|
کچھ خاص
|
|
Sunday, 15 November 2009 18:28 |
مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے“ خود سے 22 سال بڑے شخص کے منہ سے یہ الفاظ سن کر 19 سالہ لڑکی نے شرما کر فون بند کر دیا لیکن قسمت کے لکھے کو کبھی کوئی ٹال سکا ہے؟ لہٰذا مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یٰسین ملک آخر کار اپنی پاکستانی دلہن کو بیاہ کر مقبوضہ کشمیر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ جون 2005ءکا واقعہ ہے۔ مشال کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے، اس کے والد ایم اے حسین ملک ماہر اقتصادیات تھے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیلویلپمنٹ اینڈ اکنامکس کے ڈائریکٹر اور وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے بعدازاں جرمنی منتقل ہو گئے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وطن چلے آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مشیر بنے۔ مشال کی والدہ ریحانہ حسین ملک سیاسی خاتون ہیں اور مسلم لیگ سے د یرینہ وابستگی ہے مشال کا بھائی واشنگٹن میں مقیم اور خارجہ امور کے تجزیہ نگار ہیں، خود مشال ایک ماہر مصورہ ہیں متعد د این جی اوز کے ساتھ کام کر رہی ہیں ادب و شاعری سے گہرا لگاﺅ ہے، قدرت اور مناظر قدرت سے عشق ہے طبیعت میں رومانویت بھی ہے سچ یہ ہے کہ مشال خود بھی حسن قدرت کا انمول شاہکار ہے، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ کب پیاکا سندیسہ آیا اور اس کے دل کی دنیا کو آباد کر گیا۔ یہ جون 2005ءکی بات ہے مشال کی عمر صرف 19 سال تھی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے کشمیری رہنماﺅں کے اعزاز میں ظہرانے میں اس کی والدہ بھی مدعو تھیں۔ ماں نے بیٹے کو ساتھ چلنے کو کہا۔ مگر مشال کو سیاست اور سیاستدانوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ تاہم ماں کے حکم پر بادل نخواستہ ساتھ ہو لی۔ اسے کیا خبر تھی۔ تقریب اس کی زند گی بارے ایک اہم فیصلے کا باعث بن جائیگی۔ لنچ سے پہلے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک نے فیض احمد فیض کی نظم ”لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ جسے اقبال بانو نے عوامی انداز میں گایا تھا۔ بڑے جوش و جذبے کے ساتھ مائک پر آکر گائی، مشال جو فیض کی دیوانی تھی وہ یٰسین ملک کے پرجوش انداز سے بہت متاثر ہوئی ۔ لنچ کے دوران مشال سے ملاقات نے یٰسین ملک کے دل کے تاروں کو جھنجھوڑ دیا وہ یٰسین ملک جس کے خلاف بھارتی قانون ٹاﺅا کے تحت اب بھی 99 مقدمات درج ہیں جس کی زند گی کا بیشتر حصہ جیلوں اور تھانوں میں گزرا، 1990ءکی دہائی تک وہ مسلح جدوجہد کرتے رہے اور اس دوران انہوں نے بھارتی فورسز کا بے تحاشہ تشدد برداشت کیا تشدد کی وجہ سے ان کے چہرے کے پٹھے جواب دے گئے، لہٰذا انکی آنکھ اور دہن آج بھی متاثر ہیں۔ بعد میں انہوں نے آزاد کشمیر کے لئے پر امن راستے کا انتخاب کیا امن کی فاختہ نے جیسے ہی دل میں جگہ بنائی دل میں لطیف جذبات بھی جاگ اٹھے، مشعل سے پہلی ملاقات نے ان سوئے ہوئے جذبات کو زبان دی۔ کشمیرواپس جانے سے پہلے یٰسین ملک نے مشال کو فون کیا ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بڑی ساد گی سے دل کی بات زبان پر لے آئے اور کہا ”مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے“ مشال اچانک محبت سے گھبرا گئی اور فون بند کر دیا۔ یٰسین ملک نے جب اظہار محبت کیا تو ان کی عمر 41 اور مشال کی عمر صرف 19 سال تھی۔ مگر مشال نے اس مرد حر کے لہجے میں سچائی اور عزم محسوس کر لیا۔ لہٰذا قدرت نے بھی ایک موقع دیا۔ اور نیٹ پر میٹنگ کے دوران میں ایک مرتبہ پھر رابطہ ہو گیا۔ رابطے بڑھے۔ ایک دوسرے بارے معلومات کا تبادلہ ہوا دونوں میں بہت سی باتیں مشترک نہیں، دونوں با ذوق رومی اور فیض کے د لدارہ، شعرو ادب، مصوری، فلسفے سے لگاﺅ، اس ذہنی ہم آہنگی نے دونوں کو مزید قریب کر دیا۔ اور جس طرح یٰسین نے اچانک اظہار محبت کر کے مشال کو حیران کر دیا تھا اسی طرح اس نے اچانک شادی کی پیشکش کر دی مشال بھونچکا رہ گئی اور فوری کوئی جواب نہ دے سکی۔ کچھ روز بعد یٰسین ملک نے پھر خواہش ظاہر کی تو مشال نے بنچوری میں ہاں کر دی یٰسین ملک کے پاس خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ مشال کے عزیز و اقارب،رشتے دار بھی اس بندھن پر خوش تھے جس سے مشال کو اطمینان ہوا اور اپنے فیصلے پر خوشی ہوئی۔ لیکن یہ ملن دو سال تک محض سرحدی تقسیم اور دو ممالک کے قوانین کی وجہ سے لٹکا رہا۔ فریقین کو شادی کے انتظامات میں شدید دشواریاں پیش تھیں۔ اس سلسلے میں یٰسین ملک کو دو مرتبہ امریکہ جانا پڑا جہاں مشال کے بھائی سے بات چیت کی۔ حج کے موقع پر مشال اور یٰسین ملک کے والدین نے سعودی عرب میں ملاقات کی، تب کہیں جا کر معاملات طے پائے۔ جون 2005ءکو اسلام آباد میں پروان چڑھنے والی محبت کو راستہ اکتوبر 2008ءمیں ملا جب ان کی منگنی طے پا گئی۔ فروری 2009ءمیں نکاح ہوا اور ستمبر 2009ءمیں رخصتی عمل میں آئی لیکن سرینگر پہنچتے ہی یٰسین ملک کو پھر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ خوف یٰسین کے دل میں ہمیشہ رہا اب تک سالہا سال جیل میں گزارنے اور 6 مرتبہ قاتلانہ حملہ کا سامنا کرنے والے کو خدشہ رہا کہ جانے اس کی اہلیہ یہ سب کچھ برداشت کر سکے یانہ کر سکے۔ مگر مشال نے اس کے وسوسے دور کر دئیے اور آج دونوں مقبوضہ وادی میں خوش و خرم ہیں۔
|