دبئی(اےن اےن آئی) القاعدہ نے سعودی عرب کے بین المذاہب مکالمے کو نامعقول ا ور اسرائیل سے مذاکرات کا بہانہ قرار دیا ہے۔ غےر ملکی مےڈےا کے مطابق اسامہ بن لادن کے دست راست ایمن الظواہری نے انٹر نیٹ پر اپنا آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ ایمن الظواہری نے سعودی عرب کے شاہی خاندان پر امریکا اور اسرائیل کے تعاون سے جہادیوں کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ایمن الظواہری نے انڈونیشیا ،بالی بم دھماکوں کے الزام میں سزائے موت پانے والے تین نوجوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ ایمن الظواہری نے کہا کہ یہ نوجوان اپنے کام کی قدر و قیمت سے آگاہ تھے جو انہوں نے ادا بھی کی اور بالی میں بم دھماکے کرنے والے امروزی نورہاشم، علی غفران اور عبدالعزیز ان کے ہیرو ہیں۔ایمن الظواہری نے سعودی عرب کے تعاون سے گزشتہ ماہ ہونے والی بین المذاہب کانفرنس کو بھی لاحاصل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد اسرائیل سے مذاکرات تھا۔ القاعدہ کے رہنما نے انڈونیشیا اور دیگر مسلمان ملکوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد میں شریک ہونے سے روک رہے ہیں۔