اردو ٹائمز(نیوز)بھارت نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کیلئے چین کے اعتراض پر نکتہ چینی شروع کردی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود اپنی ایٹمی توانائی کے لیے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں اپنی شمولیت کے فیصلہ کو اپنے لئے جائز قرار دیا ہے چین نے واضح کیا ہے کہ بھارت این پی ٹی کارکن نہیں اس لئے وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل ہونے کا اہل نہیں بھارت کے دورہ پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ یانگ جچی نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب پرناب مکھر جی اور وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور بعد ازاں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کے دوران کہا کہ و نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شامل ہونے کے لئے بھارت کے موقف کو تسلیم نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے اور 1974ءاور 1998ءمیں ایٹمی دھماکے کرنے سے بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے نیوکلیئر سپلائر گروپ عالمی ایٹمی تجارت کو کنٹرول کرتا ہے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائن نے این ایس جی میں شمولیت کے لیے چین کی طرف سے حمایت نہ کرنے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے چینی وزیر خارجہ بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ کے حل کیلئے ان دنوں بھارت کے دورہ پر ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ یانگ جیچی نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کو خطہ میں امن کے قیام کیلئے کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنا چاہئے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اور بھارت کی اقتصادی ترقی ایشیاءکیلئے اچھا شگون ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک بھارت میں انفراسٹرکچر، ٹیلی کام، ہائی ٹیک اور بجلی کی پیداوار کے شعبہ میں معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