تصاویر

Login

Online Users




دینیات PDF Print E-mail
اسلامیات
Tuesday, 10 November 2009 20:26

 

تمام مخلوقات کے حقوق

تحریر: سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم

اب ہم مختصراً اچوتھی قسم کے حقوق بیان کریں گے۔ خدا نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کو اختیارات عطا کیے ہیں۔ انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتا ہے، ان سے کام لیتا ہے، ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ بالآتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کو ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے، ان کو بلا ضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے، اپنے فائدے کیلئے ان کو کم سے کم اور اتنا ہی نقصان پہنچائے جو ضروری ہو، اور ان کو استعمال کرنے کیلئے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔ شریعت میں اس کے متعلق بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں۔

مثلاً جانوروں کو صرف ان کے نقصان سے بچنے کیلئے یاغذا کیلئے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے، مگر بلا ضرورت کھیل اور تفریح کیلئے انکی جان لینے سے روکا گیا ہے۔

کھانے کے جانوروں کو ہلاک کرنے کیلئے ذبح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے جو حیوان سے مفید گوشت حاصل کرنے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ اس کے سوا جو طریقے ہیں وہ اگر کم تکلیف دہ ہیں تو گوشت کے بہت سے فائدے ان میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر گوشت کے فائدے محفوظ رکھنے والے ہیں تو ذبح کے طریقے سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اسلام ان دونوں پہلوﺅں سے بچنا چاہتا ہے۔ اسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے۔ وہ زہریلے جان ان کو جان سے زیادہ قیمتی ہے، مگر ان کو بھی عذاب دے کر مارنا جائز نہیں رکھتا۔

جو حیوانات سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیں ان کو بھو کا رکھنے اور ان سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔ پرندوں کو خواہ مخواہ قید کرنا بھی مکروہ قرار دیتا ہے۔ جانوروں تو جانور اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ درختوں کو بے فائدہ نقصان پہنچایا جائے۔ تم ان کے پھل پھول توڑ سکتے ہو۔ مگر انہیں خواہ مخواہ برباد کرنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ نباتات تو پھر بھی جان رکھتے ہیں،

اسلام کسی بے جان چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا، حتیٰ کہ پانی کو بھی خواہ مخواہ بہانے سے منع کرتا ہے۔

عالمگیر اور دائمی شریعت

یہ اس شریعت کے احکام اور قوانین کا ایک بہت ہی سرسری خلاصہ ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کیلئے بھیجی گئی ہے۔ اس شریعت میں انسان اور انسان کے درمیان بحزءقیدے اور عمل کے کسی اور چیز کی بنا پر فرق نہیں کیا گیا ہے جن مذہبوں اور شریعتوں میں نسل اور ملک اور رنگ کے لحاظ سے انسانوں میں امتیاز کیا گیا ہے وہ کبھی عالمگیر نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ ایک نسل کا انسان دوسری نسل کا انسان نہیں بن سکتا۔ نہ ساری دنیا سمٹ کر ایک ملک میں سما سکتی ہے، نہ حبشی کی سیاہی اور چینی کی رردی اور فرنگی کی سپیدی کبھی بدل سکتی ہے۔

اس لیے اس قسم کے مذاہب اور قوانین لازمی طور پر ایک ہی قوم میں رہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اسلام کی شریعت ایک عالمگیر شریعت ہے۔ ہر شخص جو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لائے وہ شریعت کی رو سے مسلمانوں کی قوم میں بالکل مساوی حقوق کے ساتھ داخل ہو سکتا ہے۔

یہاں نسل، زیان، ملک، وطن، رنگ کسی چیز کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔ پھر یہ شریعت ایک دائمی شریعت بھی ہے، اس کے قوانین کسی مخصوص قوم اور مخصوص زمانے کے رسم و رواج پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس فطرت کے اصول پر مبنی ہیں جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے۔ جب یہ فطرت ہر زمانے اور ہر حال میں قائم ہے تو وہ قوانین بھی ہر زمانے اور ہر حال میں قائم رہنے چاہئیں جو اس پر مبنی ہوں۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.