کراچی (اردو ٹائمز) پولیو ایک ایسا وائرس ہے جو کسی
بھی جسم میں داخل ہو جائے تو اس میں بیماریوں کے انبار لگا دیتا ہے اور بدقسمتی سے
پاکستان کا شمار دنیا کے چند ایسے ممالک میں ہوتا ہے جہاں ابھی تک پولیو وائرس
موجود ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود ملک میں پولیو
کی موجودگی حیرت کا باعث ہے۔ دنیا بھر میں اب پاکستان اس اعتبار سے بھی موضوع
گفتگو ہے کہ یہاں مختلف شہروں خاص کر سندھ میں پولیو کا وائرس اب 5 سال سے بڑے
بچوں کو بھی اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔ سانگھڑہ ڈسٹرکٹ میں اب تک ایسے 4 واقعات زیر
نظر آچکے ہیں جن میں سے 9 سالہ جلال نامی بچے کےپولیو وائرس سے متاثر ہونے کا
واقع بھی زیر نظر ہے، جو نہ صرف صوبائی و ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صحت و
تندرستی اداروں کے لیے تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایمونائزیچن ہیلتھ گورنمٹ آف
سندھ (ای پی آئی) کے نئے ڈائریکٹر ڈاکٹر مظہر علی خمیسانی نے کہا ہے کہ اس سلسلے
میں وفاقی حکومت کو پالیسی بنانےکی ضرورت ہے کیونکہ وہ اپنے پروگرام کے تحت 5 سال
تک کےبچوں کوپولیو محفوظ ویکسینیشن پلانے
کے ذمہ دار ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سندھ میں پیش نظر مسائل کی بڑی وجہ روٹین ایمونائیشن
کی مکمل کوریج نہ ہونا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت ہمیں صحرائی علاقوں
میں نیشنل ایمونائزیشن ڈے منانے کی اجازت نہیں دیتا اسی لیے وہاں پر پولیو سے
متاثرہ کیسز نظر آئے ہیں۔ آی پی آئی کے مطابق اس سال سندھ میں ہولیو سے متاثرہ
بچوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے یہ کیسز مختلف شہروں سے درج ہوئے ہیں۔