تصاویر

Login

Online Users




آﺅ کاروبارسکھاﺅں...........یاورحسین PDF Print E-mail
کالم
Sunday, 15 November 2009 00:40

 

محترم قارئین! 3 نومبر کی رات کو ایک پاکستانی چینل پر ڈاکومنٹری فلم دکھائی گئی اور اس میں پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد کے وسط میں جو زمین واقع ہے، وہ کروڑوں روپے کی ہے اور اس کی خریدوفروخت پر یہ فلم تھی۔ جو ایک بہت بڑا ڈاکہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کی حکومت اور پچھلی حکومتوں میں صرف سرمایہ دار، جاگیردار اور اعلیٰ کاروباری حضرات ہی سرکار میں شامل ہو کر غریبوں پر حکومت کرتے چلے آئے ہیں۔ اور یہی روایت چل رہی ہے، لب لباب یہ ہے کہ کرسی صدارت پر بیٹھ کر پراپرٹی کا کاروبار کرنا اور اپنے اختیارات کا کسی بھی شکل میں ناجائز استعمال کرنا اور اپنی لالچ بھری کاروباری آنکھ کو پھر تیز کر کے ذاتی مفاد اٹھانا کہاں کی شرافت ہے؟ اتنی موقع پر ستی تو کسی صدر نے نہیں کی جتنی یہ صدر پاکستان کر رہے ہیں، ویسے ان کو معلوم ہے کہ یہ پیپلزپارٹی کی اب آخری حکومت ہے۔ اس تھوڑے اور ڈکیتی کے دور میں جو ہو سکتا ہے کر لوں، پھر یہ موقع کہاں ملے گا۔ لیکن میڈیا نے بند آنکھیں کھولنے کے ساتھ ساتھ پردہ بھی ہٹا دیا ہے۔ اب یہ صدر پر منحصر ہے کہ وہ اس اشارے اور کنائے کو کس ذہانت سے قبول کرتے ہوئے اپنی حرکتوں میں کب کفایت شعاری سے کام لینا شروع کریں گے؟ پوری دنیا بھر میں وہ مسٹر پرسن ٹیج کے نام سے جانے جاتے ہیں، یہاں تک کہ انگریزی اخبارات میں بھی ان کو اسی اعزاز سے جانا جاتا ہے، لیکن ان تمام باتوں کا ان پر کیا اثر ہوا؟

دنیا جائے بھاڑ میں مجھے غلط یا صحیح طریقے سے دولت کمانی ہے یہ میری زندگی کا مقصد ہے، کسی کو اس کا حق ملے یا نہ ملے مجھے کسی سے کوئی سروکار نہیں۔ برخوردار بھی ابا کے ساتھ مل کر ان کے کاروبار کے داﺅ پیچ سیکھنے کی کوشش میں مصروف ہے اور رحمان ملک ان کے کوچ مقرر ہیں۔ وزیراعظم تو بیچارے 12 کھلاڑی ہیں، بس وہ اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ویسے بھی مستقبل قریب میں جو نیا صدر آئے گا اس کے لئے یہ تمام باتیں کافی کار آمد ثابت ہوں گی اور اسے بھی یہ معلوم ہو جائے گا کہ کرسی پر بیٹھ کر پیسہ کیسے کمانا ہے۔ محترم قارئین یہ زمین جس کا ذکر ابتداءمیں کیا گیا ہے سی ڈی اے کے مطابق یہ کروڑوں روپے سے زیادہ کی ہے۔ نہ جانے سی ڈی اے نے کس پلان کے تحت یہ فروخت کرنی تھی لیکن سرکاری ڈاکوﺅں نے یہ ہڑپ کی ہے۔ ان لوگوں نے کس قانون کے تحت یہ کئی ایکڑوں کی زمین کوڑیوں کے بھاﺅ خریدی ہے۔ یہ تو قانونی ماہرین ہی صحیح بتا سکتے ہیں۔ لیکن مجھ جیسے ان پڑھ آدمی کے شور شرابے کو کون سنے گا لیکن ان باتوں کی طرف نشان دہی تو کر سکتا ہوں۔ ایک آزاد شہری ہونے کے ناطے کچھ گلہ شکوہ کرنے کا حق تو رکھتا ہوں۔ محترم دوستو!.... ایسے کئی کیس ہوں گے جو دوسروں کی زمین و جائیدادوں پر قبضے کئے بیٹھے ہیں۔ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے بس عدالتوں اور کچہریوں کے چکر لگائے جاﺅ۔ فیصلہ کیا ہو گا یہ آپ کا مقدر!.... جس حکومت کے حکمران دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہوں، وہاں کی ایڈمنسٹریشن کیا ہو گی۔ صدر صاحب نے اپنے رفقاءکار کو بھی کافی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

