امراض قلب اور اسٹروک سے بچنے کیلئے بغیر دودھ والی چائے پیئں
امراض قلب اور اسٹروک سے بچنے کیلئے بغیر دودھ والی چائے پیئں
صحت و تندرستی (اردو ٹائمز) برلن یونیورسٹی کے شرائٹ
ہاسپٹل میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چائے سے خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے اور
شریانیں زیادہ لچکدار ہوتی ہیں تاہم اگر اس چائے میں دودھ ملا دیا جائے تو پھر اس
کی امراض قلب سے بچانے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ چائے پینے سے دل کی بیماری اور اسٹروک کا خطرہ کم ہو سکتا ہے لیکن صرف اس چائے سے جس
میں دودھ شامل نہ کیا گیا ہو۔ مذکورہ اسپتال کی کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر ویرینا اسٹانگل
نے کہا ہے کہ سادہ چائے پینے کے جو فوائد ہوتے ہیں ا س میں دودھ کی شمولیت سے پانی
پھر جاتا ہے۔ ڈاکٹر اسٹانگل اور ان کی ٹیم
نے تحقیق کے دوران معلوم ہوا ہے کہ دودھ میں موجود کیسین نام کے پروٹین چائے میں پائے جانے والے کیٹے
چن مرکبات کی مقدار کو کم کر دیتے ہیں۔
چائے میں موجود یہ کمپاؤنڈز دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
یوپیئن ہارٹجرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیقی رپورٹ میں ریسرچرز نے کہا ہے کہ اس
سے یہ وضاحت بھی ہوتی ہے کہ برطانیہ میں جہاں دودھ والی چائے ہی عام طور پر
استعمال کی جاتی ہے، ایسی چائے پینے کے باوجود امراض قلب اور اسٹروک کی شرح میں کوئی
کمی دیکھنے میں کیون نہیں آتی۔ ریسرچرز نے اپنی تحقیق کیلئے کھولتے ہوئے پانی میں
چائے کی پتیوں کو جوش دے کر دودھ ملائےبغیر اسے 16 صحت مند خواتین کو پلایا تھا۔
اس کے بعد الٹراساؤنڈ استعمال کرتے ہوئے چائے پینے سے پہلے اور اس کے دو گھنٹے کے
بعد بازوکی ایک کارکردگی کی پیمائش کی تھی جس میں دیکھا گیا کہ سادہ چائے کے
استعمال سے شریانیں پھیل گئی ہیں اور خون کا بہاؤ بہتر ہو گیا ہے جبکہ چائے میں دودھ شامل کرنے سے شریان میں پھیلاؤ نہین
دیکھا گیا۔ اسی قسم کے تجربات چوہوں پر بھی کئے گئے۔ انہیں جب کالی چائے دی گئی تو
ان کے جسم میں نائٹرک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہو گئی جس سے خون کی نالیاں پھیلتی ہیں
لیکن دودھ ملی چائے سے یہ اثر ختم ہو گیا