امریکہ (اردو ٹائمز) امریکہ میں
ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن نوجوانوں کو غصہ آتا ہے
وہ اپنی صحت کے لیے بہت سے مسائل پیدا کر لیتے ہیں اور موٹاپے کا بھی شکار ہو جاتے
ہیں۔امریکی ہارٹ ایسویشن کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محقیقین نے کہا کہ غصہ
کو دیکھنے سے بھی صحت کے کئی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ٹیکساس یونیورسٹی میں قائم صحت
کے مرکز میں ڈاکٹروں نے ایک سو ساٹھ بچوں کا جن کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان
تھیں ، تین سال تک مشاہدہ کیا۔ انہوں نے نفسیاتی طریقے استعمال کر کے یہ مشاہدہ
کرنے کی کوشش کی کہ ان بچوں میں کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اس مشاہدے سے نتیجہ نکلا کہ جو
لوگ اپنے غصے پر قابو پا لیتے ہیں ان میں موٹاپے کی طرف مائل کرنے والے مادے کم
ہوپیدا ہوتے ہیں۔ دل کے معالجوں کا بھی کہنا ہے کہ موٹاہے کی وجہ سے دل کی بیماری
لاحق ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو اپنے غصے پر قابو پانے میں مشکل
پیش آتی ہے ان میں ایسے فاسد مادے زیادہ پیدا ہوتے ہیں جن سے ان کا وزن بڑھ جاتا
ہے۔ ڈاکٹر ولیم میولر کے مطابق غصے کی وجہ سے لوگوں کے کھانے پینے کے اوقات خراب
ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان مین دل کے امراض کم عمری ہی میں پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ڈاکٹرز
کا کہنا ہے کہ بچوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کرنا بہت ضروری ہےاور یہ مسائل ورزش
اور غذا سے نہیں بلکہ اس کے لیے نفسیاتی مسائل کا حل ہونا بھی ضروری ہے۔