اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News

(عباس اطہر)
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے نواز شریف کے گلے شکوے دور کر دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے باوجود اتحاد برقرار رہے گا۔ گورنر پنجاب کی تعیناتی پر دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی بھی کم ہو گئی ہے اور مسلم لیگ نے مان لیا ہے کہ یہ سازش نہیں البتہ اسے یہ شکوہ ہے کہ اسے اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ لیکن عالمی جرائد کے اشارے ہیں کہ اتحاد بڑی حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ اکانومسٹ نے لکھا ہے کہ پاکستان نئے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بحران کے اشارے ایک نہیں کئی ہیں۔ ججوں کی بحالی پر پیدا ہونے والے تعطل کے بعد ایوان صدر کی طرف سے یہ واضح کوشش کی گئی کہ پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ ن سے رہا سہا ناطہ بھی توڑ دیا جائے اور قاف لیگ سے اس کا اتحاد کرا دیا جائے۔ یہ کوشش کامیاب ہو جاتی تو پیپلز پارٹی جو اس وقت بوجوہ صدر مشرف سے ایک خاص قسم کی مفاہمت پر عمل پیرا ہے اور اس وجہ سے اپنی مقبولیت میں کمی کی قیمت بھی ادا کر رہی ہے۔ مکمل طور پر ایوان صدر کی قیدی بن جاتی لیکن قوم کی خوش قسمتی اور اس سے بھی زیادہ پیپلز پارٹی کی خوش قسمتی سے یہ اقدام کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ اتحاد کیلئے ضروری تھا کہ قاف لیگ کی قیادت تبدیل کر دی جائے تاکہ وہ پیپلز پارٹی کیلئے قابل قبول ہو سکے لیکن قاف لیگ کی قیادت غیر متوقع طور پر اکڑ گئی اور استعفٰی دینے سے انکار کر دیا بظاہر قاف لیگ کا پیپلز پارٹی سے اتحاد کرانے کا باب بند ہو گیا ہے لیکن درپردہ کوششیں جاری ہیں اور اب جو آئینی پیکیج لایا جا رہا ہے وہ مسلم لیگ ن کو قابل قبول نہیں ہو گا کیونکہ یہ پیکیج اعلان مری کے نکات سے ہٹ کر ہے۔ اس کے تحت چیف جسٹس بحال تو ہوں گے لیکن چیف جسٹس کے طور پر نہیں، محض ایک جج کے طور پر اور اسی کی طرف وزیراعظم نے یہ کہہ کر اشارہ دیا ہے کہ ایک چیف جسٹس موجود ہے، پرانے والے کو بحال کیا گیا تو دو ہو جائیں گے جو غیر آئینی ہو گا۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ معزول جج بحال تو ہو جائیں گے لیکن چیف جسٹس پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جسٹس ڈوگر ہی رہیں گے۔
وکلاءکی تحریک کو بھی اندازہ ہے کہ آئینی پیکیج ان کی خواہشات کے مطابق نہیں آ رہا چنانچہ انہوں نے 10 جون سے لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جو ملتان سے شروع ہو کر اسلام آباد تک جائے گا۔ اس سے پہلے 24 جون کو چیف جسٹس اسلام آباد سے فیصل آباد تک جلوس کی شکل میں جائیں گے۔ پنجاب حکومت اس جلوس کو بھی سہولیات دے گی اور لانگ مارچ کو بھی اور یہ اندیشہ بھی بہرحال موجود ہے کہ اس سے پہلے پہلے پنجاب میں حکومت تبدیل کر دی جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں بحران کی شکل سنگین اور شدید تر ہو جائے گی اور وہ لوگ آ جائیں گے جن کو نہیں آنا چاہئے۔
دوسری طرف اے پی ڈی ایم بھی متحرک ہو چکا ہے۔ اس نے یکم جون کو ججوں کی بحالی کیلئے قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وکلاءکے لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کیلئے ہر شہر میں اے پی ڈی ایم کے کارکن کیمپ لگائیں گے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ ایک بہت بڑی سرگرمی ہونے والی ہے۔ پنجاب حکومت نے اس سرگرمی میں معاون کردار ادا کیا تو یہ پرامن رہے گی لیکن اپنے حجم اور شدت کی وجہ سے وفاقی حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بنے گی اور پنجاب حکومت بدل گئی اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو تصادم ہو گا جس کا دائرہ بہت وسیع بھی ہو سکتا ہے، اگرچہ اس تصادم کی شدت سب سے زیادہ پنجاب میں ہو گی لیکن باقی صوبے بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے۔ وکلاءکی تحریک ایک امید کے بل پر پرامن رہی ہے۔ مایوسی کا احساس اسے اپنی لپیٹ میں لے گا تو شاید اس کا پرامن رنگ برقرار نہ رہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بے قابو ہوتی ہوئی مہنگائی، بدامنی اور خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام کے اعصاب چٹخا کر رکھ دئیے ہیں۔ وکلاءکی تحریک کا دائرہ پھیلا تو شہری آبادی کی ایک غیر متوقع حد تک بڑی تعداد پر تشدد احتجاج کا حصہ بن سکتی ہے۔
حکومت نے آئینی پیکیج بجٹ سے پہلے لانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور خیال ہے کہ بجٹ پیش کرنے میں کچھ دنوں کی تاخیر کر دی جائے گی۔ حکومت کو یقین ہے کہ مسلم لیگ نواز اس پیکیج کی مخالفت کرے گی تو قاف لیگ اپنے فارورڈ بلاک سمیت اس کی حمایت کرے گی۔ متحدہ، اے این پی اور مولانا فضل الرحمٰن پہلے ہی حکومت میں شامل ہیں اس طرح پیکیج کی منظوری کیلئے مطلوب دوتہائی اکثریت اسے آسانی سے مل جائے گی۔ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ 60 معزول جج بحال ہو جائیں گے تو صرف ایک جج یعنی چیف جسٹس کی اپنی پوزیشن پر بحالی اتنا بڑا ایشو نہیں رہے گی کہ اس پر تحریک چلائی جا سکے چنانچہ معاملہ ”رفع دفع“ ہو جائے گا۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن وکلاءتحریک کے رہنماﺅں کے علاوہ معزول ججوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہ کہہ چکی ہے کہ چیف جسٹس کی 2 مئی والی پوزیشن پر بحالی کے بغیر وہ کوئی اقدام قبول نہیں کریں گے۔ اب پنجاب حکومت کا پالیسی بیان بھی آ گیا ہے کہ وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو صوبے بھر میں چیف جسٹس کا پروٹوکول دے گی۔ یہ پالیسی بیان وزیراعظم کے اس اعلان کو مسترد کرنے کے مترادف ہے کہ موجودہ پی سی او چیف جسٹس ہی چیف جسٹس رہیں گے اور معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال کرنا غیر آئینی ہو گا۔
مفاہمت کا کتنا ہی تاثر دیا جائے، حقیقت یہ ہے کہ معاملات تصادم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عوام نے ریاستی اداروں سے مایوس ہو کر معاملات سے خود نمٹنا شروع کر دیا ہے۔ خدا ملک کی حفاظت کرے۔


 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier