تصاویر

Login

Online Users

None



این آر او PDF Print E-mail
کالم
Saturday, 14 November 2009 01:00

 

این آر او کا غلغلہ اس وقت بلند ہوا جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی سیاستدانوں کو اپنے ایک خصوصی حکم کے تحت قومی دولت کے لوٹنے پر معافی نامہ جاری کیا اور اس کی آڑ میں بیرون ملک مقیم یا جلاوطن پاکستانی سیاستدان نہایت ہی طمطراق اور زندہ باد کے نعروں کی گونج میں پاکستان تشریف لے آئے۔ اس ہنگامے میں بہت کم لوگوں نے این آر او یعنی قومی مصالحتی آرڈیننس کو یاد کیا اور بات جیسے آئی گئی ہوگئی۔ بعد میں قومی الیکشن ہوا۔ پیپلز پارٹی نمبر ون اور مسلم لیگ (ن) دو کی حیثیت سے اسمبلی میں پہنچ گئیں جہاں بعد میں ان دونوں نے مخلوط حکومت قائم کرلی اور نمائشی احتجاج کرتے ہوئے یعنی بازوﺅں پر کالی پٹیاں باندھ کر مسلم لیگ (ن) کے وزیروں نے جنرل پرویز مشرف سے حلف لے لیا اور وفاقی وزیر بن گئے۔ سیاست کا یہ پورا ڈرامہ این آر او کی برکت اور اسکے پردے میں ہوا۔ کسی سیاسی لیڈر کو این آر او یاد نہ آیا۔ قارئین کو شاید یاد ہوگا کہ انہی دنوں میں نے اس کالم میں این آر او کا ماتم کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سراسر ناانصافی، بدعنوانی اور بددیانتی کو جائز قرار دینے کا قانون نافذ ہوا ہے جو تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007ءکے دن یہ آرڈیننس جاری کیا۔ اس کی میعاد ختم ہونے تک پارلیمنٹ نے اس کو قبول یا رد نہیں کیا اور عدالت نے ایک مختصر سی مہلت دیدی۔ 28 نومبر 2009ءتک کی اور قرار دیا کہ پارلیمنٹ اس بارے میں کوئی فیصلہ دیدے۔

اس دوران اس رسوائے زمانہ قانون پر بحث شروع ہوگئی کیونکہ اسے عنقریب پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا تھا۔ چنانچہ چند دوسرے آرڈیننسوں کیساتھ اسے پیش کرکے ایک کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ قومی اسمبلی کی اس کمیٹی کے ارکان میں سے 7 نے اس کے حق میں اور 6 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ اب کمیٹی نے اپنی سفارشات اسمبلی کو بھجوانی تھیں لیکن عین اس موقع پر ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ حکومت کیلئے ایک نہایت ہی خطرناک ہنگامہ۔ حکومت کے ساتھی جو اس مخلوط حکومت میں شامل تھے، اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ مولانا فضل الرحمان تک نے مخالفت سے انکار کردیا۔ اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی مسلم لیگ (ن) نے اس بل کی مخالفت کا پرجوش اعلان کردیا۔ ایک اور بڑی پارٹی (ق) لیگ نے بھی مخالفت کا فیصلہ کیا۔ اس طرح سوائے پیپلز پارٹی کے کوئی پارٹی اس کی حمایت میں نہ رہی اور آخری وار ایم کیو ایم نے کردیا جس کے بعد حکومت نے اسمبلی سے یہ بل واپس لے لیا۔ ابھی تک تفصیل کے ساتھ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس شرمناک قانون سے کتنے ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا۔ اب ان سب کے سروں پر یہ تلوار لٹک رہی ہے اور ان سروں میں حکمرانوں کے سر سب سے بلند اور نمایاں ہیں۔ قانونی ماہرین ان دنوں سر کھپا رہے ہیں کہ اس قانون کے تحت اب کوئی کارروائی کیسی ہوگی، کس طرح ہوگی اور عدالتیں کیا کریں گی؟ ماضی کی طرح حکومت ایک اور مرحلے پر پسپا تو ہوگئی ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ حکومت کو اس پسپائی کی قیمت ادا کرنی پڑیگی جو شاید وہ ادا نہ کرسکے۔ اس بل کی زد پر جناب صدر آصف علی زرداری کی ذات ہے۔ ان کے مخالف کہہ رہے ہیں کہ اب انہیں اس منصب سے جانا پڑیگا۔ اس قانون کے بعد وہ اپنی ذات کو بچا نہیں سکتے جبکہ پیپلز پارٹی کو امید ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس بحران سے بچ نکلے گی۔ اس بارے میں انتظار ہی مناسب ہے۔ حکومت وقت کی موثر ترین اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کے قائدین کا یہ موقف ہے کہ کوئی رہے یا جائے، جمہوریت کو ہر حال میں رہنا چاہئے۔ جمہوریت کو کسی صورت میں بھی کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان میں کسی جمہوری حکومت کو فوج کی طرف سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے لیکن فوج اس وقت حالت جنگ میں ہے اور جنگ بھی ایسی کہ اسکے ختم ہونے کا کوئی وقت نہیں ہے کیونکہ یہ دو فوجوں کے درمیان مقابلہ نہیں۔ ایک طرف فوج ہے تو دوسری طرف چھاپہ مار اورگوریلے ہیں جنہوں نے ملک بھر میں دہشت پھیلا دی ہے۔ دو فوجیں آمنے سامنے ہوں تو جنگ کا کوئی فیصلہ بھی ہو، لیکن یہاں فوج صرف ایک طرف ہے اور ہماری فوج اس طرح ایک مشکل ترین جنگ میں الجھ گئی ہے۔

