ٓسٹریلیا
(اردو ٹائمز) اومیگا تھری سے لبریز غذاؤں مثلاََ زیادہ تیل والی مچھلیوں کے استعمال سے
بنیائی برقرار رہتی ہے یہ بات آسٹریلوی ریسرچرز نے اپنےایک بیان میں کہی ہے۔ آسٹریلوی
ریسرچرز کا کہناہے کہ بصارت سےمحرومی کے لیے تیل والی مچھلی ایک مفید غذا ہے ۔ اینلز
آف آفتھا لمولوجی کےایک جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اومیگا تھری بنیائی کی
برقرای ، آنکھ کے پردے کو خراب کرنے والے امراض کے امکانات کو ایک تہائی حد تک کم
کرنے کے ساتھ ساتھ عمر میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔ ( اے ایم ڈی) بڑھتی عمر کی
ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج ابھی تک سائنس
کے لیے ممکن نہیں ہے یہ ایک ایسی بیماری
ہے جس میں آنکھ کی پُتلی کے پیچھے حساس پردہ ہوتا ہے جس کا درمیانی حصہ باریک ہوتا ہے اس میں خون کا رساؤ
شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر 60 سال سےزائد عمر کے افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جس میں ان کی بینائی کمزور ہو
جاتی ہے اور وہ چیزوں کو صاف طورپر نہیں دیکھ پاتے۔ میلیورن یونیورسٹی میں تازہ ترین تحقیق سے اس
سلسلے میں کی گئی سابقہ 9 تحقیقات کے نتائج کو تقویت ملی ہے۔ ماہرین نے ہدایت دی
ہے کہ اے ایم ڈی کےخطرات کو کم کرنے کے لیے ہفتے میں کم از کم دو بارہ ایسی
مچھلیاں ضرور استعمال کرنی چاہیں جن میں تیل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ آنکھوں کی
اس بیماری کا خطرہ ان لوگوں میں 38 فیصد تک کم دیکھا گیا ہے جو کم مچھلی کھانے
والوں کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اپنی غذاؤں میں شامل
کر رہے تھے۔