واشنگٹن (اردو ٹائمز) مائیگرین ایک
ایسی بیماری ہے جو دماغ میں ایک قسم کے برقی طوفان سے پیدا ہونے والے روشنیکے بصری
جھماکے یا زگ زیگ لائینز ہوتی ہیں۔ اوریز مائیگرینز کے درد پیدا کرنے سے پہلے آتے
ہیں۔ اس دماغی درد کے علاج کا ایک جدید آلہ طبی سائنسدانوں نے ایجاد کیا ہے جسے
"ٹی ایم ایس" کہتے ہیں ۔ یہ ٹی ایم یاس کہلانے والا آلہ مائیگرینز سے
متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کر سکے گا۔ ہیر ڈارئیر کے سائز کا یہ آلہ ٹی ایم ایس
اورا کے شروع ہونے پر مریض کے سر کے قریب رکھا جاتا ہے وہ مقباطیسی میدان کی دو
مختصر لہریں دماغ میں پہنچتا ہے۔
البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن
کے ڈاکٹر رچرڈ لپڈن اس تحقیق کے مصنف ہیں۔ ڈاکٹر رچرڈ لیڈن کا کہنا ہے کہ مجھے اس
بات کا پورا یقین ہے کہ یہ لہریں اورا کے دوران دماغ میں پیدا ہونے والے برقی
طوفان کو روکتی ہیں۔ ان کے مطابق ٹی ایم ایس ، اورا سے متاثرہ لوگوں کے لیے مفید
ثابت ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق نے اوریز کے ساتھ مائیگرینز سے متاثرہ دو سو مریضوں کا
جائزہ لیا گیا۔ نصف کو ٹی ایم ایس جب کہ باقی نصف کو ایک کھلونا آلہ دیا گیا۔ ٹی
ایم ایس کو استعمال کرنے والے کئی لوگوں نے کہا کہ دو گھنٹے کے وقفے کے بعد ان کا
درد ختم ہو چکا تھا۔ سر کے درد کی امریکن سوسائٹی کی سٹڈیز سے ثابت ہوتا ہے کہ مائیگرین کے مریضوں
میں سے صرف آدھے کو دستیاب علاج سے فائدہ ہوتا ہے۔ مائیگرینیز کے باعث امریکہ میں
ہونے والے کام کے ضیاع کا اندازہ سالانہ تیرہ ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ عالمی ادارہ
صحت کا اس بارے میں کہناہے کہ مائیگرینز مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دو سے تین
گنا جبکہ سفید فام لوگوں مین افریقیوں اور ایشینز کے مقابلے زیادہ عام ہیں۔