۔ڈی
میں استعمال ہونے والی تیکنالوجی کو چھ سمتی تصویریں بنانے میں استعمال کیا جا رہا
ہے۔ چھ سمتی تصویریں روشنی اور دیکھنے والے کی سمت میں تبدیلیوں کو مدنظر رکھتی
ہے۔ کیونکہ ابھی تک ڈسپلے بہت چھوٹے ساءز کا ہے اس لءے محققین کا کہنا ہے کہ آنے
والے ایک دو سالوں میں وہ اسے یعنی چھ سمتی ٹیکنیک کو سات سمتی تیکنیک تک لے جا
سکتے ہیں اور ایسی تصیریرں بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو کہ اصل کے بہت زیادہ
قریب ہوں گی۔ ایم آءی ٹی کے ساءنسدان رمیش راسکر جنہوں نے اس ساری ٹیکنیک کو آگے
بڑھانے میں مدد دی ہے کا کہنا ہے کہ وہ روشنی کی مدد سے تبدیلیاں دکھانے والے سب
سے پہلے لوگ ہیں۔