پولینڈ (اردو ٹائمز) پولینڈ کے سائنسدانوں نے کہا ہے
کہ اگر آپ اپنی صحت کی بہتری کےلئے سیب کا جوس پینا چاہتے ہیں تو اس پھل کا تازہ
نکالا ہوا وہ جوس پیئیں جس میں اس کے گودے کا گدلاپن موجود ہوتا ہے کیونکہ یہ گدلا
جوس سیب کے اس صاف شفاف جوس سے کہیں بہتر ہے جو گتے کے ڈبوں میں یا بوتلوں میں بند
ملتا ہے۔ پولش سائنسدانوں نے گدلے سیب کے جوس میں اینٹی آکسیڈنٹس کی سطح تقریباََ
دگنی پائی تھی۔ یہ وہ غذائی جزو ہے جو ہمیں دل کی بیماریوں اور کینسر سے محفوظ
رکھتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس جن کو پولی فینولز بھی کہتے ہیں بیریوں اور سیاہی مائل
چاکلیٹوں میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ جرنل آف دی سائنس آف فوڈ اینڈ ایگرلیکلچر میں
شائع ہونے والی رپورٹ میں ریسرچرز نے کہا ہے کہ صاف شاف ایپل جوس کی تیاری اور
پیکنگ کے عمل کے دوران بہت کم پولی فینولز باقہ رہ جاتے ہیں۔ روکلا کی زرعی
یونیورسٹی میں ان ماہرین نے سیب کے صاف اور گدلے جوس میں Procyandins کی مقدار ناپی تھی۔ سیب کے ان اہم مرکبات
میں پولی فینولز شامل ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گدلے جوس میں جس میں زیادہ
گودا ملا ہوا تھا، اینٹی آکسیڈنٹس وافر مقدار میں موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ
صاف شفاف سیب کے جوس کیلئے استعمال کئے جانے والے اینزائیم سے اور گودے کو الگ کر
کرکے جوس کو صاف کرنے کے عمل کے دوران ڈھیر سارے پولی فینولز ضائع ہو جاتے ہیں۔