امریکہ
(اردو ٹائمز) طبی ماہرین نے اخروٹ ، بادام اور دیگر گری دار میوؤں کا قریب سے جائزہ
لینا شروع کیا تو انہوں نے دیکھا کہ یہ لذیذ ، خوش ذائقہ اور خستہ غذائیں وٹامنز،
معدنیات اور اینٹیا ٓکسیڈنٹس سے بھرپور ہیں۔ ان خشک گرمی دار میوے یا مغزیات کے
بارے میں طویل عرصے سے یہ بات مشہور تھی کہ ان میں چکنائی اور حرارے زیادہ ہوتے
ہیں جس کی وجہ سے اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے خواہش مند افاد ان مغزیات کو
ممنوعہ غذاؤں کی فہرست میں شامل رکھتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مغزیات میں جس چکنائی سے ہم خائف تھے، اس
قسم کی چکنائی ہمارے دل کی صحت کیلئے مفید ہے اور ہم ان کی مدد سے زیادہ طویل عرصے
تک دوڑ بھاگ کرنے کے قابل رہ سکتے ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 2003
میں ان نتائج پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈیڑھ اونس
گری دار میوے روز استعمال کرنے سے امراض قلب کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے
کہ ان مغزیات میں پائی جانے والی بیشتر چکنائی مونو ان سیچورینڈ اور پولی ان
سیچورینڈ ہوتی ہے جو خون میں موجود "خراب" ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح
گھٹا دیتی ہے۔ طبی ماہرین کا یہ بھی دعوی ہے کہ مغزیات میں موجود چکنائیاں دوڑنے
والوں کے لیے بے انتہا مفید ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں سوزش کم کرنے والی خوبیاں
ہوتی ہیں اور دوڑ بھاگ میں پٹھوں کو جو نقصان پہنچتا ہے ، یہ چکنائیاں ان کی مرمت
کر سکتی ہیں۔