|
کالم
|
|
Friday, 20 November 2009 03:24 |
|
انسانی رشتوں میں ماں کی حیثیت سب سے ممتاز ہے ‘یہ پیارومحبت ‘خلوص وایثار کی حقیقی وفطری علامت ہے ۔ ماں سے محروم افراد زندگی بھر سکون سے محروم رہتے ہیں۔ ”ماں“ ہی وہ لفظ ہے جو سب سے پہلے معصوم بچوں کے لبوں پر جاری ہوتا ہے ۔ Maaکی تفصیل جب بین الاقوامی شہرت کے حامل پاکستانی فنکار عمر شریف نے مجھے بتائی تو مجھے یقین ہو گیا کہ عمر شریف کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ خواب جس کا نام Maaہو وہ سچا ہوتا ہے۔ ماں کے ساتھ سارے خلوص کے رشتے خود بہ خود استوار ہو جاتے ہیں۔ عمرشریف ایک ایسا نام ہے جو اپنی حیثیت میں دبستان ہے ‘ایک ایسا ادارہ ہے جہاں فنکار تربیت پاتے ہیں۔ اپنے اسلوب اور انداز میں ایسا فنکار ہے جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جہاں بھی اردو زبان کے تہذیبی دیئے روشن ہیں عمر شریف ‘فنون لطیفہ کے طورپر موجود ہے۔ میں عمرشریف کے اس فن کا تذکرہ نہیں کروں گا جو زبان زدعام ہے جوشہرت عمر شریف کے حصے میں آئی بہت کم فنکاروں کے نصیب میں ہوتی ہے۔ میری ملاقات عمرشریف سے گزشتہ ہفتہ شکاگو کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوئی ۔ اس ملاقات کا مقصد Maaجو نام ہے ایک اسپتال کا۔ اس سے متعلق تفصیلات کا علم تھا پہلے تو میں نام سے چونکا‘ اسپتال ”ماں‘ کے نام سے کسی روایت میں نہیں ‘کم ازکم میری معلومات میں تو نہیں ہے ‘پھر خیال آیا کہ یہ تخلیق عمرشریف کے ذہن کی ہے تو ظاہر ہے ‘یکتاومنفرد تو ہوگی ہی ‘بہرحال عمرشریف اب ایک ایسے سفر کا آغاز کرنے والے ہیں بلکہ کر چکے ہیں جس کارشتہ براہ راست انسان سے ہے۔ انسان جب بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے ر جوع کرتا ہے‘ اسپتال جاتا ہے لیکن مجبور انسان‘ غریب وبے کس خاندان جو غربت کے ہاتھوں بری طرح پس رہے ہوں۔ کہاں جائیں ‘کس کو اپنے زخم دکھائیں‘ ان کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنا علاج کرا سکیں یا کسی اسپتال کی دہلیز کو پارکر سکیں۔ پہلا سوال ان سے بیماری کے اخراجات کو پورا کرنے سے متعلق ہوگا۔ غریب انسان پہلے اپنے بچے کی بھوک کو مٹائے یا اپنی بیماری کا علاج کرائے۔ ظاہر ہے بچوں کی بھوک بیماری پر غالب آ جاتی ہے اور بچوں کی کفالت کرنے والا گھٹ گھٹ کر وقت سے پہلے ہی مرجاتا ہے‘ پاکستانی معاشرہ اس کربناک صورتحال سے دو چار ہے‘ اہل ثروت اور رشوت لینے والے اس صورتحال کو کھلی آنکھ سے دیکھتے ہیں لیکن ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ عمرشریف نے جب اپنی ذات کے حوالے اس صورتحال کا تذکرہ کیا تو بہت سے دوکھلے‘ عمرشریف کو یہ کیونکر احساس ہوا کہ Maaنامی اسپتال بنا کر غم زدہ بیمار خاندانوں کو علاج ومعالجہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ فنکار بہت حساس ہوتا ہے اگروہ کچھ نہیں کر سکتا تو سوچتا ضرور ہے لیکن عمرشریف صرف سوچنے کا قائل نہیں بلکہ کر گزرنے کا قائل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی تجربات سے بھری پڑی ہے۔ Maaجیسا خیال کسی بھی شخص یا قومی ہیرو کو کب اور کس وقت آتا ہے‘ دراصل یہ سوال نہیں بلکہ ایک تعلق ہے جو بندے اور خدا کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے‘ اس تصور کو اقبال نے ”خودی“ کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ فلسفہ تصوف میں اس تعلق کو اپنی ذات کی نفی کرنا بھی کہتے ہیں۔اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سارے نام ہیں لیکن اس کا منبع وچشمہ عشق حقیقی ہے کہ اس کیفیت میں انسان وہ کام کر جاتاہے جو انسانیت کے لئے چراغ راہ ہوتے ہیں ۔ یہ کام انسانی نجات کا وسیلہ بھی بنتے ہیں اور انسانی فلاح کا مرکز ومنبع بھی۔ ہر قومی ہیرو کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا وہ اپنی ذات اور خاندان میں ا لجھا رہتا ہے یہ توفیق خداوندی ہے جس کو چاہے وہ اس نعمت سے سرفراز کردے۔ عمرشریف نے دوران گفتگو اس بات کا کئی بار اظہار کیا کہ ملک وملت اور خدا نے جو کچھ مجھ کو عطا کیا ہے اب میں چاہتا ہوں کہ وہ قوم کو لوٹا دوں۔ میں اس کو کوئی بڑا کارنامہ نہیں کہتا بلکہ اس کو اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ میں اپنا فرض سمجھ کر اسکو اداکر رہا ہوں یا قوم کا مجھ پر قرض ہے جو میں دینا چاہتا ہوں۔ عمرشریف نے مزید تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمرشریف ویلفیئرٹرسٹ کا قیام عمل میں لائے ہیں جس کا یہ پہلا پروجیکٹ ہے۔ کراچی کی سب سے بڑی نواحی آبادی اورنگی ٹاﺅن میں ہم ایک 200بستروں پر مشتمل اسپتال بنا رہے ہیں جس کا نام Maaہے یہ اسپتال غریب ونادار افراد کا مفت علاج کرے گا یہ اسپتال بہترین سہولتوں سے آراستہ ہوگا۔ اس میں جدید Equipmentsموجود ہونگے تاکہ مریضوں کا بہتر علاج کیا جا سکے۔ عمرشریف نے کہا کہ اسپتال ابھی تعمیراتی مراحل میں ہے اس کی بنیادیں پڑ چکی ہیں۔اس کے ستون بھی کھڑے ہو چکے ہیں ۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے 50لاکھ روپے ہمارے ٹرسٹ کو دیئے ہیں۔ وزارت سیاحت وثقافت نے بھی اس اسپتال کے لئے 25لاکھ روپے دیئے ہیں اس کے علاوہ ہمارے کچھ کرم فرماﺅں نے سریا‘ سیمنٹ اور بجری کے ٹرک بھی دیئے۔ ہم نے کچھ لوگوں سے تعمیراتی سامان لیا ہے ۔ رقم کی شکل میں فنڈ نہیں لئے ہیں۔ عمر شریف نے اس پروجیکٹ کےلئے 80کروڑ روپے کے اخراجات بتائے ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ”ماں“کی تکمیل کے لئے ان سے بھرپور تعاون کریں ۔وہ اس سلسلے میں امریکہ بھی آئے ہیں ۔ وہ امریکہ کے مختلف شہروں کا دورہ بھی کریں گے اس کے علاوہ وہ کینیڈا اور لندن بھی جائیں گے اور پاکستانیوں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ڈاکٹروں کی مشہور تنظیم ”اپنا“ نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ عمرشریف سے میری گفتگو مختلف حوالوں سے بھی ہوئی ان کی گفتگو بڑی علمی‘ ادبی اور فلسفیانہ رنگ لیے ہوئے تھی۔ انہوں نے اپنی شاعری اورکتابوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے مذہب اور صحافت کے موضوع پر بھی گراں قدر خیالات کااظہارکیا۔ اس کا مطلب ہے وہ صرف ا سٹیج کے آرٹسٹ نہیں جو کچھ وقت کے لئے آئے اور مجلس میں قہقہے بکھیر کے چلے گئے ۔ آج کاعمرشریف اپنے فہم اور علم کے اعتبار سے بھی نمایاں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ماں کے نام سے جس اسپتال کا آغاز کراچی سے کیا ہے وہ صرف کراچی تک محدود نہیں ہوگابلکہ خیبر تک ”ماں“ اپنی آغوش میں بیماروں کو پناہ دے گی۔ میں اس کالم کے ذریعے بھی تمام قارئین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عمرشریف کا بھرپور ساتھ دیں۔ اس سلسلے میں آپ مجھ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ میرا ای میل
This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it
یا فون نمبر 630-715-5980ہے۔
|