ڈاکٹر شبیراحمد
ہاں! آں، آں، آں، ادھر آﺅ، آ گیا۔ گھوم جاﺅ، گھوم گیا۔ بیٹھ جاﺅ، بیٹھ گیا، لیٹ جاﺅ، لیٹ گیا۔ جو پوچھے گا وہ بولے گا؟ بولے گا!
صاحبو! نہ جانے آج بچہ جمورا کا تماشہ فٹ پاتھ پر ہوتا ہے کہ نہیں، ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن شاید آپ نے برصغیر میں یہ تماشہ دیکھا ہو گا۔ لفظ جمورا، جمہوریت کے کتنا قریب ہے لیکن آپ اوپر درج کردہ مکالمات پھر دیکھیں یہ تو خالص آمریت ہے۔ اتنی بات ضرور ہے کہ تماشہ ختم ہونے پر بچہ جمورا اور اس کا ماسٹر فائدے میں رہتے ہیں۔
ادھر جمہوریت ہے جسے بہت سے دانشوروں نے آمریت سے بدتر قرار دیا ہے۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور! لہٰذا ابراہم لنکن اور چرچل نے جمہوریت کو الفاظ کا خوبصورت جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ ”عوام کی حکومت، عوام کے لئے، عوام کے ذریعے“۔ لیکن
نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
صاحبو! کتنے ہی دلکش الفاظ ہوتے ہیں جو عملی دنیا میں اپنی دلکشی کھو بیٹھتے ہیں
اصطلاحات محبت میں صداقت نہ رہی
لفظ وہ معنی ہوئے رو رو کے جدا میرے بعد
بچہ جمورا بے چارہ فٹ پاتھ پر غلام۔ جمہوریت میں لوگ اکثریت کے ہاتھوں غلام۔ وطن عزیز میں یاروں نے اس کا یہ توڑ نکالا ہے کہ اپوزیشن کے نام پر اقلیت والے اسمبلی میں خوب اودھم مچاتے ہیں۔ اکثریت اور اقلیت کی آپا دھاپی پھر گلیوں میں آ جاتی ہے۔ ہم کیسے کہیں کہ اہل وطن کو جمہوریت کی پری مبارک ہو۔ نئی حکومت آ گئی۔ کیا وطن عزیز کے دن پھر گئے؟ کیا غریب کی حالت زار کچھ بہتر ہوئی؟ کیا عوام نے امن و سکون کی فضا میں سکون کا سانس لیا؟
جی نہیں! اس لئے کہ ہر سیاسی پارٹی کو اپنی سٹریٹ پاور دکھانے کا شوق ہے۔
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
لوگ کہتے ہیں کہ وطن عزیز میں تعلیم کی کمی ہے۔ اب تو وکیل سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ توڑ پھوڑ اور گھیراﺅ جلاﺅ کا عمل جاری ہے۔ ٹھیک ہے کچھ لوگ سیاہ کوٹ اور سفید پتلون پہن کر بھی وکلاءکے جلوسوں میں شامل ہو گئے ہوں گے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہو گی۔ صاف عرض کرنے دیجئے کہ تعلیم جمہوریت کی کامیابی کی گارنٹی کبھی نہیں بن سکتی۔ ہم نے پڑھے لکھے لوگوں کو سفید دیوار پر پان کی پیک تھوکتے دیکھا ہے۔ کاغذ کے ٹکڑے چلتے چلتے سڑک پر پھینکتے دیکھا ہے۔ قائداعظمؒ نے جس تنظیم کا سبق دیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ سینما کی کھڑکی ہو، ریلوے یا ائرپورٹ یا شاپنگ سنٹر، کوئی قطار بندی کی پروا نہیں کرتا۔
لہٰذا تعلیم نہیں کسی بھی قوم میں پہلے جمہوری مزاج کا ہونا ضروری ہوتا ہے کیونکہ وطن عزیز میں جمہوری مزاج کا فقدان ہے اسی لئے ہمارے یہاں بار بار جمہوریت کا تجربہ ناکام ہو جاتا ہے۔ جمہوری مزاج ہمیشہ قوم کے سیاسی لیڈر بناتے ہیں۔ غور کیجئے کیا ہماری سیاسی پارٹیوں میں خود اندرونی الیکشن ہوتے ہیں۔ جب سیاست کا اپنا مزاج جمہوری نہ ہو تو عوام میں جمہوری مزاج کیسے آئے؟ کہتے ہیں بار بار الیکشن ہونے دیجئے ملک میں جمہوریت خود بخود آ جائے گی۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بار بار وہی چہرے اور ان کے چیلے لیڈر بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔
بدل کے بھیس پھر آتے ہیں ہر زمانے میں
اگرچہ پیر ہے آدمی جواں ہیں لات و منات
