اردو ٹائمز(نیوز) ملائیشیا کی حکومت کو عالمی سطح پر ایندھن اور غذائی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے شدید دباﺅ کا سامنا ہے اور ملک میں افراط زر کی شرح بڑھ کر 7.7 فیصد ہو گئی۔ ملائیشیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت موجودہ صورتحال میں اقتصادی حکمت عملی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے امید ہے کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔ افراط زر کی شرح کو کم کرنے کیلئے مالیاتی شعبہ میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ استعمال کی اشیاءکی فراہمی بھی بہتر بنائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملائیشیا کی افراط زر کی موجودہ شرح گذشتہ 26 سال میں ایک ریکارڈ ہے جبکہ قبل ازیں افراط زر کی شرح 6.6 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