اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
(وکیل انصاری)
دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ دعا اور دوا کا کمبی نیشن ہوجائے تو بہت سے لاعلاج مریض کا بھی علاج ہوجاتا ہے۔ سرطان بھی اسی قسم کا موذی مرض ہے جس کے علاج پر توجہ دی جا رہی ہے اور خاصی ریسرچ ہورہی ہے۔
میں یہ ابتدایہ سطریں یوں لکھ رہا ہوں کہ میرے اور آپکے محترم بزرگ جناب حنیف اخگر صاحب سرطان کے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ میں کبھی بھی انکی بیماری کا تذکرہ نہ کرتا مگر چونکہ تمام احباب اور انکے چاہنے والوں کو معلوم ہے۔ جلسے میں انکی بیماری کا تذکرہ ہوچکا ہے اور پاکستان، ہندوستان کے مختلف طبقوں کو معلوم ہے تو پھر میں بھی بسرعت کررہا ہوں کہ نہ صرف انکی بیماری کا تذکرہ کروں بلکہ تمام افراد سے دست بستہ درخواست بھی کروں کہ ان کی صحت یابی کیلئے دعا کریں۔
پوری دنیائے اردو ادب اور خاص طور پر شمالی امریکہ کے اردو ادب نواز دوست واقف ہیں کہ گزشتہ 35 سالوں میں حنیف اخگر نے کس طرح شمالی امریکہ میں مشاعروں کی روایت کو تازہ کیا۔ بین الاقوامی شعراءکرام کو امریکہ، کینیڈا بلایا۔ مقامی شعراءکو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور جس سے نئے لکھنے اور کہنے والوں کو تحریک ہوئی۔ انہوں نے ایک ایسی ادبی فضا پیدا کی کہ جس کی وجہ سے نیویارک، شکاگو اور ٹورنٹو کا نام بھی لکھنو¿، دہلی، لاہور و کراچی کے مشاعروں کی طرح معتبر ہوتا گیا۔ خود حنیف صاحب جو کہ کلاسیکل غزل گو شاعر ہیں، مشاعروں کی جان بن گئے۔ جگہ مراد آبادی سکول کے معتبر شعراءمیں ان کا شمار ہوتا ہے۔ خوبصورت غزل اور اس پر کلاسیکل ترنم جس سے وہ مشاعروں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ ان کے عقیدت مند پوری دنیا میں اور خاص طور پر جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، پائے جاتے ہیں۔
امریکہ کے اکثر مشاعروں میں مجھے بھی یہ سعادت ملی ہے کہ ان کے ساتھ شامل رہا ہوں۔ مشاعرے کے بعد ان کے عقیدت مندوں اور چاہنے والوں کا ایک غول ان کو گھیرے رکھتا ہے۔ اکثر یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ ”ہم تو صرف آپ کو سننے کیلئے بیٹھے رہے“ وہ مسکرا مسکرا کر سب کی داد وصول کرتے ہیں اور بہت محبت سے پیش آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہزاروں افراد کے دلوں میں بستے ہیں۔
اکثر افراد حنیف صاحب کو بحیثیت ایک شاعر کے جانتے ہیں جبکہ حنیف صاحب اعلیٰ درجے کے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب، جدید تعلیم یافتہ انسان بھی ہیں۔ وکالت، بینکنگ اور ایڈمنسٹریشن ان کا بیک گراﺅنڈ رہا ہے۔
یو این او سے وہ بحیثیت ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ریٹائر ہوئے مگر کچھ عرصے پہلے تک وہ یو این او کی اعلیٰ میٹنگز میں شرکت کرتے رہے۔ وہ ماشاءاللہ سات بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں۔ سب بچوں کی شادی اور تعلیم کا ذمہ ان پر تھا جسے الحمد اللہ انہوں نے بہت ذمہ داری سے نبھایا۔ چار پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے کہ یہ ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے وہ کریڈٹ کارڈ اور بینکوں کے مقروض بھی رہے۔ قرضے چکانے کیلئے انہوں نے اپنا پاکستان کا گھر بھی بیچا مگر پورا قرضہ ادا نہ ہوا۔ کچھ دوست احباب نے کہا کہ بھئی بینک کرپسی ڈیکلیئر کردیں، سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا مگر انکی طبیعت نے یا ایمان نے یہ سب گوارا نہ کیا۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ میں مقروض مرنا نہیں چاہتا ہوں اور پھر خدا کو کیا منہ دکھاﺅنگا لہٰذا نیویارک کا گھر بیچ کر قرضہ ادا کیا اور ڈیلاس میں گھر خرید کر اپنے بیٹے کے ساتھ منتقل ہوگئے۔ ویسے تو وہ اکثر اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ہاں وزٹ کرتے ہیں مگر اب ڈیلاس کو اپنا گھر کہتے ہیں۔ اتنے دیندار لوگ اب کتنے رہ گئے ہیں۔ ہماری یہ خوش قسمتی ہے کہ ہم کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
وہ آج کل سرطان کے موذی مرض سے گزر رہے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں؟ کہتے ہیں الحمد اللہ خیریت سے ہوں۔ اللہ ان کو خیریت سے رکھے۔ وہ زندگی بھر ہم سب کو دعائیں دیتے رہے ہیں۔ اب ان کو ہماری دعاﺅں کی ضرورت ہے۔ یہ چند سطریں لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ آپ سب میرے بزرگوار کی صحت یابی کیلئے دعا کریں۔ دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ دعا اور دوا کا کمبی نیشن لاعلاج مریض کو بھی شفا بخش سکتا ہے۔
اب یہ چند سطریں لکھ کر ختم ہی کرنا چاہتا تھا کہ معلوم ہوا ہے کہ میرے ایک اور بزرگ دوست شاعر جناب محسن احسان لندن کے ہسپتال میں صاحب ِ فراش ہیں۔ ان کیلئے بھی دعا کریں۔
٭٭٭









© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier