لہسن اور پیاز کا استعمال کینسر سے بچاؤ میں اہم کردارادا کرتے ہیں
لہسن اور پیاز کا استعمال کینسر سے بچاؤ میں اہم کردارادا کرتے ہیں
اطالوی تحقیق (اردو ٹائمز) برصیغر
میں تیار ہونے والا شاید ہی کوئی سالن ایسا ہو جس میں پیاز یا لہسن شامل نہ کیا
جاتا ہو۔ اگرچہ بہت سے لوگ سالن میں استعمال ہونے والی ان دونوں چیزوں کو انکی تیز
بو کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تاہم مغرب میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیاہے کہ
لہسن اور پیاز کو کثرت سے استعمال کرنے سے کینسر میں بچاؤ ممکن ہے۔ اطالوی ریسرچرز نے اپنی تحقیق کی روشنی میں یہ
بات واضح کی ہے کہ وہ لوگ جن کی غذاؤں میں پیاز لہسن اور اس طرح کی یگر بصلی چڑی
بوٹیاں زیادہ استعمال ہوتی ہیں ان کو مختلف اقسام کے کینسر لاحق ہونے کا امکان ان
لوگوں کی نسبت بہت کم ہوتا ہے جو اس قسم کی بودار جڑی بوٹیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔
میلان میں انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ فار ماکولوجی "ماریونینکری" کے ریسرچرز
کارلونا گیلون اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ لہسن اور پیاز کی طبی افادیت
کےبارے مٰں پہلے بھی بہت سے دعوے کئے
جاتے رہے ہیں لیکن اس ضمن میں سائنسی تحقیق پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ اس ریسرچ کے
سلسلے میں ان لوگوں نے کینسر سے متعلق متعدد اطالوی اور سوئس جائزوں کی روشنی میں اعداد
و شمار اکٹھے کئے ہیں جس میں مختل جسمانی حصوں مثلاََ منہ ، غذا کی نایل ، قولون ،
چھاتی ، ہیضہ دانی ، گردے اور نرخرے کے کینسر اور پیاز و لہسن کے استعمال کے
درمیان تعلق کو اجاگر کیا گیاہے۔ دیکھا یہ گیاکہ کینسر کے مریضوں نے ہفتے میں اپنے
کھانوں میں زیادہ سے زیادہ 14 مرتبہ پیاز استعمال کی تھی جبکہ کینسر سے محفوظ
افراد نے ہفتے میں پیاز کے 22 پورشنز استعمال کئے تھے۔ اس طرح لہسن کا استعمال بھی
کینسر کے مریضوں میں کم دیکھا گیا تاہم چھاتی ، ہیضہ دانی اور پروسٹیٹ کینسر کے
مریضوں نے لہسن مناسب حد تک استعمال کیا تھا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زیادہ
پیاز کھانے والوں میں منہ اور غذا کی نالی کے سرطان کا خطرہ بھی کم دیکھا گیا۔ اس
کے ساتھ جن لوگوں نے لہسن کو اپنی غذا میں اہمیت دی تھی اس سے ان میں آنتوں اور
گردے کے ایک قسم کے کینسر کا امکان گھٹ گیا تھا۔ ریسرچ میں یہ بھی دیکھا گیا کہ
دیگر سبزیوں کے ساتھ پیاز اور لہسن کو ملا کر استعمال کرنے سےان کی طبی افادیت پر
کوئی منفی اثر نہیں پڑتا تھا۔