دہشت گردوں کے اڈوں اور مراکز کو تباہ کیا جا رہا ہے اور ان کی مرکزیت ختم ہونیوالی ہے لیکن وہ تتر بتر ہو کر ملک بھر میں پھیل کر وارداتیں کررہے ہیں۔ ملک کے پاس دو ہی منظم اور ڈسپلن والے ادارے ہیں۔ فوج اور پولیس ایک طرف، فوج معرکہ زن ہے تو دوسری طرف پولیس ملک بھر میں ایک جنگ میں مصروف ہے۔ ان حالات میں جمہوریت کو فوج کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر یہ صورتحال نہ بھی ہوتی تب بھی جنرل اشفاق کیانی اپنے اس عزم پر مضبوطی کیساتھ قائم ہیں کہ وہ جنرل پرویزمشرف کے دور میں برباد ہونیوالی فوج کی ساکھ کو بحال کرکے دم لیں گے اور اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ فوج سیاست سے دور رہے۔ انہوں نے فوج کی کمان سنبھالتے ہی جو احکامات جاری کئے تھے ان کے مطابق فوج کو سیاستدانوں کیساتھ علیک سلیک سے بھی روک دیا گیا تھا۔ ایک وہ زمانہ تھا مشرف کا جب فوجیوں کو وردی کیساتھ آبادیوں میں جانے کی ممانعت تھی اور ایک یہ زمانہ ہے کہ آج فوجی وردی کو پیار اور محبت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ فوج قومی حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتی خصوصاً اس صورت میں کہ کوئی حکومت این آر او جیسے قانون کی تائید کررہی ہو اور اس کی محافظ بنی ہوئی ہو۔ ماضی میں فوج قومی امور میں جس طرح ملوث رہی ہے اس کے پیش نظر وہ آج لاتعلق نہیں رہ سکتی، مثلاً گزشتہ دنوں جب اہم بیرونی شخصیات پاکستان کے دورے پر آئیں تو ان کیساتھ ملاقاتوں اور کانفرنسوں میں قوم کو قائداعظمؒ کی تصویر دکھائی نہ دی۔ فوج نے جو ان دنوں اقبال اور جناح کے پاکستان کی حفاظت کی عملی جنگ میں مصروف ہے، اس پر اعتراض کیا۔

چنانچہ بے نظیر بھٹو کی تصویر ہٹا کر قائداعظم کی تصویر رکھ دی گئی لیکن قیاس یہی ہے کہ فوج جمہوریت کو خطرے میں نہیں ڈالے گی۔ صدر کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ضرور ہے لیکن 17 ویں ترمیم کے بعد وہ محدود ہوگیا ہے۔ اب کسی صدر کو اپنا حکم سپریم کورٹ میں بھیجنا ہوگا اور اگر عدالت عظمیٰ اس حکم کو جائز قرار دیگی تب وہ نافذ ہوگا یا پھر منسوخ کردیا جائیگا لیکن کوئی حکومت اور حکمران اگر نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دینگے پر اتر آئے تو وہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے اور اس میں جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب نئی جمہوریت کی عمر ابھی دو برس بھی نہیں ہوئی اس لئے اگر بعض سیاستدان یہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ جمہوریت کو نقصان ہوسکتا ہے تو وہ غلط نہیں کہتے، لیکن سب باتوں کے باوجود اب جناب صدر کا اقتدار کئی سوالات کا نشانہ بن چکا ہے۔ خطرہ ہے کہ کل کلاں ان سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر تحریک بھی چلا دی جائے۔ اگرچہ ایم کیو ایم کے قائد نے یہ مطالبہ کر بھی دیا تھا جس کی بعد میں تردید ہوگئی لیکن ان کی طرف سے ایک پیغام ضرور تھا۔ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ این آر او کہیں ان کی حکومت کو نہ لے ڈوبے۔ غیرجانبدار مبصرین نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکومت کو اس بل سے جان چھڑانے کی کوئی ترکیب نکالنی تھی لیکن وہ اس کی حفاظت پر تل گئی جو ایک غلط پالیسی تھی اور اس غلطی کی سزا شروع ہوچکی ہے۔

 

 

 

Add New
Comments
obaidkhayali@yahoo.com   |116.71.183.xxx |2009-11-27 09:46:05
Urdu News - Twenty Nine years of publication

مسلسل اشاعت کے ۲۹ سال
شمالی امریکہ کا پہ لا اور سب سے بڑا اردو اخبار North America's larg est Urdu news paper

صفحہ اول پاکستان امری کہ کینیڈا برطانیہ بین الاقوامی سپورٹس صنعت و معیشت شوبز سائنس و ایجادات تصاویر پرنٹ اخبارات

پاکیستانی اور کینیڈین کاروباری ایکسپو
تما م
نیویارک
شکاگو
ہیوسٹن
ٹورانٹو کینیثا
لندن انگلینڈ



تصاویر
ناسا کا خلا ئی مشن چاند پر تحقیقات کیلئے روانہ ہو گیا
Special Sections
اسلامیات
اردو ٹائمز فورم
اردو ٹائمز کمیونیٹی
پکوان
آپ کا دن
کالم
کچھ خاص
کٹ پیس
ٹٹ بیٹس
Login
Username or email

Passw ord

Remember me

Forgot login?
R egister
Online Users
None


این آر او
کالم
Saturday, 14 November 2009 010



این آر او کا غلغلہ اس وقت بلند ہوا جب جنرل پروی ز مشرف نے پاکستانی سیاستدانوں کو اپنے ایک خصوصی حک م کے تحت قومی دولت کے لوٹنے پر معافی نامہ جاری کیا اور اس کی آڑ میں بیرون ملک ...
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.