تصاویر

Login

Online Users

None



مسلم فلسفے کا تاریخی ارتقاء PDF Print E-mail
کچھ خاص
Saturday, 14 November 2009 20:00

 

 

یعقوب کند ی : مسلم فلسفیوں کے قافلے کا پہلا راہ رو .2

کندی کے نزدیک علم کا سرچشمہ عقل ہے اور عقل ہی منبع ہدایت ہے اس لئے عقل الہام میں کوئی اختلاف نہیں ۔اس نے عقل کے چار مدارج گنوائے ہیں ۔

1۔ عقل فعال

2۔ عقل بالقوہ

3۔ عقل مستفاد

4۔ عقل بالفعل

وہ ان کی تشریح بھی کرتا ہے۔لیکن ان سب کو ایک مابینی رابطہ کے حوالے سے سمجھنا قدرے مشکل معلوم ہوا ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ بقا صرف عقل کی دنیا کو ہے اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری خواہشیں نہ ٹوٹیں اور ہم ان چیزوں سے محروم نہ کیے جائیں جو ہمیں عزیز ہیں، تو ہم پر لازم ہے کہ ہم عقل کی ابدی دولت، خوف خدا اور اعمال حسنہ کی طرف توجہ دیں۔ لیکن اگر ہم صرف مادی اشیاءکے طالب گارہیں تو گویا ہم اس چیز کی تلاش میں ہیں جو کوئی وجود نہیں رکھتی۔

روح کے متعلق اس کا خیال ہے کہ انسان میں ایک تو روح حیوانی ہوتی ہے جو دوسری ادنیٰ مخلوق میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ نفس ناطقہ یا روح بھی ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے منتقل ہوتی ہے۔ یہ لافانی ہے اور جسم کے تابع نہیں۔ گویا یہ دنیائے عقول سے دنیائے اجسام میں منتقل ہوتی ہے، اور اسی وجہ ہے ہمہ وقت اپنے اصل وطن کی طرف لوٹ جانے کیلئے مضطرب بھی رہتی ہے

۔ علم کے ذرائع کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ مزید تفصیل میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ علم کے دو ذر ذرائع ہیں:

عقل اور حواس اور یہ قوت متخیلّہ ہے جو عقل اور حواس کے مابین ربطہ قائم کرتی ہے۔ حواس صرف جزئیات کا مشاہدہ کرتے ہیں، جبکہ عقل کو کلیات کا ادراک ہوتا ہے۔

کندی کا ایک اہم رسالہ ”جواہرخمسہ“ پر ہے۔ اس کے مطابق یہ کائنات جن اصولوں کے تحت چلتی ہے، وہ انہیں ”جواہر“ کہتا ہے اور یہ یہ پانچ ہیں....

مادہ، صورت، حرکت، زمان اور مکان۔ مادہ اور صورت کے بارے میں تو وہ غیر واضح بات کرتا ہے لیکن حرکت کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ یہ چھ قسم کی ہوتی ہے۔ وہ تو خود جواہر کے تغیرات ہیں یعنی پیدائش اور فنا۔ دو کمیت کے تغیرات ہیں یعنی اضافہ اور کمی۔ ایک تغیر کیفیت کا ہے اور ایک تبدیلی مکان کا۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ زمانے خود حرکت کے مشابہ ہے۔ لیکن یہ حرکت ایسی ہے جو خط مستقیم میں یکساں رفتار سے ہو رہی ہے اور اس کا علم ہمیں ”پہلے“ اور ”بعد“ کی نسبت سے ہوتا ہے۔ مکان کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ اگرچہ مکان کو جسم کہا جاتا ہے لیکن دراصل مکان وہ سطح ہے جو جسم پر محیط ہوتی ہے اور جب جسم کو وہاں سے ہٹا لیا جاتا ہے تو بھی مکان کا وجود وہاں رہتا ے اور یہ خالی جگہ فوراً کسی اور جسم (مثلاً ہوا) سے پر ہو جاتی ہے۔

اپنے والد کے دورامارات میں کندی کی نشوونما تین خلفائے عباسیہ کی نظروں کے سامنے ہوئی۔ وہ خود جب سن شعور کو پہنچا تو دربار خلافت میں داخل ہوا اور مزید تین خلفائے عباسیہ.... مامون، معتصم اور واثق.... کے ایہ عاطفت میں زندگی بسر کی۔ مامون کی مصاحبت میں وہ خصوصاً خوش و خرم رہا اور اس کی علمی بحثوں اور لطف و کرم سے فیض یاب ہوتا رہا۔ یہ بات معاصرین میں حسد کے جذبات پیدا کر دیا کرتی ہے اور یہی کچھ الکندی کے ساتھ بھی ہوا۔

