بجلی پیدا کرنے کے لءے دریاؤں کی تہوں میں مڑے ہوءے پلاسٹک کا استعمال
پہلے غلہ گاہنے اور پھر بجلی پیدا
کرنے کے لءے انسان صدیوں سے دریاؤں اور ندیوں پر بند باندھتا آیا ہے۔ اب ایک اور
ٹیکنیک پین کے وینڈرگرفٹ شہر میں اپنا آغاز کرنے والی ہے۔ دریاءے کشمینیٹاز پر بجلی پیدا کرنے والے چھوٹے موٹے
آلات کی مدد سے وینڈرگرفٹ شہر کی 20 سے 40 فیصد بجلی پیدا کرنے کی ایک اور ترکیب
استعمال میں لا رہا ہے۔ اس پروجیکٹ میں شامل پٹزبرگ یونیورسٹی کی ساءنسدان لیزا
ویلینڈ کا کہنا ہے کہ وینڈرگرفٹ ایک مثالی شہر بننے کے راستے پر چل پڑا ہے۔
مندرجہ بالا طریقے سے بجلی پیدا
کرنے کے لءے پلاستک کے ٹکڑے جو ایک ایسے میٹیریل سے بنے ہوءے ہوں گے جو حرکت کرنے
کے ساتھ ساتھ کرنٹ پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو گا ، دریا کے اتار چڑھاؤ پر
رکھ دیے جاءیں گے۔ ویلینڈ کا کہنا ہے کہ اس پلاستک کے علاوہ بھی کچھ ایسے میٹیریل
ہیں جو بجلی کے اچھے موصل ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم صرف پولی وینی لی دین فلوراءڈ
سے بنے پلاسٹکے ٹکڑے ہی استعمال کریں گے تاکہ ایکوسسٹم بہتر کام کر سکے۔