ممبئی (اردو ٹائمز) لاکھوں دلوں پر
حکومت کرنے والی بالی وڈ کی خوبصورت اداکارہ رانی مکھر کا کہنا ہے کہ وہ فلمی دنیا
میں آنے کو برا سمجھتی تھیں کیونکہ انہیں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں
تھا اور انہیں فلموں میں داخل ہونے پر شدید حیرانگی ہوئی تھی۔ بنگال کی اس خوبصورت
حسینہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ثقافتی جھٹکا تھا جو انہیں فلمی دنیا میں داخل ہوتے
وقت محسوس ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ان کا اسکرین کا پہلا ٹیسٹ ہو رہا تھا تو
وہ یہ محسوس کر رہی تھیں کہ یہ سب کچھ اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں ہے اور نہ ہی رسم
و رواج سے مناسبت رکھتے ہیں، خصوصا اس وقت انہیں سخت جھٹکا لگا جب انہیں منی
اسکریٹ پہننے کوکہا گیا جو اس سے قبل انہوں نے کبھی اپنی زندگی میں استعمال نہیں
کیے تھے۔ رانی مکھر نے کہا کہ اس وقت انہیں سخت غصہ آرہا تھا اور ان کا جی چاہ
رہا تھا کہ مجھے مسترد کر دیا جائے لین فلمی دنیا میں داخل ہوتے وقت ہچکچانے اور
شرمانے والی لڑکی آج فلمی دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہے اور خود کو بے حد مطئمن
محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بالی وڈ میں اپنی اس پہچان پر میں اپنے خاندان
خصوصا والد کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے مجھے ہر قدم پر سپورٹ کیا اور
فلموں میں کام کرنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ اپنی پہلی فلم "راجہ کی آئے گی
بارات" کے بعد رانی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کامیاب ی کی منزلیں طے
کرتی رہیں۔ ان کامیابی کی سڑھیوں کو پار کرتے کرتے آج وہ اینجل بن کر اپنی نئی
فلم "تھوڑا پیار تھوڑا میجک" میں ملکوتی کردار ادا کر رہی ہیں اس رول کے
بارے میں ان کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں اور اس بات پر نازاں ہیں کہ وہ اس فلم میں
یتیم بچوں کے لیے فرشتہ بن کر آئیں۔