|
عالم تمام.... ظہیر الدین بٹ 12 مئی کی ڈیڈ لائن بھی گزر گئی اور پوری قوم کو سر پکڑنے اور یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارے ملک میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کے اصل کھلاڑی کون ہیں؟ مخلوط حکومت بنے ابھی چند ہفتے ہی گزرے ہیں اور وہ مسائل جو پہلے سے طے ہو چکے ہیں ان پر دونوں بڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی عمل درآمد نہ کر سکی۔ اور یوں یہ طے شدہ مسائل عملی جامہ پہننے سے رہ گئے۔ میاں محمد نوازشریف نے اپنے موقف کی خوب حفاظت کی ہے اور ان کی پارٹی کے وزراءجو اس امید پر حکومت میں شامل ہوئے تھے کہ وہ قوم کو انصاف دلانے کے لئے عدالتوں کی آزادی کو یقینی بنائیں گے۔ لیکن ان کے یہ خواب ادھورے رہ گئے اور وہ ہینڈز اپ کر کے حکومت سے استعفے دینے پر مجبور ہو گئے۔ اگر ابتدا میں ایک مسئلے پر بھی اتفاق نہیں ہو سکا تو قوم پھر کیا امید کر سکتی ہے کہ آئندہ ان کے لئے یہ مخلوط حکومت کیا اقدامات اٹھائےگی۔ پوری قوم کو آج جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑے مسئلے آٹا، دال، چاول، کے ساتھ تیل کی ہوشربا قیمتیں ہیں جو آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ یہی نہیں گرمی کے موسم میں گھنٹوں بجلی کا نہ ہونا آج کل کے ترقی یافتہ دور میں قدیم طرز زندگی کی یاد تازہ کرتا ہے۔ لیکن فرق اتنا ہے کہ پہلے لوگ مٹی کے گھر بنا کر رہتے تھے تا کہ وہ گرمی کو برداشت کریں۔ گھڑوں میں پانی بھرتے تھے الغرض انہوں نے اپنی زندگیوں کو حالات کے مطابق ڈھال رکھا تھا لیکن آج بجلی زندگی کی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بغیر زندگی اجیرن بن جاتی ہے لیکن قوم اس سے بھی محروم ہے۔ ہماری حکومت ان مسائل پر توجہ دینے کی بجائے دوسرے مسائل میں ہی گھری ہوئی ہے جبکہ عوام کی خواہش ہے کہ انہیں ان تکالیف سے دور کیا جائے اور ان کے مسائل کو جتنی جلد ممکن ہو فوری طور پر حل کرنے کی طرف توجہ دے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ ججز کی بحالی چاہتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ یہ اقدام آئینی ترمیم کے ذریعے ہی کریں گے تاکہ کل کلاں اس کے لئے کوئی قانونی پیچیدگی نہ ہو سکے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ ایک ایگزیکٹو آرڈر یا پارلیمنٹ میں قرارداد کی منظوری کے بعد ججز کو بحال کر دیا جائے اور 3 نومبر کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا جائے۔ میاں نوازشریف شاید اس لئے ایگزیکٹو آرڈر یا قرارداد کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ آئینی ترمیم کے تحت ججز کی بحالی ناممکن ہے کیونکہ آئینی ترمیم کے لئے ووٹنگ کی ضرورت ہو گی۔ قومی اسمبلی میں تو شاید یہ قرارداد اور آئینی ترمیم پاس ہو جائے لیکن انہیں اچھی طرح علم ہے کہ سینٹ میں چونکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اکثریت ہے اس لئے وہاں سے اس کا پاس ہونا ناممکن ہے۔ پھر اس پر صدر پرویز مشرف کے دستخطوں کی بھی ضرورت پڑے گی جو کہ اپنے خلاف لائی جانے والی قرارداد کو کبھی بھی قانونی شکل اختیار نہیں کرنے دیں گے۔ اسی وجہ سے ہی دونوں بڑی پارٹیوں میں اختلافات چلتے رہے ہیں۔ جس وجہ سے طریق کار طے نہ کیا جا سکا۔ آئینی ترمیم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پاکستان پیپلزپارٹی پاکستان مسلم لیگ ق کو اپنے ساتھ نہیں ملا لیتی۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ تو پہلے ہی سندھ میں حکومت میں شامل ہو چکی ہے اور ویسے بھی پہلے ان کی پارٹی غیر مشروط طور پر وفاق میں بھی حکومت کی حمایت کر چکی ہے۔ اس لئے آئین میں ترمیم لانا اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان مسلم لیگ ق کا ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی سے ہو گا اور یہ بات پاکستان مسلم لیگ ن اچھی طرح سے جانتی ہے۔ اب میاں نوازشریف نے حکومتی بنچوں پر بیٹھ کر بغیر وزراءکے تماشہ دیکھنے کا پروگرام بنایا ہے لیکن یہ زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ انہوں نے اعلان بھی کیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف انہیں گرانے کی کوئی بھی سازش نہیں کریں گے۔ لیکن بعض معاملات پر ساتھ بھی نہیں دیں گے۔ دراصل وہ ان سے الگ ہو کر بھی الگ نہیں ہونا چاہتے تاکہ ایسی جگہ نہ بن پائے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) اس کو پر کر سکے۔ لیکن یہ زیادہ دیر ممکن نہیں ہو پائے گا۔ ادھر سب نے لندن مذاکرات دیکھے ہیں جو ناکامی کا شکار ہو گئے۔ اگر یوں ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کے لئے قیادتوں کو باہر جا کر مذاکرات کرنے کی ضرورت پڑتی رہی تو پھر ملک اور قوم کا کیا حال ہو گا۔ اب تو یہ نئی ریت سی چل نکلی ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے لئے مذاکرات دوسرے ملکوں میں ہونے لگے ہیں۔ شاید اپنے وطن میں جاسوسی کا خطرہ ہو۔ اس لئے باہر جانا ضروری خیال کرتے ہوں؟ آج مجھے اپنے صحافی بھائی کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو میاں محمد نوازشریف نے لندن میں مرحومہ بینظیر بھٹو سے مذاکرات اور اس سلسلے میں ہونے والے میثاق جمہوریت کے موقع پر تنہائی میں ان کے ایک سوال کے جواب میں دیئے تھے۔ انہوں نے میثاق جمہوریت پر دستخطوں کی تقریب کے بعد تنہائی کے چند لمحات ملنے پر سوال کیا تھا کہ میاں صاحب آپ نے میثاق جمہوریت پر دستخط کر دیئے ہیں کیا آپ دل سے پاکستان پیپلزپارٹی پر اعتماد کر رہے ہیں اور کیا آپ کو یقین ہے کہ وہ سب کچھ ممکن ہو سکے گا جو میثاق جمہوریت میں لکھا ہے۔ اس پر انہوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا لیکن پھر بھی امید کا سہارا لے لیا تھا اور آج وہی چھٹی حس جو ان کے اعتماد کو متزلزل کر رہی تھی کھل کر سامنے آگئی ہے اور وہ معاملات جو بھوربن (مری) میں طے ہو چکے تھے جس پر قوم بھی بڑی پر امید تھی اس پر عملدرآمد نہ کیا جا سکا۔ جس سے پوری قوم بھی سخت مایوس ہوئی ہے۔ ان حالات میں مخلوط حکومت کی ناکامی دراصل صدر پرویز مشرف اور ان کے حلقہ احباب کی مضبوطی کی نشاندہی کر رہی ہے۔ حالات کس طرف رخ کرتے ہیںیہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن الیکشن کے بعد قوم نے جو اتفاق اور جذبہ سیاسی لیڈران میں دیکھا تھا، وہ جلد چکنا چور ہو گیا ہے۔ ایسے میں تو یوں لگتا ہے کہ پوری قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے یہ بڑے ہی دکھ کی بات ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اب کافی مشکل حالات کا سامنا ہو گا اور پھر انہیں نئی حکمت عملی بھی تیار کرنا ہو گی کیونکہ اب ان کے لئے دو محاذ بن گئے ہیں ایک تو پہلے پاکستان مسلم لیگ (ق) اور صدر مشرف گروپ تھا لیکن اب پاکستان پیپلزپارٹی بھی ان کے لئے دوسرا محاذ بن گیا ہے۔ قوم نے تو اچھے کے لئے امیدیں لگائی تھیں لیکن شاید ان کی غلطی تھی جس کے لئے وہ قصور وار ہوں؟ .... لیکن بعض سیاست دانوں نے اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا ہے اس لئے شاید وہ قصوروار ہوں؟ اب بھی کچھ نہیں بگڑا ملک کی نازک صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے اور جو امید قوم کو دلائی گئی تھی اس پر پورا اترنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈھ نکالنے کی سعی اب بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ ہم تو ملک و قوم اور اس کی خوشحالی اور ترقی کےلئے ہمیشہ دعاگو رہے ہیں۔
|
|