بیجنگ میں ہونے والی اولمپک گیمز
کے بارے میں سب کا یہی خیال ہے کہ وہ کامیاب ضرور ہوں گی۔ جس طرح کی تیاریاں کی
گءی ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انعقاد پہلے شاءد ہی دیکھنے میں آیا ہو۔ چینیوں
کے اندر کام کرنے کا ایسا جذبہ اور لگن نظر آ رہے ہیں کہ ان دنوں بیجنگ کچھ بھی
کہے کرنے کو تیار ہو جاءیں گے۔ فوجی پروجیکٹس کے ساتھ ساتھ خلاءی پروگرام بھی چینیوں
کی پہلی ترجیح ہیں۔ ان حالات میں اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ
آءندہ سالوں میں خلاءی شطرنج کی بساط پر کءی قابل ذکر تبدیلیاں دیکھنے میں آ
سکتی ہیں۔ اگر چین اپنے منصوبوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ہو سکتا ہے
مستقبل قریب میں خلاءی تسخیر کی اس دوڑ میں سب ملکوں سے آگے نکل جاءے۔
چین نے اپنی خلاءی کامیابیوں کا آغاز 1970 میں کیا
جب اپنے ملک کا بنا ہوا سیٹیلاءٹ خلا میں بھیجا۔ 1960 میں سوویت یونین سے علیحدہ ہونے کے خلاءی
دوڑ کا یہ پہلا دور تیکنالوجی کی کمی پر قابو پانے کی ایک کوشش سی تھی۔ چین نے
راکٹ اور ملٹری سیٹیلاءٹ بنانے پر زور دینا شروع کیا۔ 1970 سے 2000 تک چینکامیابی سے 50 خلاءی جہاز خلا میں بھیج چکا ہے۔