان میں رہنا چاہئے جس پر درج تھا کہ ”یہاں وہ گھوڑا دفن ہے جس نے اپنی فوجی زندگی میں پندرہ کپتانوں اور دس میجروں کے علاوہ ایک بم کو بھی لات مار دی تھی“۔
|
|