اردو ٹائمز(نیوز) چین میں افراط زر کی شرح 5.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پانے کیلئے ایک ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے چین کی معیشت کو شدید دباﺅ کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود معاشی بنیاد مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کی اقتصادی ترقی کی شرح پر ابھی زیادہ مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ رواں سال کے دوران ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کی شرح 10 فیصد سے زائد رہنے کا امکان ہے جبکہ افراط زر کی شرح 7.9 فیصد سے زائد رہے گی۔ اقتصادی ماہرین نے کہا کہ زرعی اور صنعتی شعبہ کی بہتر کارکردگی کی جانب سے چین کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں لیکن معیشت کو مستحکم کرنے اور افراط زر پر قابو پانے پر اسے مزید ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ عالمی اقتصادی کساد بازاری کے اثرات سے اس کی معیشت بھی محفوظ نہیں رہ سکے گی۔