کندی کے معاصرین میں اس کا سب سے پہلا دشمن (جو بعد میں اس کے زمرہ تلامذہ میں بھی داخل ہوا) ابومعشر ہے جو اہل حدیث تھا اور اس کا مکان بغداد میں باب خراسان کی مغربی جانب واقع تھا۔ کندی سے اس کو سخت عداوت تھی۔ وہ نہ صرف علوم فلسفہ کی وجہ سے اس پر طعن و تشیع کیا کرتا تھا بلکہ لوگوں کو بھی اس کے خلاف ابھارتا رہتا تھا۔

دوسرا شخص جس نے اس کی کتابوں پر نکتہ چینی کی ہے اس کا نام قاضی ابوالقاسم ابن احمد القرطبی ہے۔ وہ کندی کی منطق کی کتابوں پر تبصرہ کرتے ہئے لکھتا ہے ”کندی نے جو اصل بیان کیے ہیں وہ بالکل سطحی اور عامیانہ ہیں اور علوم میں بہت کم مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔“ یہاں تک تو فکر مندی کی بات نہیں تھی لیکن کندی کی اصل بد نصیبی اس وقت شروع ہوئی جب خلیفہ متوکل تخت پر بیٹھا جو معتزلہ عقائد کے خلاف تھا۔ یہیں پر اس کے حاسدین کو اس کو نقصان پہنچانے کا موقع ہاتھ آگیا جو ظاہر ہے کہ اس کے مذہبی اعتقادات کو EXPLOIT کر کے ہی حاصل کیا جا سکتا تھا....

مگر کندی کے مذہبی خیالات کیا ہیں؟ پہلے ان پر بات ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ کندی ایک اچھے مسلمان کی طرح فلسفے کو مذہب کی کنیز سمجھتا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جو سچائی فلسفی تلاش کرتے ہیں وہ اس سچائی سے مختلف نہیں ہے جس کی طرف پیغمبر انسانوں کو بلاتے ہیں۔ قرآن کریم کی تفہیم کے سلسلے میں اس کا کہنا ہے کہ قرآن کے بعض مقامات پر تاویل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مثلاً سورة الرحمن کی آیت نمبر 6 کے متعلق جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے ”ستارے اور درخت سب سجدہ کرتے ہیں۔“ الکندی کے مطابق ہمیں یوں کہنا چاہیے“ ستارے اور درخت اس کے تابع فرمان ہیں“ گویا وہ ان ابتدائی لوگوں میں سے تھا جو قرآن کی تفسیر کے سلسلے میں تاویل کے حق میں تھے۔ لیکن وہ خاص مسئلہ یا عقیدہ جس کی وجہ سے مخالفین کو واویلا کرنے اور فوری گرفت کرنے کا موقع مل گیا، وہ واجب الوجود کے متعلق ایک خاص عقیدے کی بنا پر ہے جو اس نے اپنے رسالہ توحید، میں بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق کندی اور باقی معتزلہ کہتے ہیں کہ خداتعالیٰ علیم بذات ہے، اور قادر بذات ہے۔ یعنی وہ جانتا ہے، قدرت رکھتا ہے لیکن اس علم و قدرت کے لیے اس کو کسی صفت کی ضرورت نہیں۔ بخلاف اس کے جمہور مسلمین یعنی صفاتیہ گروہ کا کہنا ہے کہ خدائے تعالیٰ علیم اور قادر ان صفات قدرت کی وجہ سے ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہیں۔ یہ تمام صفات ذات سے متصل نہیں ہو سکتیں اور نہ شرک لازم آتا ہے۔ اب یہ ایسے خیالات ہیں جو اس سے قبل واصل بن عطاءعمروبن عبید، ابن الہیشم کے شاگرد نظام اور نظام کے شاگر جاحظ کے بھی تھے۔ لیکن اب چونکہ متوکل جیسے تنگ نظر خلیفہ کا زمانہ تھا، اس لیے اس کے مخالفین اور حاسدین کو آگ بھڑکانے کا موقع مل گیا اور انہی میں موسیٰ ابن شاکر کے دو شریز النفس بیٹے محمد اور احمد پیش پیش تھے۔ یہ سیاہ باطن ہر اس شخص کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہو جاتے تھے جو علم و معروفت میں کچھ شہرت حاصل کر لیتا تھا۔ جب کندی کے علم و فضل کا چرچا ہوا تو یہ دونوں اس کے بھی خلاف ہو گئے اور متوکل کے پاس شکایت کی ٹھانی۔ ان دنوں دربار خلافت میں کندی کا ایک دوست سندبن علی موجود تھا۔ پہلے تو اس نے اس کا معاملہ یوں صاف کیا کہ اس کو دربار خلاف سے مدینہ السلام منتقل کرادیا۔ اب میدان صاف تھا۔ متوکل کو کندی کے خلاف خواب بھڑکایا گیا اور اسکے مذہبی عقیدوں کو ایسے ”خوفناک“ معافی کے رنگ دئیے گئے کہ جلد باز متوکل بھڑک اٹھا....