قائداعظمؒ کو ایک بار پیشکش کی گئی تھی کہ وہ تاحیات مسلم لیگ کی صدارت قبول فرما لیں۔ فرمایا، نہیں! یہ میرا فرض ہے کہ ہر سال ووٹ لینے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ لیکن ہماری کم نصیبی پر نگاہ ڈالئے۔ ہمارے یہاں آج بھی الیکشن ہوتے ہیں تو صوبائی اور لسانی بنیادوں پر۔ ایک بھی جماعت صحیح معنوں میں ایسی نہیں جو ملک گیر سطح پر کامیاب ہو سکتی ہو۔ سٹریٹ پاور دکھانے کی وجہ سے قومی املاک کی توڑ پھوڑ، جلاﺅ گھیراﺅ قوم کا مزاج بن گیا ہے۔ پھر بھی ہمارے یہاں نعرے لگتے ہیں کہ قوم کا سیاسی شعور بیدار ہو گیا ہے۔ ہمارے ایک ماسٹر جی کہا کرتے تھے کہ مرغا بننے سے بچوں کا شعور بیدار ہوتا ہے۔ ادھر قدرت کے ماسٹر جی نے مدتوں سے ہماری قوم کو مرغا بنا رکھا ہے لیکن ہمارا سیاسی شعور بیدار نہیں ہوتا۔ کہنے دیجئے کہ ہماری قوم جمہوریت کے لائق نہیں ہے۔ علامہ اقبال بجا طور پر جمہوریت کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
تاریخ میں کچھ ایسی شخصیتیں گزری ہیں جنہیں دل پسند ڈکٹیٹر کہا گیا ہے اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں ملک کو جنت ارضی بنا دیا۔ اس مرحلے پر ہمارے ذہن کے افق پر شیر شاہ سوری کا نام ابھرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ پھر نہیں لوٹے گا لیکن تاریخ کے اوراق سے کچھ تازہ ہوا کے جھونکے آنے دیجئے۔
شیر شاہ سوری نے ہندوستان میں 1540ءتا 1545ءصرف پانچ سال حکومت کی۔ کہا، افسوس کہ اقتدار اس وقت میرے ہاتھ میں آیا جب میری زندگی کا سورج ڈھل رہا تھا۔ سوری تاریخ کی ان نامور شخصیتوں میں سے ہے جنہوں نے خاک سے ابھر کر عظمتوں کا بلند ترین مقام حاصل کیا۔ وہ برصغیر کا پہلا بادشاہ تھا جس نے عوام کی فلاح و بہبود کی طرف پوری توجہ دی۔ شیر شاہ سوری کا اصل نام ”فرید خاں“ تھا۔ بہار کے حاکم کی ملازمت میں اس نے تلوار سے ایک شیر کو ہلاک کیا۔ حاکم بہار نے اسے شیر خاں کا خطاب عطا کر دیا۔ 1540ءمیں قنوج کے مقام پر مغل بادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو فیصلہ کن شکست دے کر اس نے شیر شاہ سوری کا لقب اختیار کیا۔ شیر شاہ کہا کرتا تھا کہ دیہات میں ہونے والے جرائم میں مقامی نمبردار کا ہاتھ ہوتا ہے اور مجرموں کے متعلق انہیں پوری معلومات حاصل ہوتی ہے۔ مجرم کا سراغ نہ ملتا تو علاقائی نمبردار اور پولیس انسپکٹر کو گرفتار کر لیا جاتا۔ اس دور کے م¶رخ نظام الدین احمد نے لکھا ہے کہ شیر شاہ کے دور حکومت میں ہر تاجر بے خوف و خطر سفر کر سکتا اور جنگل میں سو سکتا تھا۔ ایک معذور اور ضعیف بڑھیا اپنے سر پر سونے کے زیورات سے بھری ہوئی ٹوکری رکھ کر بغیر کسی خوف و ہراس کے سفر کر سکتی تھی۔
شیر شاہ نے یوں تو فلاح عامہ کے بے شمار کام کئے لیکن صرف ایک جرنیلی سڑک ہمارے خیال میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ ضرور کہلانی چاہئے۔ یہ سڑک سنار گاﺅں مشرقی پاکستان سے شروع ہو کر آگرہ، دہلی اور لاہور سے ہوتی ہوئی جہلم تک چلی گئی ہے۔ اس کی لمبائی ڈیڑھ ہزار کوس ہے۔ اتنی طویل سڑک پر اس نے دونوں طرف سایہ دار درخت لگوائے۔ ہر دو کوس کے فاصلے پر سرائیں تعمیر کروائیں جن کی کل تعداد 1700 تھی۔ ان سراﺅں میں مسلمانوں اور ہندوﺅں کی خوراک اور رہائش کا الگ اور مفت انتظام ہوتا تھا۔ ہر سرائے کے ساتھ مسجد‘ مندر اور کنویں تعمیر کئے گئے۔ مسجد کے لئے امام اور موذن۔ مندروں کے لئے برہمن اور مسافروں کے سامان کی حفاظت کے لئے چوکیدار مقرر تھے۔ سراﺅں کے دروازوں پر ٹھنڈے پانی کے مٹکے رکھے رہتے تاکہ راہ چلتے مسافر اپنی پیاس بجھا سکیں۔ انہی سراﺅں میں ڈاک کے ملازمین کے آرام اور رہائش کے لئے اور ان کے گھوڑوں کے اصطبلوں کا بندوبست کیا۔ ہر سرائے میں سکیورٹی پولیس موجود ہوتی۔ ان سراﺅں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے نواحی علاقے کی کچھ زمین وقف کر دی جاتی تھی۔
صاحبو! ہم نے عرض کیا کہ شیر شاہ سوری تو اب نہیں لوٹے گا۔ اتنا کہہ کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں
دکھا دے اے فلک پھر سے وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو