ناسا کا فینکس نامی خلائی جہاز مریخ کے قطب
شمالی میں اتر چکا ہے۔ فینکس اپنے روبوٹی بازو کی پہنچ میں واقع جمے ہوئے پانی کے
امکانات والے کسی مقام کا جائزہ لینے کے لیے تین ماہ تک قطب شمالی کے اس علاقے کا
جائزہ لیتا رہے گا۔
ریڈیو سے موصول ہونے والے سگنلوں کے مطابق مریخ
پر اترنے والے فینکس نے مشرقی وقت کے مطابق شام 7 بجکر 53 منٹ اور 44 سیکنڈ کو
اپنے اس مشکل مرحلے میں کامیابی حاصل کی اورمریخ سے زمین تک یہ سگنل روشنی کی
رفتار سے پہنچے۔
پیسہ ڈینا کیلف پر واقع ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری،
ڈینور پر واقع لاک ہیڈ مارٹین سپیس سسٹمز اور ٹسکن کی یورنیوسٹی آف ایریزونا کی
مشن ٹیم کے ارکان نے فینکس کے اترنے پر خوشیوں بھری مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا اور
رات گئے تک مزید معلومات آنے کا انتظار کرتے رہے۔ جے پی ایل کنٹرول روم میں دوسرے
لوگوں کے ساتھ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر مائیکل گریفن بھی موجود تھے جنہوں نے بتایا کہ 1976
میں وائکنگ 2 کے بعد مریخ پر ائیر بیگز کے بغیر کامیابی سے اترنے کا یہ پہلا موقع
ہے۔ مائیکل گریفن نے کہا کہ انسانی تاریخ میں تیسری بار اور پچھلے 32 سالوں میں
پہلی بار جے پی ایل کی ٹیم مریخ پر اترنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس
ناقابل یقین کامیابی کو دیکھنے کے لیے ان کا بذات خود مریخ پر نہ ہونا ایک کمی سی
محسوس کراتا ہے۔