تصاویر

Login

Online Users

None



ماہر نفسیات: اس نے ڈگری جامعہ ابوجہل سے لی ہوگی......اسد مفتی PDF Print E-mail
کالم
Friday, 20 November 2009 03:29

 

امریکی فوج کے ایک ماہر نفسیات مسلم میجر ندال ملک حسن نے آنکھیں کھول دی ہیں۔ (محاورةً بھی اور عملاً بھی) وہ ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر دیوانہ وار فائرنگ میں اپنے تیرہ ساتھی فوجیوں کی جان لینے کے بعد ایک خاتون پولیس آفیسر کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گئے تھے اور تب سے اب تک حالت کوما میں تھے۔ آج خبر آئی ہے کہ وہ کوما سے باہر آچکے ہیں اور انہوں نے آنکھیں کھول دی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس ماہر نفسیات کی فائرنگ کے اس ہولناک، المناک اور شرمناک واقعہ کے پس پردہ حملہ آور کی نیت کیا تھی۔ یروشلم پوسٹ نے اپنے نامہ نگار کے حوالے سے لکھا ہے کہ میجر ندال ملک حسن ورجینیا کی دارالہبران مسجد میں نماز کیلئے باقاعدگی سے آیا کرتا تھا اور اپنا وقت پرسکون انداز میں گزارتا تھا، نامہ نگار نے لکھا ہے کہ یہ وہی مسجد ہے جہاں 11 ستمبر کے حملہ آور دہشت گرد بھی نماز ادا کرتے تھے، ایف بی آئی اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ندال نے کبھی ان دہشت گردوں سے ملاقات کی۔ 39 سالہ میجر ندال ایک امریکی شہری ہیں وہ ورجینیا میں پیدا ہوئے، ان کے آباءواجداد اردن سے تعلق رکھتے تھے، امریکی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ میجر ندال کو افغانستان میں متعین کیا جا رہا تھا مگر وہ وہاں جانے سے انکار کر رہے تھے۔ میجر ندال کے ایک کزن نے بتایا ہے کہ 9/11 کو امریکی شہروں پر ہوئے حملوں کے بعد راسخ العقیدہ ندال ملک حسن نے شکایت کی تھی کہ فوج کے بعض ارکان ان کے مذہبی پس منظر کے سبب انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ میجر ندال نے عراق اور افغانستان میں امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے میں اپنے شدید ذہنی تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا وہ ایک کچلے مسلمان اور عرب (فلسطینی) نژاد ہیں، 39 سال کی عمر تک پہنچنے کے باوجود انہوں نے محض اس لئے شادی نہیں کی تھی کہ انہیں امریکہ میں کوئی دیندار و پاکباز مسلم خاتون نہیں ملی۔ انہیں افغانستان اور عراق میں امریکی پالیسی سے سخت اختلاف تھا۔ وہ امریکی فوج میں ماہر نفسیات کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر افغانستان اور عراق کی جنگ میں ذہنی طور پر بیمار اور خودکشی کی طرف مائل امریکی سپاہیوں کا وہ نفسیاتی علاج کرتے ہیں۔ ان دنوں وہ فورٹ ہڈ کے فوجی اڈے پر میجر کی پوسٹ پر کام کر رہے ہیں۔

