اردو ٹائمز- اردو کی تازہ خبریں
مسلسل اشاعت کے 28 سال
Twenty eight years of publication

 Daily Urdu News USA CANADA UK

    

 Urdu Times Daily Urdu News
 
Thu, 08 May 2008 00:40:00

ججز کی بحالی 12مئی کو کیوں ؟28مئی کو کیوں نہیں؟

ججز کی بحالی 12مئی کو کیوں ؟28مئی کو کیوں نہیں؟

عالم تمام ۔۔۔۔ ظہیر الدین بٹ
نئی امیدیں‘ نئی خواہشیں‘ نئے انتظار کی گھڑیاں آخرکار 12مئی کے لیے موقوف ہوگئی ہیں۔ دبئی مذاکرات کامیاب ہوئے یا ناکام یہ تو 12 مئی کو آنے والا دن ہی بتائے گا۔ آج کل پاکستان کی سیاست میں عجیب و غریب قسم کے حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد جو رزلٹ سامنے آئے تھے انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ اب شاید ملکی حالات کچھ پرسکون ہو جائیں گے اور غریب عوام جو مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے تنگ آ چکی ہے کو شاید کوئی ریلیف مل سکے گا لیکن سیاست شاید کسی گیند کا نام ہے جس کا کوئی پیندہ نہیں ہوتا اور وہ ایک جگہ بمشکل سے رکتی ہے۔ کچھ اسی طرح ہمارے ملک میں سیاست کا حال ہو رہا ہے۔ روزانہ عوام کو نت نئے خواب دکھائے جا رہے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں اور باووں نے سیاست کو ایسے بدنام کردیا ہے کہ یوں لگنے لگا ہے کہ سیاست ہے ہی جھوٹ اور فریب کا دوسرا نام‘ اس سے لوگوں کو بیوقوف بنانا ہی مقصود ہوتا ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہان (دونوں اسمبلی سے باہر رہ کر بھی طاقتور شخصیات ہیں) شاید ایک دوسرے سے کھیل کھیل رہے ہیں۔ الیکشنوں سے پہلے میثاق جمہوریت سامنے آیا۔ پھر مری میں بھوربن معاہدہ ہوا۔ پھر دبئی مذاکرات سامنے آئے اور ان میں ایک ہی بات ”ججز کی بحالی“ یہ مسئلہ تو درکنار اب ایک مصیبت بن گیا ہے۔ دونوں پارٹیاں تمام ججز کو بحال کرنے کے گن تو گاتی ہیں لیکن عملاً پھر ایک پارٹی بھاگ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اگر کوئی کام نہ کرنا ہو تو پھر ایک کمیٹی بنا دی جاتی ہے تاکہ نہ کمیٹی کوئی اتفاق کرے اور نہ مسئلے کے حل کی کوئی شکل سامنے آ سکے۔ اگر اسے ذہن میں رکھا جائے تو پھر دبئی مذاکرات کے بعد بننے والی کمیٹی جو قرارداد وضع کرے گی کے بارے میں کیا سوچا جائے۔ کیا ممکن ہے کہ یہ کمیٹی قرارداد پر متفق ہو سکے گی یا پھر یہ معاملہ دوبارہ سے پارٹی سربراہان کے ہاں حل کے لیے پہنچ جائے گا لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اب کی بار یہ سربراہان دبئی میں ہونگے۔ پاکستان میں یا پھر یورپ‘ امریکہ میں کیونکہ پہلے ہی نئی روایت چل نکلی ہے کہ ملک اور عوام کے فیصلے بیرون ملک ہونے لگے ہیں۔ اب کی بار شاید آصف علی زرداری جلدی میں ہاتھ نہ لگ سکیں۔ ادھر ضمنی انتخابات کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ اس سے کون فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ میاں محمد نوازشریف نے 12 مئی کا دن کیوں چنا‘ شاید انہیں عوام کے غیض و غضب کا یا پھر وکلاءکی تحریک چلانے کا خطرہ نظر آیا ہو۔ اس لیے انہوں نے تھوڑے دن کے انتظار کا چانس لیا ہے ورنہ تو وہ 28مئی کو اس قرارداد کے لیے رکھ سکتے تھے اور اس دن انہوں نے ملک کو ایٹمی قوت بنانے کے لیے جو دھماکے چند سال پہلے کیے تھے اب ملک کو پھر سے بچانے کے لیے اس کامیاب دن کا چناﺅ کر سکتے تھے اور اس دن ان کی زندگی کا دوسرا بڑا ایٹمی دھماکہ ہو سکتا تھا کہ جس دن وہ اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے اس دن منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن ہوگا اور یوں بیک جنبش ججز بحال ہو جائیں گے۔ (اللہ کرے ایسا ہی ہو) لیکن عوام میں اب بھی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ادھر پاکستان پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری دل میں کچھ اور ہی خواہش لیے پھرتے ہیں۔ 12 مئی کے بعد ان کے عزائم بھی کھل کر سامنے آ جائیں گے۔ قوم کو تھوڑا صبر کا امتحان دینا ہوگا۔ پھر دودھ کا دودھ پانی کا پانی سامنے آ جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میاں نوازشریف اپنے اعلان کردہ مو¿قف پر اب بھی قائم ہیں لیکن بعض فیصلوں میں تبدیلی، وزراءکا صدر پرویزمشرف سے حلف اور حالیہ پی سی او ججز کے رہتے ہوئے سابقہ ججز کی بحالی اور 30 دنوں میں ججز کا نہ بحال کر سکنا اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میاں صاحب اپنے سخت مو¿قف میں ملک اور قوم کی خاطر تھوڑی بہت تبدیلی قبول کر لیتے ہیں۔ میاں صاحب آج کل لندن میں بیگم کلثوم کے علاج اور آپریشن کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ نصیب فرمائے۔ ویسے تو ان کا اپنا ہسپتال لاہور میں موجود ہے جہاں پر دنیا بھر کے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں اس کے علاوہ ملک بھر میں جدید ہسپتالوں کی سہولت بھی موجود ہے لیکن پھر بھی میاں صاحب کا باہر علاج کے لیے جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک محب وطن اور عوام کا درد اور دکھ رکھنے والے سے ایسی امید نہیں کیونکہ ہمارے ہسپتال اور ڈاکٹر اس قابل ہیں کہ وہ کسی بھی مرض کا علاج کر سکتے ہیں۔ غریب اگر بیمار ہو تو وہ کیسے لندن نیویارک جائے گا۔ اس کا تو بڑے شہر (لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد) آنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ اس بارے میں وہ عوام کو کیسے جواب دہ ہونگے۔ ایسے میں حب الوطنی کا جذبہ شاید کم نہیں ہوتا شاید وہ ایسا ہی سوچتے ہوں۔ قوم کو مہنگائی سے چھٹکارا دلانے کے لیے آنے والی حکومت نے تین دفعہ پٹرول مہنگا کردیا ہے۔ جون سے پہلے بھی مزید قیمت بڑھانے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ لوڈشیڈنگ کا تحفہ کوئی کیونکر بھولے گا۔ ہم تو دعا گو ہیں کہ اللہ کرے کہ ججز کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے اور جلد فیصلہ ہو تاکہ قوم اس مصیبت سے چھکارا حاصل کر سکے کیونکہ عوام کی تو خواہش ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے اور ان کے مسئلے مسائل کے حل کی جانب توجہ دے جس کے لیے عوام نے انہیں ایوانوں میں بھیجا ہے۔

 










© 2008 All Rights Reserved. Urdu Times Group of Publications
sponsors: air purifier