راجہ پرویز اشرف جو قومی خیرخواہ ہیں، پانی بجلی کے وزیر ہیں۔ ان کے خلاف وارنٹ 5 مرتبہ جاری ہو چکے ہیں پھر حکومت کا حصہ بن کر اور خدمت خلق کا بلا لگا کر جھنڈے والی گاڑی میں گھوم پھر رہے ہیں۔ جب ان سے رجوع کیا گیا تو فرمانے لگے بھائی یہ سیاست کا حصہ ہے جس کا جی جو چاہتا ہے میرے خلاف کر لیتا ہے۔ میں تو سچا اور اچھا آدمی ہوں جناب صدر کا منظور نظر ہوں بس یہ سب کچھ میں نے انہیں سے سیکھا ہے اور سکون کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن ابھی تک ان کے زیر سرپرستی چلنے والا ادارہ اپنی پریشانیوں سے باہر نہیں نکل سکا۔ مسائل ابھی تک بحران کی شکل میں موجود ہیں۔ نہ بجلی کا مسئلہ حل ہوا نہ پانی کا میٹر کیس۔ راجہ صاحب کی دیکھ لیں، ادھر وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ جس کسی بھی ملک میں جائیں اپنی منسٹری کا نام ضرور بتائیں گے۔ تا کہ اہمیت حاصل ہو جائے۔ سرکار کا کوئی بھی نوٹیفکیشن ہو یہ اپنی زبان مبارک سے اناﺅنس کرتے ہیں۔ خواہ منہ سے کچھ بھی نکل جائے بعد میں جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ ادھر صدر صاحب روس کی آزاد ریاستوں سے اپنے کاروباری تعلقات بڑھانے کے لئے پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اور کاروباری حضرات کے وفد تو بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جو اعلیٰ کاروباری حضرات ملک سے باہر ہیں ان کے لئے بھی بندوبست کرنے کی فکر میں لگے ہوئے صدر صاحب اپنے کامرس منسٹری اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے رفقاءکار کے ساتھ ملکر کئی گروپوں سے اپنا ہدیہ وصول کرنے کے بعد انہیں ملک میں لائیں گے ورنہ وہ خود دانش مندی سے پاکستان سے اس وقت ذرا دور ہی رہیں۔ تو یہ ان کے لئے اچھا ہو گا۔ ورنہ نہ دینے کی صورت میں جیسے متحدہ والے بدمعاشی سے صاحب ثروت لوگوں سے چندہ وصول کرتے ہیں اسی طرح سرکار کے ذمہ دار افراد بھی یہ کاروبار کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں۔

ان لوگوں کے پورے ملک میں جگہ جگہ دفتر کھلے ہیں۔ خاص کر عوامی دفاتر اور سرکاری دفاتر سبھی ان کے کارندوں سے بھرے پڑے ہیں آپ بلا تکلف اپنا کام کروانے کے لئے ان سے مک مکا کر لیجئے انشاءاللہ آپ کا کام ہر صورت ہو جائے گا۔ باقی رہی بات غریبوں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے کیا ہو گا یہ حکومتی سطح کے کام نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے غریب غرباءکے کام کرنے کے لئے بڑے لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہے۔ بس ان سے ووٹ لو، ان کے پاس جا کر یا زبردستی ورنہ ان کو ان کے خاندان سمیت گاﺅں جو اس وڈیرے کا ہے سے باہر نکال دو پھر یہ غریب پاﺅں میں گر کر معافی بھی مانگے گا اور ووٹ بھی دے گا۔ اس کی اگر بہتری ہو جائے گی تو ہمارا کیا بنے گا۔ ان کو صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کرو، یہ بھی ایک سیاسی کاروبار کے لئے اہم نسخہ ہے۔ ”سیاست میں آنے والے لفظ غریب کا استعمال ضرور کریں“ ورنہ وہ الیکشن جیت نہیں سکیں گے۔ اب مثال میں یوں دوں گا کہ ”بلاول بھٹو کو کیا پتہ کہ غریب یا غربت کیا ہوتی ہے؟“ جو یورپ میں پیدا ہو کر پروان چڑھا ہو اور زندگی کی رنگ رلیوں میں مست ہو کر اپنے ابا کی سرکاری اور غیر سرکاری کمائی کو اڑا رہا ہے اور اسے پروا تک نہیں ہے یہ کیا غربت کو سمجھے گا۔ بس یہ اپنے والد کی کمائی کے طریقے کو ضرور نوٹ کرے گا کہ غلط کو قانونی طور پر صحیح کیسے ثابت کرنا ہے۔ یہی ان کا کاروبار ہے اور یہی یہ محب وطن عمل کر رہے ہیں۔ حیران ہوں کہ یہ لوگ کس طرح سے اتنے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پاکستان کے وقار اور سالمیت کی بات کرتے ہیں اور پھر ان کے رفقاءبھی دوسروں پر انگلی اٹھاتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک انگلی اگر یہ کسی دوسرے پر اٹھاتے ہیں تو تین انگلیاں ان کی اپنی طرف بھی جاتی ہیں۔ بس بات سمجھنے کی ہے۔ اگر یہی صرف چند ایک جاگیردار و سرمایہ دار اپنی کمائی کا کچھ حصہ ملک کے نام کر دیں تو بہت سا قرضہ ہلکا ہو سکتا ہے۔ اور ملکی معاشی حالت قدرے بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ کرے گا کون؟.... سب صرف کھوکھلے نعرے لگانے والے ہیں۔ سچا ملک کا خیر خواہ کوئی نہیں ہے۔ سب ملک کو کھانے والے ہیں اب اتنے دھچکے کھانے کے بعد کوئی ملکی سیاست دان قابل اعتماد نہیں ہے۔ سب مفاد پرست ہیں۔ خدا پاکستان کو قائم رکھے.... آمین ثم آمین

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.