فورٹ ہڈ اڈا امریکی فوجی سرگرمیوں اور تربیت کا سب سے بڑا بیس ہے جہاں لگ بھگ پچاس ہزار فوجیوں کو رکھا جاتا ہے اور اس وسیع اڈے میں ان فوجیوں کے ڈیڑھ لاکھ افراد خاندان کی رہائش ہے۔ سخت جانچ پڑتال کے بعد ہی اس فوجی اڈے تک کسی کی رسائی ممکن ہے۔ یہ فوجی اڈا 340 مربع میل کے رقبہ میں پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع ترین فوجی اڈے میں امریکی فوج کے خلاف خود اس کے ماہر نفسیات میجر کا یہ بدترین حملہ ہے جس میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان میں بارہ فوجی اور محکمہ دفاع کا ایک سویلین بھی شامل ہے جبکہ 41 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے میجر ندال حسن کے کمپیوٹر کی اور ان کے مکان کے کونے کونے حتیٰ کہ کوڑا کرکٹ کی بھی جانچ پڑتال کی ہے۔ ادھر برطانیہ کے اخبار ڈیلی سٹار نے انکشاف کیا ہے کہ میجر ندال ملک حسن نے بیلجیم کا ساختہ ایف این 15.7 ایم ایم خودکار پستول فورٹ ہڈ فوجی اڈے سے محض 15 میل کے فاصلے پر واقع اسلحہ کی ایک دکان سے ستمبر کے آخر میں خریدا تھا۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اندھا دھند فائرنگ کرنے کا منصوبہ ہفتوں قبل ہی تیار کر لیا گیا تھا۔مزید یہ کہ میجر ندال نے اپنے کرائے کے اپارٹمنٹ کو دو ہفتے قبل ہی خالی کرنے کا فیصلہ کر لیاتھا اسے 7 نومبر کو یہ فلیٹ خالی کرنا تھا یہی وجہ ہے کہ اس نے تمام رہائشی سازوسامان فروخت کر دیا تھا۔ میجر ندال کے پڑوسی نے نیوز ایجنسی کو بتایاہے کہ میجر حسن نے کل فائرنگ سے پہلے اپنے اپارٹمنٹ کی صفائی کی تھی۔ فائرنگ کے واقعہ سے قبل انہوں نے قرآن شریف کے نسخے بھی پڑوسیوں میں تقسیم کئے تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ میجر ندال نے اندھادھند فائرنگ سے قبل ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ رائٹر نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے دائیں بازو کے بعض مبصرین نے اپنے مضامین اور اداریوں میں لکھا ہے کہ فوج میں ایک انتہا پسند مسلم گروپ ”ففتھ کالم“ کے گھس آنے کا اندیشہ ہے۔ ادھر امریکی صدر اوبامہ اور ان کی اہلیہ نے فورٹ ہڈ ٹیکساس میں ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی، وائٹ ہاﺅس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایشیائی ممالک کے دورہ پر روانہ ہونے سے پہلے اوبامہ نے ریڈیو پر اپنے ہفتہ وار خطاب میں میجر ندال کے قتل عام کو قوم کے خلاف جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا دل دوز واقعہ ہے یہ ایک ایسا جرم ہے جس نے ہم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صدر اوبامہ نے کہا کہ سب سے زیادہ دل دکھانے والی بات یہ ہے کہ یہ جرم ایسی جگہ ہوا ہے جو ایک فوجی اڈا ہے جہاں پر ملک پر جان نچھاور اور خود کو قربان کرنے والے رہتے ہیں اور یہ جان قربان کرنے والے اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

امریکہ جہاں تمام دنیا کی نفرت کا نشانہ بنا ہوا ہے وہاں مسلمان بھی اپنی منفی سرگرمیوں کی بنا پر نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ 9/11 کے بعد امریکہ کے کئی شہروں میں جو صورت حال پیدا ہوئی تھی اور جس میں مسلمانوں کو غم و غصہ کا نشانہ بنایا گیاتھا۔ شاید ایسی ہی صورت حال پھر پیدا ہونے کو جا رہی ہے۔ امریکی کانگریس کے مسلمان ممبر آندرے کرسن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کو قتل کی دھمکیاں ملنے پر مساجد کی انتظامیہ نے حکومت سے سیکورٹی طلب کر لی ہے۔ اضافی پولیس نفری بھجوانے اور پولیس گشت کی درخواست کرنے والی ریاستوں میں واشنگٹن، ورجینیا، میری لینڈ، ایلانوائے، جنوبی کیرولینا، نیویارک وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بھی خبر ملی ہے کہ نمازیوں کے گروپوں نے مساجد کی سیکورٹی سنبھال لی ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ میں بہت سی مسلم تنظیموں، اداروں اور ایسوسی ایشنوں نے انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیوں کے علاوہ بہت سی نفرت انگیز ای میل اور خطوط موصول ہو رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ برطانیہ میں دہشت گردی کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے جرم میں جولائی 2007 ءمیں ایک انجینئر کفیل احمد اور ایک ڈاکٹر محمد حنیف کو سزائیں سنائی گئی تھیں اور کیا اب اس بات پر آسانی سے یقین کیا جا سکتا ہے کہ تیرہ انسانوں کی جان لینے والا خود ماہر نفسیات ہے؟ میرے حساب سے تو ایسا شخص بذات خود نفسیاتی مریض ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا میں جہاں ڈاکٹر محمد حنیف پریکٹس کرتا تھا لوگوں نے مسلمان ڈاکٹروں سے علاج کروانا بند کر دیا تھا اور اب شاید امریکہ میں لوگ مسلمان ”ماہر نفسیات“ کے پاس جانا چھوڑ دیں۔ اگر ڈاکٹروں اور ماہر نفسیات جیسے زندگی دینے والے پیشوں میں دہشت گردوں کے گھس آنے کا ”شبہ“ صحیح ثابت ہوتا ہے تو دہشت گردی کا چہرہ مزید خوفناک نظر آنا طے ہے۔ بلا شبہ یہ تصور اذیت ناک ہے کہ جان بچانے والے فرشتے اب جان لینے والے عزرائیل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ڈاکٹر بھی دہشت گرد بن گئے تو ”زندگی“ کا خدا ہی حافظ ہے۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.