|
کالم
|
|
Friday, 20 November 2009 03:26 |
|
صدر آصف علی زرداری کے خلاف جنون گروپ کا سیاپا جاری ہے۔ پندرہ پندرہ سال پرانے کیسز کو نیا رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔نئے شکاری پرانا جال لے آئے ہیں۔ سینکڑوں مسائل ہر موڑ پر پڑے ہیں لیکن اس مخصوص قبیلے کا مخصوص ایجنڈا بس یہی ہے کہ ایوان صدر میں بیٹھے ایک شخص کی کردار کشی جاری رہنی چاہیے۔ صدر زرداری دو تہائی ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے اُس آمر کو اقتدار سے باہر کا راستہ دکھایا اور انہوں نے ہی محترمہ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی امن و امان کی خطرناک صورتحال پر قابو پانے کیلئے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگایا۔ چند روز قبل صدر نے پاکستان پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت تمام سیاسی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے‘ چند مایوس لوگ میڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر رہے ہیں ان کا جمہوری طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا‘ پروپیگنڈا کرنے والوں کو ناکامی ہو گی‘ سایسی مخالفین کی تنقید سے پارٹی انتشار کا شکار نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا‘” وزیر اعظم میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں‘ وہ مجھ سے اور میں ان سے مشاورت کرتا ہوں پھر اختلاف کس بات کا ہے۔ اسی طرح آرمی چیف اور میرے درمیان اختلافات کی خبریں دی جا رہی ہیں حالانکہ آرمی چیف گزشتہ دنوں مجھ سے ملاقات کر کے گئے ہیں“۔ صدر کے ساتھ اس اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔ جن کی شخصیت کو بھی مختلف حوالے سے متنازعہ بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ہر ایک دو ماہ بعد یہ خبریں چلا دی جاتی ہیں کہ ایوان صدر اور وزیراعظم میں فاصلے بڑھ رہے ہیں، دونوں کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان ڈھمکیریوں کا مقصد اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کہ صدر کا امیج خراب کیا جائے اور یہ ظاہر کیا جائے کہ صدر کے پاس اختیارات زیادہ ہیں اور وزیراعظم کے پاس کم۔ اختیارات کا تنازعہ پیدا کر کے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ تاہم پیر کے روز پارٹی اجلاس میں صدر آصف علی زرداری پر اعتماد نظر آ رہے تھے اور یہی لگتا ہے کہ صدر کو اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور ساتھیوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ اس پارٹی اجلاس کو دیکھ کر سیاپا گروپ یقیناً اپنے ناخن نوچ رہا ہو گا اور کسی نئے گڑھے مردے کو اکھاڑنے کیلئے چل پڑا ہو گا۔ یہ ٹولہ جسے کوئی بھی جمہوری حکومت قبول نہیں، کس قسم کی حکومت چاہتا ہے، کوئی نہیں جانتا۔ شاید یہ کوئی ایسی خلائی مخلوق لانے کا خواہشمند ہے جس کے آتے ہی ہر طرف امن ہو جائے گا۔ یا پھر یہ آمریت کی واپسی کیلئے بے چین ہے۔ آمریت آ جائے تو اسے جمہوریت یاد آ جاتی ہے اور جمہوریت واپس آ جائے تو اس میں سے کیڑے تلاش کرنے لگتا ہے۔ ہم اپنے ملک کی 62سالہ مختصر سی تاریخ میں چار مرتبہ آمریت کا شکار ہو چکے ہیں اور اب جبکہ آٹھ برس کی طویل شب ظلمات کے بعد جمہوریت کا سورج طلوع ہوا ہے تو یہ گروہ اس ملک کو ایک بار پھر اندھیروں میں ڈبو دینا چاہتا ہے۔ میڈیا کا ایک خاص گروپ اس مہم میں آگے آگے ہے اور جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کرنے کی کوششوں میں دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ اس مخصوص اس سلسلے میں جانبداری کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ صدر یا حکومت کے خلاف یہ مہم جوئی بطور ایک قوم ہمیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔ یہاں آمریت پھر قائم ہو سکتی ہے۔ ماضی میں جو آمریتیں قائم ہوئیں، ان سے قبل بھی ایسے ہی حالات پیدا کئے گئے جس طرح آج کئے جا رہے ہیں۔ شاید ہم نے ماضی سے کوئی تجربہ حاصل نہیں کرنا چنانچہ وہی کھیل ایک بار پھر شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا ہے،معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے، بھارت شرانگیز کارروائیوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف امریکہ نے پاکستان پر کچھ مزید کرنے کے حوالے سے دباو ¿ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان حالات میں بھی یہ مخصوص گروہ اپنے مخصوص عزائم سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نیہں اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے اس کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب اس کھیل میں غیرملکی میڈیا کو بھی شریک کر لیا گیا ہے۔ فرانس کے انتہائی کم اشاعت والے اخبار ”لبریشن “میں حالیہ خبریں بھی صدر زرداری کی کردار کشی مہم کا حصہ ہیں۔ امریکی ٹی وی این بی سی کی ایک رپورٹ میں بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکریت قیادت کے مابین فاصلے بڑھ گئے ہیں اور پاکستانی یہ فاصلے نئے سال میں آئینی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیںاور حالیہ چند ہفتوں میں زرداری کے مخالفین نے ان کا تخت الٹنے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ میں ان خبروں کو درست بھی مان لوں تب بھی میرا سوال یہی ہو گا کہ اگر صدر زرداری چلے جاتے ہیں یا انہیں جانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو کیا یہ مخصوص ٹولہ چپ ہو جائے گا اور اگر صدر کے جانے اور کسی فوجی آمر کے آنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں تو یہ تجربہ بھی کر کے دیکھ لیں۔ لیکن نئے شکاری یہ تجربہ کرنے سے پہلے صرف ایک بار سوچ لیں کہ کیا یہ ملک اب کی بار اس تجربے کا متحمل ہے؟
|