|
کالم
|
|
Saturday, 14 November 2009 00:52 |
|
اس ہفتے صوبہ سرحد کا شہر چارسدہ دہشت گردوں کے ہاتھوں آگ اور خون میں نہا گیا۔ اس سے قبل پشاور میں مسلسل طالبان دہشت گرد اپنی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ وہ دہشت گرد ہیں جن کا تعلق افغانستان میںموجود پختون قبائل سے ہے۔ اگر پاکستان کی تاریخ خاص طور پر صوبہ سرحد اور اس کے ساتھ وابستہ قبائلی پٹی کی تاریخ اٹھائیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی طرف شامل پختونوں نے تو تہہ دل سے 1947ءمیں قائداعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن سرحد کے اس پار کے پختونوں یا افغانی پختونوں نے کبھی پاکستان کو قبول نہیں کیا جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب 1943ءمیں اقوام متحدہ میں پاکستان کو شامل کرنے کی قرارداد پیش کی گئی تو افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اس کی مخالفت کی تھی اور آج بھی وہ مخالفت وہاں کے پختونوں کے دلوں میں موجود ہے۔ اس دشمنی کو ایک اورپختون لیڈر خان عبدالغفار خان عرف باچاخان نے آگے بڑھایا اورصوبہ سرحد کی علیحدگی اور پٹی پر موجود پختونوں اور صوبہ سرحد کے علاقوں کو ملا کر ایک نئے ملک پختونستان کا شوشہ چھوڑا جس پر وہ تمام عمر کام کرتے رہے۔ غفار خان رہتے اور کھاتے پاکستان میں تھے لیکن روپوں کی تھیلیاں نہ صرف ڈھکے چھپے بلکہ کھلے عام ہندوستان اور افغانستان سے لیتے تھے باچا خان کو اس پاک سرزمین سے اتنی نفرت تھی کہ مرنے کے بعد بھی افغانستان میں خود کو دفنانا پسند کیا۔ پختونستان کے ایشو پر خان عبدالغفار خان کو بھارت اور افغانستان کی مکمل حمایت حاصل رہی لیکن وہ ایشو ان کی مدت کے ساتھ ہی اپنی موت آپ مرگیا اگر آپ غور کریں تو موجودہ حالات و واقعات بھی اسی عداوت کا تسلسل ہے ۔ پاک‘ افغان سرحد پر قائم درجنوں ہندوستانی سفارتی دفاتر اور سرحد پار سے افغانستان سے آنے والے پختون دہشت گردوں کا نہ روکا جانا‘ آپریشن راہ نجات میں ہندوستان کے بنے ہوئے اسلحہ بارود کا پکڑے جانا اورپختون لیڈر باچا خان سب اسی سلسلے کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔ یہ افغان پختون اس قدر خراب شہرت کے حامل ہیں کہ ایک مرتبہ ایک امریکی فوجی افسر نے افغانستان میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا تھا کہ پختون قوم پیسوں کی لالچ میں اپنی ماں کو بھی بیچ دیتی ہے دور کیوں جائیں اس کردار کا عملی مظاہرہ ہم موجودہ افغان پختون صدرحامد کرزئی کی صورت میں جھیل رہے ہیں جسے افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کی حکومتوں کے دوران پاکستان نے سالوں تک کوئٹہ میں سیاسی پناہ دیئے رکھی انہیں کھلایا‘ پلایا اور ٹھہرایا‘ مہمان نوازی کی اور امریکہ کی افغانستان میں ضرورت کے وقت انہیں کابل روانہ کیا گیا لیکن اس کے صلے میں اس احسان فراموش پختون نے پاکستان کو کیا دیا وہ آپ کے سامنے ہے ۔ آج جتنے بھی دہشت گرد اور خود کش پاکستان میں تباہی پھیلا رہے ہیں سب کا تعلق اسی پاک افغان سرحدی علاقوں کے پختونوں سے ہے جو اپنی روایات کے عین مطابق غیر ملکیوں سے پیسہ لے کر اپنی قیمت لگا رہے ہیں۔ اور اپنی اس دھرتی پر بربادی پھیلا رہے ہیں۔ دراصل یہ افغانی پختون دہشت گرد اپنے بادشاہ باچا خان کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے ان پختونوں کو صوبہ سرحد میں نشانہ بنا کر سزا دے رہے ہیں۔ جنہوں نے سرحدی گاندھی کے پختونستان بنانے کے نظریئے کو رد کردیا تھا۔ یہ بہت چالاک ‘زیرک اور چالباز لوگ ہیں۔ کراچی میں ڈیڑھ کروڑ کے شہر میں کسی قسم کی دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے (۔خدا کے شکر سے) اور اس کی وجہ جو سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تعداد اس وقت کراچی میں پختونوں کی ہے (افغانی جس میں سب سے زیادہ ہیں)۔ ان طالبان دہشت گردوں کو جن کی اکثریت پختون ہے اس بات کا مکمل اندازہ ہے کہ اگر انہوں نے کراچی میں دہشت گردی کرنے کی کوشش کی تو وہاں قائم پختونوں کی بستیوں کو اہل کراچی تہس نہس کرکے رکھ دیں گے۔ پٹھان کالونی‘ قصبہ کالونی‘ شیر شاہ کالونی اور سہراب گوٹھ کے علاوہ کراچی میں ایسی بے شمار بستیاں موجود ہیں جہاں پر افغانستان سے آئے ہوئے پختون خاندان آباد ہیں۔ کراچی نے ان پختون آباد کاروں کو پناہ ضرور دی ہے لیکن جب جب انہوں نے حدود سے تجاوز کرنے کی کوشش کی تو ان کی سرزنش بھی کی ہے چاہے وہ ایوب خان کے زمانے کے پختون مہاجر فسادات ہوں یا منی بسوں کے پختون ڈرائیوروں اور ان کے پختون مالکان کی جانب سے بے گناہ مسافروں کو کچلنے کے واقعات ہوں۔ یہ صرف افغانستان کے پختون ہی ہیں جو اپنے آپ کو پختون کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ پاکستان کے باشعور پختون عوام خود کو پٹھان کہلانے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں لہٰذا جہاں جہاں لفظ پختون استعمال ہو اس کا مطلب افغانی پختون ہیں۔ ان افغان نژاد پختون طالبان دہشت گردوں کوجو ان آبادیوں میں ملے ہوئے ہیں اور جن کے اہل خانہ افغانستان سے بھاگ کر کراچی کی ان بستیوں میں ر ہائش پذیر ہیں۔ اس حقیقت سے مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ اگر انہوں نے اس عروس البلاد شہر کو چھیڑنے کی کوشش کی تو ان کے لواحقین کا کیا حشر ہوگا۔ بستیوں کی بستیاں اور علاقوں کے علاقے کراچی میں زمین بوس کردیئے جائیں گے۔ آج اگر افغانستان سے آئے ہوئے ان بھگوڑے پختونوں کو واپس بھیج دیا جائے تو کراچی میں ان کی دنیا میں سب سے بڑی پختون آبادی کا دعویٰ بھی ختم ہو جائے گا۔ پاک فوج کامیابی کے ساتھ وزیرستان میں ان بھگوڑے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ”راہ نجات“ کر رہی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس کے مکمل ہونے کے بعد حکومت کو ایک آخری آپریشن ”راہ ثبات“ کر نا چاہیے جس میں پاکستان کے تمام شہروں سے ان افغان بستیوں کا خاتمہ کردیا جائے اور تمام مدرسوں سے ان افغانی پختون طلباءاور اماموں کو ملک بدر کر دیا جائے جو خود کش حملہ آور اور جہادی تیار کر رہے ہیں۔
|