سکھر
(اردو ٹائمز) آج بھی پاکستان کے چھوٹے گاؤں قبصوں میں صاف پانی کی سہولت میسر
نہیں ہے مجبوراََ لوگوں کو گندہ پانی پینا پڑتا ہے جس سے طرح طرح کی بیماریوں کا
شکار ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کی صورتحال آج
کل سکھر کی بھی ہے جہاں کے گنجان آبادی والے علاقوں ڈھک روڈ، باغ حیات علی شاہ ،
نشتر روڈ اور میانی روڈ سمیت دیگر علاقوں میں تعلقہ میونسپل ایڈمنسٹریشن کی جانب
سے سپلائی کیا جانے والا پانی صاف نہیں ہوتا جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں خاص
کر بچوں میں ہپاٹائٹس ، گیسٹرو سمیت پیٹ کی مختلف بیماریاں پھیلنے کا خطرہ ہے ،
ڈاکٹرز کے مطابق گیسٹرو اور ہپاٹائٹس سمیت پیٹ کی دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا بڑا
سبب پینے کے پانی کا آلودہ ہونا ہےکیونکہ اکثر لوگ پانی ابال کر استعمال نہیں
کرتے جس سے وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سکھر کے مختلف حلقوں کا کہنا ہے
کہ میسر ہونے والے پینے کے پانی میں پھٹکری کی مقدار مطلوبہ نہیں ہوتی ان کا متعلقہ حکومت سے مطالعبہ ہے
پینے کے صاف پانی کی سپلائی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے تا کہ لوگ بیماریوں سے
محفوظ رہ سکیں۔ ان بیماریوں کے شکار افراد مین زیادہ تعداد بوڑھوں اور بچوں کی ہے۔