سو بزرگ کندی پر الحاد کا الزام لگایا گیا۔ کتب خانہ ضبط کر لیا گیا اور اس اور اس کے اجداد کے دربار خلاف کے لئے ساری خدمات کو بالائے طاق رکھ کر سر عام پچاس کوڑوں کو سزا سنا دی گئی۔ ساٹھ سال بوڑھے فلسفی نے دونوں سزائیں....

پشت پر کوڑے اور کتابوں کی ضبطی....

صبر سے برداشت کیں۔ لیکن مکافات عمل کا خفیہ نظام چلا اور محمد اور احمد دونوں اسی متوکل کی پکڑ میں آگئے جس کے وہ بہت قریب تھے۔ دراصل ہوا یوں کہ متوکل نے نہر جعفری کی کھدائی کا کام ان دونوں کے سپرد کر دیا۔ اب انہوں نے اس کا م کیلئے جس انجینئر کی خدمات حاصل کیں وہ اپنے کام کی فنی معلومات تو ضرور رکھتا تھا، لیکن اس کو عملی تجربہ نہیں تھا۔ پس اس نے سارے منصوبے کو برباد کر دیا۔ متوکل اس معاملے پر اس قدر مشتعل ہوا کہ اس نے قسم کھائی کہ وہ دونوں بھائیوں کو اسی نہر کے کنارے سولی پر چڑھا دے گا۔ اب یہ دونوں بھائی سفارش کیلئے اسی سندبن علی کے پاس پہنچے جس کو انہوں نے دربار خلافت سے علیحدہ کروایا تھا۔ سندبن علی کو اگرچہ اپنے زخم یاد تھے لیکن اس نے اس شرط پر ان کی جان بچانے کی حامی بھری کہ وہ کندی کا کتب خانہ کسی طرح اسے واپس کرادیں گے۔

یوں کندی کا کتب خانہ اس کو واپس مل گیا۔ کندی کو اپنا کتاب خانہ تو واپس مل گیا لیکن اس وقت تک گردش زمانہ نے اس کے دل کو زنج والم سے بھر دیا تھا۔ مثال کے طور پر اس کے دو شعروں (ترجمہ) کو دیکھئے:

1۔ بہت سے انسان ایسے ہیں جو صرف دیکھنے کو زندہ ہیں لیکن حقیقت میں وہ مر چکے ہیں، جن کو ابھی تک دفن نہیں کیا گیا۔

2۔ تو اپنے جسم کو لاغربنالے۔ ہاتھوں کو روک لے اور خانہ نشین ہو جا۔

یہ وہ الکندی ہے جس کے بارے میں کارڈن (Cardan) اطالوی وفات 1576ءکا خیال ہے کہ کندی دنیا کے بارہ بڑے دقیق النظر فلسفیوں میں سے ہے اور ابتدائے آفرنیش سے سو لہویں صدی تک دنیا اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ راجر بیکن کندی اور ابن الہیشم کو بطلیموس کے ساتھ مشایہ کی صف اول میں گنتا ہے۔ کندی کی شخصیت اور سیرت کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ البتہ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا بخل انتہائی منزل کو پہنچ گیا تھا۔ لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کن معاملات میں۔ ویسے بھی یہ عارضہ تو اکثر اہل علم اور شائقین کتب کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ البتہ بعد کے زمانے میں کچھ ایسے مصنفین بھی مل جاتے ہیں جو اس کی ایمانداری، کفایت شاعری، قناعت، عفت اور سلیقہ مندی کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔

کندی نے طویل عمر پائی۔ غالباً ستر بہتر سال۔ وہ متوکل کے قتل کے کچھ عرصہ بعد بھی زندہ رہا۔ لیکن بڑھاپے سے زیادہ وقت کے تشدد نے اسے بوڑھا کر دیا تھا۔حزن وملال نے اس کی روح میں جڑیں پکڑ لی تھیں۔ کوڑوں کی سزا اورسر عام بے عزتی کا قلق اس کے دل سے نہیں جاتا تھا اور اس کو تنہائی اور بے خوابی کے دورے پر پڑنے لگے تھے۔ اس نے عوام الناس سے کنارہ کشی کر کے زہد اور خلوت گزینی کو اختیار کر لیا تھا۔ مسعودی لکھتا ہے: اس نے عزلت اور گمنامی کی حالت میں خلیفہ کے محل سے بہت فاصلے پر وفات پائی۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.