لندن
(اردو ٹائمز) دنیا بھر میں ہر سال تقریبا 30 لاکھ افراد مختلف حادثات میں زخمی
ہونے کے بعد ہلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے جسم سے جاری ہونے والا خون روکنے میں
کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن اب سائنسدانوں کوان ہلاکتوں میں کمی کی امید ہے
کیونکہ ان کے خیال میں اس وقت معمول کی سرجری کے دوران استعمال کی جانے والی ایک
دوا ایسے زخمیوں پر آزما کر انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے گا۔ لندن
اسکول آف ہائحجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر ایان رابرٹس کی قیادت میں ایک
ٹیم دو سال سے Trancxcnic Acid کے اثرات کا بغور جائزہ
لے رہی ہے۔ یہ وہ دوا ہے جو اوہن پارت سرجری کے مریضوں میں خون کے بہت زیادہ ضیاع
کو روکنے کے لیے کئی سال سے استعمال کی جا رہی ہے تاہم ابھی تک اس دوا کو ابھی تک
حادثات کے زخمیوں پر نہیں آزمایا گیا تھا۔ اب اس کا تجربہ 47 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 20
ہزار سے زیادہ مریضوں پر کیا جائے گا۔ انسانی جسم سے بتہ زیادہ خون نکلنے کی وجہ
سے موت واقع ہونے کی وجہ ہے کہ خون ہی جسم
کے تمام ٹشوز کو آکسیجن پہنتا ہے جو زندگی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ زخمی ہونے
کے بعد اگر بہت زیادہ خون بہہ جائے تو اس سے بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے اور اگر جسم کو
آکسیجن سے لبریز خون فراہم نہ ہو سکے تو تمام اہم اعضا کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔
پروفیسر ایان کا اس کے بارے میں کہنا ہے کہ مذکورہ بالا دوا سرجری کے مریضوں کا
خون بہننے سے روکنے میں بہت کامیابی ثابت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ اس کے استعمال سےہر
سال ہزاروں لاکھوں زخمیوں کی جانیں بچائی جا سکیں گی۔