کراچی (اردو ٹائمز) ماہرین کاکہنا
ہے کہ بچوں پر تشدد ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ، پی ایم اے کے تحت
منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں پر ہونے والے تشدد جس
کے شکار وہ زیادہ تر گھروں پر ہی ہوتے ہیں ان
سے ان کی جذباتی ، جسمانی ، دماغی نشوونما پر بری طرح اثرانداز ہوتی ہے جس
کے اثرات ان کی شخصیت پر نمودار ہوتے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نرگس نے کہا کہ
بچہ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی دونوں تشدد کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ تشدد جسمانی ،
ذہنی اور جنسی ہوتے ہیں بچے اس تشدد کے صدمے سے بے حد متاثر ہوتے ہیں جو ان کے
قریب ترین رہنے والے لوگ مثلاََ والدین ، رشتے دار یا ٹیچرز وغیرہ کرتے ہیں۔انہوں
نے کہا کہ ضروری ہے کہ والدین نہ صرف بچوں
ہر تشدد سے پرہیز کریں بلکہ اگر ان کی شخصیت پر تشدد کے اثرات ہیں تو وہ انہیں ان
سے باہرنکالنے میں بھی اپنی صلاحتیں بروئے کار لائیں کیونکہ اگر ان کی زندگی پر اس
کے اثرات پختہ ہوگئے تو وہ ساری زندگی کے لیے ان کی شخصیت کو مسخ کر دیں گے۔ ڈاکٹر
امان اللہ سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک غیر سرکاری ادارے کے سروے کے مطابق
15٫20 فیصد بچوں پر تشدد کام کی جگہوں پر ہوتا ہے جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں
شامل ہیں 49 فیصد بچوں پر شدد کرنے والے ان کے رشتے دار ہوتے ہیں 43 فیصد بچے اپنے
ساتھیوں اور مدگار وغیرہ کے تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر
والدین کو بچوں کو ان حالات سے نکالنے میں
مشکل درپیش ہے تو وہ ماہر نفسیات کی مدد بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ سیمینار کے
اختتام پر پی ایم اے کی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ حکومت صحت کو
اس سنجیدہ مسئلے کی جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے، اس حوالے سےآگہی کیلئے میڈیا پر
مہم چلائی جائے۔ اس کے علاوہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبر لاءز پر فوری عمل کروایا
جائے اوربچوں کے تحفظ یعنی انہیں تشدد سے
دور رکھنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